یوم آزادی و یوم جمہوریہ

تحریک آزادی ہند میں علمائے مرادآباد کا کردار

از قلم:محمد نفیس القادری امجدی
مدیر اعلیٰ، سہ ماہی عرفان رضا
خطیب و امام جامع مسجد منڈیاگنوں سہالی
خادم تدریس جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیا معافی مرادآباد

آج رفتار زمانہ اپنی تیز پرواز کے ساتھ مستقبل کی طرف گامزن ہے۔یہ شمس و قمر جو مسلسل اپنے منازل کی طرف رواں دواں ہیں، جنہوں نے نہ جانے  کتنی نسلوں کو سنورتےاور تباہ ہوتے دیکھا ہے،اس بات پر شاہد ہیں کہ ہمارے آباءو اجداد نےمادر ہند کی عظمت و وقار پر اپنی جانیں نچھاور کرکے سرخ روئی حاصل کی ہے ۔جزبۂ جہاد سے پر شوق علماء کرام نے،ظالموں کی زنجیریں اور تیر و تفنگ، اس لیے برداشت کئے تاکہ آنے والی نسلیں آزادی کی فضا میں سانس لے سکیں۔ لیکن آج انکی اس مظلومیت کا احساس کس کو ہوگا جو صرف ہمارے لیے تھی، ان کا ذکر کون کرے گا؟جن کی نالہ و شیون اور آہِ سحر گاہی ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گئی۔ جنکی چیخیں احسان فراموشی کی اینٹوں میں دب کر رہ گئیں۔  ظاہر ہے ہم پر ہی لازم ہے کہ آج ان بھولی بسری ہستیوں کی آہ وفغاں کی قیمت، تشکر کے آنسوؤں سے اداکریں یہ ہمارافرض ہے۔آزادی میں جن علماء کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا آج ہماری گردنیں ‌ان کےاحسانات سے زیر بار ‌ہیں‌  کتب تاریخ کے مطالعےسے جو کچھ حاصل ہوا اس کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔
جنگ آزادی ہند۱۸۵۷ء میں علماء اہل سنت اور مشائخ طریقت کا نہایت بنیادی کردار رہا ہے ۔بلکہ اگر یہ کہاجائے تو کچھ مبالغہ نہ ہوگا کہ شمالی ہند انگریزوں کے خلاف مسلم رائے عامہ ہموار کرنے اور پورے خطے میں انقلاب کی فضا برپا کرنے کا بنیادی کام انہیں کی قیادت و سربراہی میں ہوا ،ان مجاہدین میں علامہ فضل حق خیرآبادی (م۱۲۷۸ھ)مفتی صدرالدین خان آزردہ دہلوی(م1285ھ)مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی(م 1274ھ 1858ء)مفتی عنایت احمد کاکوروی(م 1279ھ) مولانا رحمت اللہ کیرانوی(م 1308ھ) مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا ڈاکٹر وزیرخاں اکبرآبادی(م1289ھ1873ء)حضرت علامہ مفتی کفایت علی کافی مرادآبادی(م 1274ھ1858ء) مولاناوہاج الدین مرادآبادی(م1274ھ1858ء) مولانا رضا علی خاں بریلوی(م1286ھ1869) مولانا امام بخش صہبانی دہلوی (م1273ھ 1857ء) مفتی مظہر کریم دریابادی، حکیم سعید اللہ قادری(م 1325ھ)اور نواب مجو خان مرادآبادی وغیرہ کے انقلابی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
ان سب ممتاز ہستیوں کے درمیان  مولانا سید کفایت علی کافیؔ، مولانا وہاج الدین،حضرت شاہ جی غلام بولن سیوہاروی علیہ الرحمہ اورنواب مجو خان مرادآبادی۔ یہ ایسے نام ہیں جنہوں نے مرادآباد سے انگریزی راج کا تختہ الٹنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

(۱)حضرت علامہ مولانامفتی کفالت علی کافی مرادآبادی:

حضرت علامہ کافی، موضع نگینہ،ضلع بجنور،یوپی، انڈیا کے ایک سید گھرانے میں پیدا ہوئے، لیکن تحصیل علم کے بعد آپ نے مرادآباد کو اپنا مسکن بنایا، پیشے کے اعتبار سے حکیم حاذق اور مدرس و مبلغ تھے، محراب و منبر کی دنیا میں اپنے علم و تصانیف اور فن تقریر کے حوالے سے ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔
حضرت علامہ کافی نے حدیث رسول ﷺ کی تعلیم شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگرد، شاہ ابوسعید مجددی، سے حاصل کی اور شاعری میں فنِ سخن کے استاد شیخ مہدی علی خان ذکیؔ مراد آبادی کے چار مشہور تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، ان چار میں معروف مفسر حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کے والد مولانا  سید معین الدین نزہتؔ، مولوی محمد حسین تمناؔ، مولوی شبیر علی تنہابھی شامل ہیں۔
حضرت مولانا کافی کی جملہ تصانیف منظوم ہیں، ان میں نعتیہ کلاموں پر مبنی دیوان کافیؔ، مثنوی خیابان فردوس، نسیم جنت، مولود بہار، حلیہ شریف، جذبہ عشق، مجموعہ چہل حدیث، شمائل ترمذی کا ترجمہ بہار خلد، اور ۱۸۴۱ء میں حجاز مقدس سے واپسی پر لکھا گیا سفرنامہ تجملِ دربارِنبی کریم ﷺ شامل ہیں ،اب ان میں سے بیشتر کتب نایاب ہیں یا کسی قدیم لائبریری میں مل سکتی ہیں، دیوان کافی اور مولودِ بہار البتہ آرکائیو پر بھی دستیاب ہیں۔
زیر نگاہ مضمون حضرت مولانا کافیؔ کی داستان حریت سے متعلق ہے لیکن اصل میں وہ ایک فوجی  نہیں بلکہ ایک منفرد عاشق رسول ﷺ اور دینی شخصیت تھے، ان کا سارا کلام نعت شریف پر مبنی ہے، اسلئے برمحل ہے کہ ان کی نعت گوئی پر اہل علم کی کچھ آراء بھی پیش کرتا چلوں۔عبد الغفور نساخؔ نے، تذکرہ سخنِ شعرا میں لکھا ہے کہ مولوی کفایت علی مراد آبادی ایک صاحبِ علم و فضل اور زہد و تقویٰ رکھنے والے نعتیہ شاعر ہیں، حکیم غلام قطب الدین باطنؔ اکبر آبادی نے گلشنِ بے خزاں، اور عبد الحئی صفاؔ بدایونی نے تذکرہ شمیمِ سُخن میں حضرت کافیؔ کا ذکر بہت گرانقدر الفاظ میں کیا ہے۔
ایک نعت کے چند اشعار:
بدن تھا آپ کا کانِ تجلی
عیاں چہرے پہ تھی شانِ تجلی
رسول اللہ کی نُورِ جبیں کو
بجا ہے گر کہیں جانِ تجلی

تَصوُّر کس کی صورت کا بندھا ہے
کہ چھایا دل پہ سامانِ تجلی
پروفیسر سید یونس شا ہ کے تذکرہ نعت گویانِ اردو، ہمارے لیلپور کے مایہ ناز استاد و شاعر پروفیسر ریاض مجیدصاحب کے پی ایچ ڈی کے مقالہ اردو میں نعت گوئی، ماہنامہ نقوش لاہور کے رسولﷺ نمبر، راجہ رشید محمود صاحب کے انتخاب نعت کائنات اور شفیق بریلوی صاحب کے انتخاب ارمغانِ نعت میں حضرت کافیؔ کا منتخب کلام اور ان کیلئے داد و تحسین کا ہدیہ بھی موجود ہے۔بالخصوص راجہ رشید محمود صاحب نے بہت اچھا کیا کہ اپنی ادارت میں چھپنے والے “ماہنامہ نعت” کا ایک خصوصی ایڈیشن حضرت کافیؔ کے منتخب کلاموں پر شائع کیا ہے اور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے مولانا کافی کے عشق رسول کی حرارت محسوس کرتے ہوئے آپ کی بارگاہ میں یوں خراج عقیدت پیش کیا:
پرواز میں جب حدیث شہ میں آؤں
تاعرش پرواز فکر رسا میں جاؤں
مضمون کی بندش تو میسر ہے رضا
کافیؔ کا دردِ دل کہاں سے لاؤں
اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امام اہلِ سنت نے تو حضرت مولانا کافی کو سلطان نعت گویاں سے تعبیر کرکے آپ کی شہرت و عظمت کا پرچم چار دانگ عالم میں لہرایا آپ فرماتے ہیں:
مہکا ہے مرے بوۓ دہن سے عالم
ہاں نغمۂشیریں نہیں تلخی سے بہم
کافی سلطان نعت گویاں ہے رضا
ان شاءاللہ میں وزیراعظم
(جنگ آزادی اور وطن کے جانباز ص۶۹)اعلیٰحضرت نے حضرت کافیؔ کے مختلف کلاموں کی زمین میں بہت سا کام کیا ہے، ان کا مشہور کلام۔”یا الہیٰ ہر جگہ تیری عطاکا ساتھ ہو“یہ بھی حضرت کافیؔ کے درج ذیل کلام پر ان کی تظمین ہے۔

یا الٰہی حشر میں خیر الوریٰ ﷺ کا ساتھ ہو
رحمتِعالم محمد مصطفیٰ ﷺ کا ساتھ ہو
مرادآباد کے معززسادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔
جہاد آزادی میں پوراپورا حصہ لیا، امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تحریک آزادی ہند شروع ہوئی گویا مولانا کافی رحمۃ اللہ علیہ کا ہاشمی خون پہلے سے ہی جزبہ شہادت سے سرشار تھا۔ (جنگ آزادی اور وطن کے جانباز،ص:۷۰)مولانا کافی نے مرادآباد میں فرنگی سامراج کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔
جنگ آبادی1857ء کے دوران آپ نے انگرزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا۔ جنرل بخت روہیلہ کی فوج میں کمانڈر ہو کر دہلی آئےاور اپنی بہادری کے جوہر رکھائے۔ دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
بہادر شاہ ظفر نے کئی بار آپ کو بلا کر مشورے لئے، دہلی میں جب نظام درہم برہم ہوا تو جنرل بخت کے ہمراہ بریلی شریف پہنچے، یہاں مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی بھی موجود تھے انکی معیت میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دشمن کا مقابلہ کرتے رہے، اس کے بعد احمد اللہ شاہ اور جنرل بخت کے ہمراہ مرادآباد پہنچے، جہاں آپ کو صدر الصدور منتخب کیا گیا، اور آپ نے شرعی احکام جاری کیے۔ رامپور اور مرادآباد کے مختلف معرکے آپ نے سر کیے۔ مختلف محازوں پر انگریزوں کو شکست دی۔ آخر میں انعام کے ایک لالچی غدار فخر الدین کلال نے مولانا کافی کی جاۓ پناہ کی مخبری اس شرط پر کی کہ اسے مولانا کافی کی ساری جائداد انعام کے طور پر دی جائے، اس کم بخت کی نشاندہی پر انگریزوں نے  ضلع مرادآباد کی تحصیل حسن پور سے گرفتار کر لیا۔اور ساری جائداد اس لالچی مخبر کو دے دی۔ اور  مولانا کافی کو قید میں ڈال دیا گیا، جسم پر گرم گرم استری پھیری گئی، زخموں پر مرچیں چھڑکیں، غرض یہ کہ اپنے مقصد سے برگشتہ کرنے کےلیے ہر حربہ انگریزوں نے استعمال کیا، مگر ظلم کا کوئی زخم بھی اس مرد مجاہد کے پایۂ استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکا، جب انگریز مایوس ہو گئے۔۳۰؍اپریل۱۸۵۸ءمطابق۶؍رمضان المبارک ۱۲۷۴ھ میں مقدمہ قائم ہوا اور اسی دن پھانسی کی سزا تجویز ہو گئی۔ پھانسی کی اطلاع ہونے پر بہت خوش ہوئے، چہرے سے کسی ملال اور خوف کا خیال نہ ہوا اور آنکھوں کے مجاہدانہ تیور میں کوئی کمی نہ آئی۔ چنانچہ ۲۷؍رمضان المبارک کی مقدس تاریخ تھی، جمعرات کا دن تھا، اور عصر کا وقت، مرادآباد کے ایک چوراہے پر روزے کی حالت میں آپ کو لایا گیا تو آپ بآواز بلند بڑے اطمینان سے بارگاہ رسالت مآبﷺ میں ہدیۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنا یہ کلام پڑھا تھا۔
کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا
تو مرادآباد چوک میں برسرعام اس عاشق رسول اور مجاہد حریت کو سولی پر ٹکا دیا،یہ واقعہ ۳۰؍اپریل۱۸۵۸ءکو واقع ہوا ۔(سہ ماہی امجدیہ۲۰۱۱ءگھوسی، ص:۲۲،۲۱/جنگ آزادی اور وطن کے جانباز، ص :۶۸،۷۱)اور رات کی تاریکی میں جیل کے قرب و جوار میں دفن کر کے زمین ہموار کر دی گئی تاکہ نام و نشان باقی نہ رہے۔مولانا عمر نعیمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے تقریباً۳۵؍ سال بعد اس علاقے سے ایک سڑک نکالی جا رہی تھی کہ ایک مزدور کے کدال سے حضرت مولانا کافیؔ شہید کی قبر کھل گئی۔
یہ خبر جب شہر میں پھیلی تو لوگ جوق درجوق زیارت کیلئے آنے لگے، کہ جسم ویسا ہی رکھا تھا شہر کے بزرگ لوگوں نے چہرہ مبارک دیکھ کر شناخت کرلی، اور پھر جسم مبارک کو دوسری جگہ عقب جیل میں منتقل کردیا گیا۔ (ماہنامہ اشرفیہ ص 34 فروری 1982/جنگ آزادی اور وطن کے جانباز ص:۷۲)

(۲)مولانا وہاج الدین مرادآبادی:

شہید ملت، ندائے قوم ،مولانا وہاج الدین عرف مولانا منور علیہ الرحمہ مرادآباد کے ممتاز ،باااثر،قوم پرور اور جلیل القدر رئیس تھے ۔نہایت ہی فیاض ،سیر چشم اور مہمان نواز تھے۔ان کادسترخوان فراخ تھا ۔مذھب کے معاملے میں آہنی ستون ،عبادت گزار،بے مثل شجاع،اخلاق کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ ہر اعلی و ادنی کے ساتھ خندہ پیشانی  سے پیش آتے تھے۔
جنگ آزادی1857ء میں بھر پور حصہ لیا اور ہر محاذ پر انگریزوں کو شکست پر شکست دی اور جوانمردیکے جوہر دکھائے۔
مولانا وہاج الدین1857ء کے وقت میں مرادآباد میں جج کے منصب پر فائز تھے، اور آپ مجلس عمائدین سے اچھی طرح واقف تھے، کہ جس وقت جہاد آزادی کے شعلے قرب و جوار میں نمودار ہونے لگے تو مرادآباد ضلع کی نظامت آپ کو سونپ دی گئی،تبلیغ جہاد میں پیش پیش تھے ،علماء کی قیادت اور آپ کی حکمت عملی نے انگریزوں کو شکست دی  اور وہاں اپنی حکومت قائم کی گئی،مولانا نے کوئی عہدہ نہ لیا،بلکہ تبلیغ جہاد اور تنظیم انقلاب کے تمام فرائض سر لئے ،مولاناہر جمعہ کو بعد نماز،  عوام سے خطاب کرتے اور غیر ملکی تسلط کے خلاف سینہ سپر رہنے کی تلقین کرتے ،جس کی وجہ سے ضلع بھر کے مسلمان آپ کے پرچم تلے جمع ہوگئے۔
اور دیگر مجاہد رہنماؤں سے رابطہ و مشورہ کیا،بریلی آئے،خان بہادر خان سے مشورے کئے مولانا کافی بھی ساتھ تھے۔اس دور میں انگریزوں کو مقابلے کی ہمت نہ پڑی تھی،نواب رامپور نے انگریزوں کی حمایت کی تھی اور چاہتاتھا کہ سارے روہیل  کھنڈ بریلی مرادآباد پر فوج بھیج کر فتح کرلے،مگر انگریزوں کو کب گوارہ تھاکہ ہمارے علاوہ کسی اور کا اقتدار رہے ،تو نواب رامپور نے مرادآباد پر حملہ کی اجازت چاہی اور فورا اپنا نمائندہ مرادآباد بھیج کر جہاد حریت کے رہنماؤں سے گفت و شنید کی ،تو مجاہدین کے رہنماؤں نے صاف جواب دیا کہ آپ تشریف لائیں اور انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کریں ورنہ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ انگریزوں کے طرفداربن کر آپ ہمیں دبائیں اور فتح کرکے دشمنوں کے حوالے کردیں تو ہم آخر وقت تک معرکہ آرائی سے باز نہ آئیں گے،یہ تیور دیکھ کر نواب رامپور نے مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی اور مجوخاں کو کہا کہ ہم تمہیں اپنا ناظم تسلیم کرتے ہیں، تمہاری حکومت رامپور کے تحت رہے گی،اور جب بریلی خبر پہنچی تو خان بہادر خان نے جنرل بخت کو فورا وہاں بھیجا کہ وہاں کا جائزہ لیں اور نواب رامپور سے ساز باز نہ کرنے دیں،بہت سے مجاہدین مرادآباد پہنچ گئے تونواب رامپور نے اپنی فوج واپس بلالی ،نواب مجوخاں اور مولانا وہاج الدین صاحب نے یقین دلایا کہ ہم ہرگز دشمنوں سے یاان کے ہواخواہوں سے ساز باز نہ کریں گے۔اس لئے جنرل بخت خاں دہلی چلے گئے ، مگر نواب رامپور انگریزوں کی شہ پر، برابر مرادآباد والوں کی سلسلہ جنبانی کرتے رہے ،انگریزبھی غداریوں کے جال بچھائے جارہے تھے، شہزادہ فیروز شاہ اپنی فوج لے کر اطراف و جوانب میں معرکہ آرائی کرتے رہے۔
ایک سال بعد واپس مرادآباد آگئے، کیونکہ انگریزاطراف میں قابض ہوچکےتھے، ۲۴؍ اپریل۱۸۵۷ء کو رامپور کی فوج کےساتھ اورگورپٹن اور گورکھوں کے لشکر کی معیت میں جنرل جانسن نے مرادآباد پر حملہ کر دیا، مولانا وہاج الدین اور شہزادہ فیروز شاہ اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں مجاہدین نے سر سے کفن باندھ کر مقابلہ کیا، اولاً تو غالب رہے مگر انگریز نے فوج اور قوت کے سبب شہر پر قبضہ کرلیا، اور رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کیا، مولانا وہاج الدین روپوش ہو گئے کہ کہیں پھر کوئی موقع ملے تو قسمت آزمائی کی جاۓ، ایک نمک حرام قریبی نوکر نے انعام کے لالچ میں مولانا وہاج الدین کی گرفتاری کے لیے ایک دن موقع پاکر مسلح گروہ لے کر دروازہ پر پہنچا اور آواز دی، دروازہ کھولا گیا کہ آناً فاناً ایک مسلح گروہ اندر داخل ہوگیا، مولانا حالات کے پیش نظر بہت احتیاط کرتے تھے لیکن باہر سے جب ان کے نمک حرام نوکر کی آواز آئی تو ملازم نے دروازہ کھول دیا  نوکر کے پیچھے ہی انگریزی پلٹن بھی داخل ہوگئی، اس بد اعتباری پر اس ملازم نے مزاحمت کی تو اسے وہیں گولی مار دی گئی، اور لوٹ مار شروع کر دی، آپ نے مقابلہ کیا مگر چاروں جانب سے آپ پر حملہ کردیا گیا اور گولیوں کی بوچھار میں حضرت کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے واصل بحق ہوۓ، آپ اور آپ کے اہل خاندان کی تمام جائیدادیں ضبط کرلی گئیں۔ اور انگریز ان دونوں کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے اور اپنی کاروائ پوری کرکے انہیں دفن کردیا۔ ان دونوں کا مدفن محلہ کنجری سراۓ، کچہری روڈ پر نعل بندوں کی مسجد کے قریب ہے۔(سہ ماہی امجدیہ گھوسی ص:۲۴، ۲۰۱۱/علماءہند کا شاندار ماضی ص:۸۵،۸۴،جلد:۴)

(۳)حضرت شاہ جی غلام بولن سیوہاروی علیہ الرحمۃ مرادآبادی:

آپ مرادآباد کے مشہور قادری بزرگ حضرت شاہ بلاقی الملقب  بہ شاہ بولن متوفی1139ھ کے پرپوتےتھے ،اور حضرت شاہ جی غلام بولن ہر سال اپنے جد امجد کے مزار کی زیارت کے لئے مرادآباد آتے تھے۔1857ءکے انقلاب  میں آپ کا لنگر خانہ ، تمام غریبوں مسافروں اور فقروفاقہ کے ہاتھوں پریشان، لوگوں کیلئے کھلا ہوا تھا۔ سب آتے تھے اور کھاناکھاتے تھے ۔انگریزوں نے غلبہ پاکر جو تفتیش کی تو آپ کو اس الزام میں گرفتار کیا گیاکہ آپ انگریزوں کے دشمنوں کی مدارات کرتے ہیں اور ان کو کھانا کھلاتے ہیں ،اس گرفتاری کا باعث ایک چغل خور بدبخت تھا ، جو بظاہر آپ کا مرید اور معتقد بناہوا تھا لیکن یہ بدبخت انگریز کا خیر خواہ تھا ۔آپ کو گرفتارکرکے جزیرہ انڈومان بھیجا گیا اور وہیں۲؍ربیع الاول ۱۲۷۶ھ کو آپ رحمت حق سے واصل ہوئے۔(انوار العارفین ص:۵۴۷مطبوعہ صدیقی بریلی)(علماء ہند کا شاندار ماضی ص:۴۰۵،۴۰۶،جلد:۴)

(۴)نواب مجو خان مرادآبادی:

ہندوستان میں جب آزادی کی لہر چلی تو مرادآباد کے ایک وفد نے روہیل کھنڈ میں جنرل بخت خان روہیلہ کیساتھ ایک ملاقات کی جس میں مراد آباد کی طرف، بغاوت کے خدوخال وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا، قاضی عصمت اللہ فاروقی صاحب کی اولاد میں نواب مجدالدین عرف نواب مجو خان ، نواب شبیر علی خان، نواب دوندے خان کے پوتے نواب عباس علی خان اور نواب اسد علی خان، مولانا وہاج الدین منو صاحب، مولانا کفایت علی کافیؔ اور وہاں کے مشہور پہلوان چوہدری عبدالقادر عرب ،اس وقت مرادآباد کے سرکردہ لوگوں میں شامل تھے، مزکورہ نوابین اس علاقے کی سیاست کے اہم کرداروں کی اولادیں تھے۔
نواب مجو خان ایک وسیع جاگیر رکھنے والے رئیس تھے، ان کے ہاں ہر ہفتے پرتکلف دعوت پر عمائدینِ مرادآباد کا اجتماع ہوتا تھا، یہاں تک کہ مرزا غالب جب مرادآباد آئے تو انہیں کے ہاں قیام کیا تھا۔حالات كے پيشِ نظر ايک انقلابی کمیٹی ترتیب دی گئی جس کے ذمے جنگی وسائل دستیاب کرنے کے علاوہ عوامی رابطہ اور آگاہی مہم بھی شامل تھی، اس میں نواب مجو خان حاکم مرادآباد، نواب شبیر علی خان فوج کے جرنیل، اسد علی خان، افسر توپ خانہ اور مولانا کافیؔ امیر شریعت مقرر ہوئے۔26اپریل 1858 مرادآباد پر جب انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ کرنل کک نے شہر کی ناکہ بندی کردی تاکہ کوئی شہر سے باہر نہ جاسکے، اسکے بعد انگریزی تہذیب کا وہ ننگا ناچ شروع ہوا جسے تاریخ عالم کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ پہلے مرحلے میں مجاہدین کی فہرست تیار کی گئی، پھر یہ اعلان کیا کہ جو کسی مجاہد کو گرفتار کراۓ گا اسے اس مجاہد کی جائیداد کا بڑا حصہ انعام میں دیا جائےگا، پھر ایک طرف اسلحے کی تلاش میں خانہ تلاشی شروع ہوئی اور دوسری طرف انعام کے لالچی غداروں کی نشاندہی پر گرفتاریاں شروع ہوئیں، اس اپریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی مجاہد بھی گرفتاری سے بچ نہ سکا، پھر کسی کو گولی سے اور کسی کو توپوں سے اڑا دیا گیا، کسی کو پھانسی اور کسی کو کالے پانی بھیج دیا گیا۔خانہ تلاشی کے وقت سات فوجی نواب مجو خان کی حویلی پر آۓ تو نواب صاحب نے چھت پر سے ان پر فائرنگ کردی، یہ مقابلہ تادیر جاری رہا لیکن اور زیادہ فوج آنے کے بعد کچھ فوجی چھت پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے ان میں سے کچھ کو نواب صاحب نے تہ تیغ بھی کیا ، لیکن ایک سپاہی کی گولی لگنے سے زخمی یا شہید ہوگئے۔
نواب صاحب کے متعلق تین رائیں ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے مکان کی چھت پر لڑتے ہوئے شہید ہوۓ۔ دوسری یہ کہ گرفتار ہو گئے تھے ،بعد ازاں انہیں چونے کی بھٹی میں جلا دیا گیا۔ تیسری یہ کہ انہیں ہاتھی کے پاؤں کیساتھ باندھ کے کچلوا دیا گیا تھا، مصنف علماء ہند کے مطابق آخری روایت ہی درست لگتی ہے کہ مرادآباد میں یہی بات مشہور ہے۔(علماء ہند کا شاندار ماضی جلد۴)
یہ وہ مبارک شخصیات ہیں جنہوں نے اس وقت آزادی کی بنیاد ڈالی ،جس وقت  ہندوستان غلامی زنجیروں میں قید تھا، انکی مقدس قربانیاں آزادی کی خشت اول ثابت ہوئیں، ان شہیدان وطن اور مجاہدین آزادی کی پاکیزہ نورانی روحوں کو سلام۔

از قلم:محمد نفیس القادری امجدی
مدیر اعلیٰ، سہ ماہی عرفان رضا۔
خطیب و امام جامع مسجد منڈیاگنوں سہالی۔
خادم تدریس جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیا معافی مرادآباد۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے