یوم آزادی و یوم جمہوریہ

آزادی ہمارے بزرگوں کی رہین منت ہے

پندرہ اگست یعنی یوم آزادی کا دن ہما رے ہندوستانی تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔اسی دن ہمارا ملک عزیز ہندوستان مکمل طور پر انگریزوں کے استبدادی اورجابرانہ چنگل سے آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی جو ہمیں بہت جاں فشانی کے بعد نصیب ہوئی، یہ ہمارے ملک کے جاں نثار اور سرفروشوں کی بے لوث کاوشوں کا نتیجہ ہے جس میں ہر طبقے کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لیکن مسلمانوں بالخصوص علماے کرام نے قائدانہ کردار ادا کیا۔
تاریخ کی کتابیں شاہد ہیں کہ ہر دور میں مسلمانوں نے ملک کی بقا ودوام کے لیے جان ومال کی پروا کیے بغیر پوری جد وجہد کے ساتھ کلیدی کارنامہ انجام دیا ہے۔ کہیں ان کو آگ میں ڈال دیا گیا، کہیں کھولتے ہوئے تیل میں پھینکا گیا، کہیں ان کو قید کرکے روگٹے کھڑے کرنے والی اذیتیں دی گئیں، بہتوں کو سولی پر چڑھایا گیا،اس کے باوجود بھی یہ مجاہدین آزادی برابر آزادی کا نعرہ لگاتے رہے اور ہر ہندوستانی کو اپنے تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ بیدار کرتے رہے اور کبھی میدان سے راہ فرار اختیار نہیں کی۔
تاریخ کے مطابق۱۸۵۷ء کے بعد نصف صدی تک انگریزی سامراج کو شکست دینے کے لیے مسلمان تن تنہا جنگ آزادی میں زور آزمائی کرتے رہے اور اس درمیان مسلمانوں نے اتنا خون بہایا کہ پوری جنگ آزادی میں دوسروں نے اتنا پسینہ بھی نہیںبہایا۔(تحریک آزادی اور مسلمان ص ۳۲)
ڈاکٹر محمد مظفرفاروقی لکھتے ہیں: ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے بہ حیثیت مجموعی جس شدت سے انگریزوں کی مخالفت کی تھی اس سے انگریزوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔(ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا حصہ)
ڈاکٹر ہنٹر لکھتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ جب یہ ملک ہمارے قبضہ میں آیا تو مسلمان ہی سب سے اعلیٰ قوم تھی۔ وہ دل کی مضبوطی اور بازؤں کی توانائی ہی میں بر تر نہ تھے بلکہ سیاسیات،حکومت عملی کے علم میں بھی سب سے افضل تھے۔(ہمارے ہندوستانی مسلمان)

تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے بنگال میں نواب سراج الدولہ نے انگریزوں سے جنگ کی۔ اس کے بعدشیرِ میسور ٹیپو سلطان نے اپنے دل میں ملک کی آزادی کی تمنا لیے ہوئے انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔۱۸۵۷ء کے ہنگامہ کا جائزہ لیں تو علامہ فضل حق خیرآبادی جنہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف پوری جرأت واستقامت اور مومنانہ فہم وفراست کے ساتھ علم جہاد بلند کیااور انگریزوں کے خلاف اپنی پر جوش تقریرو تحریرکے ساتھ خداداد کاوشوں کے ذریعہ ایسی دلکش فضا قائم کی جس کے نتیجے میں دہلی کے اندر نوّے ہزار سے زائد فوج جمع ہو گئی ،جس نے ظالم و جابر اورمکّار وعیّار انگریزوں کا جینا مشکل کر دیا۔۱۸۵۷کے ہنگامہ کے وقت علامہ صاحب دہلی آئے،بہادر شاہ ظفر سے ملے اور بخت خاں کے مشورے سے سامراجی حکومت کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔مفتی صدر الدین آزردہ،مولا نا فیض احمد بدایونی،ڈاکٹر وزیر خان اکبر آبادی وغیرہ نے بھی دستخط کرکے اس کی تائید کی۔اس فتوے کے شائع ہوتے ہی پورے ملک میں سامراجی حکومت کے خلاف آگ بھڑک اٹھی،نتیجۃًٍٍٍ انگریزوں نے آپ کو کالے پانی کی سزا سنائی اور وہیں آپ شہید ہوگئے۔
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ تین ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو کالے پانی کی سزا ہوئی۔۵ لاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ دہلی سے امرتسر تک ایسا کوئی درخت نہیں تھا جس پر کسی عالم دین کی لاش نہ لٹکی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس سر زمین کو ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے سینچا ہے۔ علماے کرام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں نے بھی دل وجان سے جنگ آزادی میں حصہ لیا ہے اور انتہائی اعلیٰ درجے کی تکلیفیں برداشت کیںہیںتب جاکر یہ ملک آزاد ہواہے اور آج ہم کھلی فضا میں امن وچین کے ساتھ سانس لے رہے ہیں۔ لیکن افسوس! اس وقت ہمارا ملک جس برے دور سے گزر رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کچھ فرقہ پرست عناصر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے قانون اور انسانیت کی حرمت کو پامال کرہے ہیں۔اسلام اور مسلمانوں کو ہر ممکن نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جب سے مرکز اور صوبے میں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت بنی ہے اس کے بعد سے ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے کردار کو داغدار کیا جارہاہے۔ اسلامی قوانین اوراسلامی تشخص کو بگاڑ کر پرنٹ میڈیا،الیکٹرانک میڈیا اورسوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں اسلام اورمسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلائی جارہی ہے۔مسلمانوں کی تعمیر کردہ نشانیوں اور عمارتوں کو مسخ کیا جا رہا ہے ۔تاریخ کی کتا بوںسے مسلمان حکمراں کے متعلق سنہرے ابواب کو نکالا جا رہا ہے اور اس کی جگہ پر من گڑھت اور نفرت انگیزواقعات ان کی طرف منسوب کئے جارہے ہیں۔تاکہ ایک سادہ لوح تاریخ کا طالب علم یہ سمجھے کہ یہ ہندوستان میںصرف اور صرف دھرم پریورتن کے لیے آئے تھے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں نے دوسری قوموں کے مقابلے میں بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں ہیں،آزادی کا نعرہ لگا کر ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں،جس کی وجہ سے انہیں بارہاطرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کیا گیا، پھر بھی ان مجاہدین آزادی نے ملک وملت کی آبیاری کے لیے اپنی قیمتی جانیں قربان کر دیں
ان سارے عظیم ہستیوں کا تفصیلا تذکرہ احاطہَ تحریر میں لانا تو مشکل ہے پھر بھی چند کے نام قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا احمد اللہ شاہ فیض آبادی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا محمد علی جوہروشوکت علی،ڈاکٹر اقبال،مولوی وہاج الدین،مولانا فیض احمد بدایونی، مولاناعبدالماجد دریاآ بادی،مولانا مظہر،مولانا کفایت علی کافی،مفتی عنایت اللہ کاکوروی،مولانا لیاقت اللہ الہ آبادی،مولانا احمد اللہ مدراسی،مولانا رضاعلی خان ،نواب خان بہادر،مولوی رضی الدین بدایونی،مولانا یحیٰ علی وغیرہ کے نام خصوصیت سے ذکر ہیں۔
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ بہت طویل ہے۔درمیان میں چھوٹے بڑے معرکے بھی پیش آئے۔بہت سارے علماے کرام اور مسلمانوں نے اس کے لئے بھی قربانیاں دیں۔ان تمام کا ذکر اس تحریر میں نہیں کیا گیاہے بلکہ ایک مختصر سا خاکہ پیش کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی تاریخ خود بھی پڑھیںاوراپنے بزرگوں کی قربانیوں سے نسل نو کو روشناس بھی کرائیں۔ نیز یہ بتائیں کہ ہندوستان سے ہمارے آباء واجدادکو کس قدر لگاؤاور محبت تھی کہ اس وطن عزیز کو اپنے خون سے سینچ کراوریہیں کی مٹی میںدفن ہو کر،اسی کو اپنا آخری مسکن بنانا پسند کیا ۔تاکہ ہمارے وہ ہندوستانی احبا ب اپنی سازش میں ناکام ہو جائیں جو آئے دن ہمیں غدار وطن اور دوسرے درجے کا شہری بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ جب ہماری نسلیں ہندوستان کی آزادی میں اپنے بزرگوں کے قائدانہ کرداراور نمایاں کارناموں کو پرھیں گی تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس ملک کی آزادی ہمارے آباو اجداد کی مرہون منت ہے۔

ازقلم: محمد نعیم الدین فیضی برکاتی
اعزازی ایڈیٹر:ہماری آوازمہراج گنج
mohdnaeemb@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے