قومی ترانہ

قومی گیت: محبتِ وطن

نتیجہ فکر: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی یو۔پی۔ بھارت

تمنا،آرزو،حسرت،طلب،ارمان ہے بھارت
ہمارا دل بھی ہے بھارت ہماری جان ہے بھارت

کوئی بھی دیش اس کی عظمتوں کو چھو نہیں سکتا
قسم اللّٰہ کی کچھ اس قدر ذیشان ہے بھارت

جسے اقبال،غالب،میر سینے سے لگاتے تھے
وہی تہذیب کا گہوارہ ہندستان ہے بھارت

بتاتا ہے ہمیں اس کا ترقی کرتا ہر لمحہ
عروج آرا تمامی ملکوں کا سلطان ہے بھارت

اسی نے تو تجھے یہ پُرکشش رعنائی بخشی ہے
اے دنیا خوبرو دنیا تری پہچان ہے بھارت

تجھے دنیا کے نقشے سے مٹا سکتا ہے پل بھر میں
مگر تجھ پر ترس کھاتا اے پاکستان ہے بھارت

تری خاطر میں اپنی زندگی قربان کر دوں گا
تری چاہت محبت تو مرا ایمان ہے بھارت

ہماری بھوک بڑھنے سے ذرا پہلے "ذکی طارق”
ابھی تو کھیت تھا بھارت ابھی کھلیان ہے بھارت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے