محرم الحرام

یومِ عاشورا کی فضیلتیں اور برکتیں

ازقلم: محمد عبد المبین نعمانی

دن اور راتیں سب اللہ عز و جل کی ہی بنائی ہوئی ہیں، لیکن اسی خالقِ کائنات نے بعض دنوں کو دوسرے دنوں پر اور بعض راتوں کو دوسری راتوں پر فضیلت دی ہے، اس میں بندوں کو کچھ کہنےکا حق نہیں، یہاں ہمیں یومِ عاشورا کے تعلق سے کچھ تحریر کرنا ہے۔
ماہِ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، اس کا پہلا عشرہ بھی اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے، اس کی پہلی تاریخ کی فجر اور دس راتوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالۡفَجۡرِ وَلِیَالٍ عشۡرٍ()(الفجر،۸۹، آیت:۲,۱)
اس صبح کی قسم اور دس راتوں کی۔ (کنز الایمان)
صبح سے مراد یکم محرم یا یکم ذی الحجہ کی فجر ہے اور دس راتوں میں کئی اقوال ہیں۔ مفسرِ قرآن صدر الافاضل مراد آبادی فرماتے ہیں:
حضرت ابنِ عباس سے مروی ہے کہ ان سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں کیوں کہ یہ زمانہ اعمالِ حج میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے اور حدیث شریف میں اس عشرہ کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ رمضان کے عشرۂ اخیرہ کی دس راتیں مراد ہیں، یا محرم کے پہلے عشرہ کی۔(تفسیر خزائن العرفان، سورہ والفجر)
محرم کا پہلا عشرہ مراد ہو تو اس کی دسویں تاریخ عاشورا ہے، اس سے اس کی عظمت بھی واضح ہوتی ہے، یہاں ذکر اگرچہ لیالیؔ دس راتوں کا ہے ، لیکن دن بھی ان سے نسبت کی وجہ سے شرف یاب ہیں اور کبھی رات بول کر دن رات دونوں مراد ہوتے ہیں، جیسے دن بول کر رات دن دونوں مراد ہوتے ہیں، ہاں رات کا ذکر ہے تو رات کی خصوصیت ضروری مانی جائے گی۔
عاشورا کا روزہ:عاشورا کے دن روزہ رکھنا سنت ہے۔ حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ رسولِ پاک ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشورا کے دن روزہ رکھتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ یہ وہ عظمت والا دن ہے جس دن اللہ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون کو اس کی قوم کے ساتھ غرق کر دیا تو حضرت موسیٰ نے شکریے میں روزہ رکھا، اس لیے ہم بھی رکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں تو عاشورہ کا روزہ رسولِ پاک نے بھی رکھا اور امت کو بھی اس کا حکم دیا۔
(صحیح بخاری، ج:۱/۲۶۸، مجلسِ برکات، مسلم:۱/۳۵۹، مشکوٰۃ:۱۸۰)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورا کا روزہ پہلے فرض تھا یا واجب پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی اور بعض فقہا نے کہا کہ یہ روزہ ہمیشہ سے سنت ہی رہا ہے۔ یہ روزہ حضور اقدس ﷺ پہلے ہی رکھا کرتے تھے، جب مدینہ آئے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ بھی رکھ رہے ہیں، ان سے پوچھا یہ کیا بات ہے تو انھوں نے وہ جواب دیا جو اوپر کی حدیث میں مذکور ہے اور اس کا حکم بھی دیا۔ اور فرمایا حضرت کی اتباع کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔
حضرت ابنِ عباس سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے عاشورا کا روزہ رکھا تو صحابۂ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو وہ دن ہے کہ یہود و نصاریٰ اس کی تعظیم کرتے ہیں تو رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
لئن بقیت الی قابل لا صومن التاسع.
اگر میں سال آئندہ دنیا میں باقی رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔ (مشکوٰۃ، ص:۱۷۸، ۱۷۹، بحوالہ صحیح مسلم)
یہ تو رہا عاشورا کے روزے کا حکم ، اب اس کی فضیلت بھی ملاحظہ ہو:
٭افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہالمحرم و افضل الصلاۃ بعد الفریضۃ صلاۃ للیل، رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ۔(مشکاۃ:۱۷۸، صیام التطوع۔ رمذی ۱/۹۳)
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:
رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے شہر محرم کا روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز صلاۃ اللیل یعنی رات کی نماز ہے۔
دوسری روایت حضرت ابن عباس سے یہ ہے:
٭ما رأیت النبی ﷺ یتحری صیام یوم فضلہ علیٰ غیرہ الا ہذا الیوم یوم عاشوراء و ھذا الشھر یعنی شھر رمضان ۔ (متفق علیہ)
کہ رسول اللہ ﷺ جن فضیلت والے روزوں کا اہتمام کرتے وہ عاشوراکا روزہ تھا یا رمضان المبارک کا (مشکوٰۃ، ص:۱۷۸)
اس سے بھی عاشورا کے روزے کی فضیلت و اہمیت کا ثبوت ملتا ہے۔
٭ترمذی شریف کی ایک روایت یہ بھی ہے:
حضرت مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہٗ سے مروی ہے کہ ان سے ایک شخص نے سوال کیا کہ بعد رمضان آپ مجھے کون سے روزے کا حکم دیتے ہیں تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس سے فرمایا: میں نے اس سلسلے میں کسی کو سوال کرتے نہیں سنا سوا ایک آدمی کے۔ اس کو دیکھا کہ وہ رسولِ پاک ﷺ سے سوال کر رہا تھا اور میں حضور کے پاس بیٹھا تھا تو اس نے اس طرح سوال کیا: یا رسول اللہ! رمضان کے بعد کون سے مہینے کا روزہ رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: اگر رمضان کے مہینے کے بعد تو روزہ رکھنا چاہے تو محرم کا روزہ رکھ، اس لیے کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم پر اپنا انعام فرمایا اوردوسری قوم کو بھی انعام سے سرفراز فرمائے گا۔(ترمذی شریف، ۱/۹۳، ابواب الصوم)
پہلی قوم سے بنی اسرائیل قومِ موسیٰ مراد ہے کہ انھیں نجات دی اور فرعون کو غرق فرمایا، دوسری قوم سے اشارہ ہے شہادتِ امام حسین کی طرف۔
٭ترمذی شریف کی ہی دوسری روایت خاص یومِ عاشورا کے بارے میں ہے:
یوم عاشوراء انی احتسب علی اللہ ان یکفر السنۃ التی قبلہ۔(سنن ترمذی، ۱/۹۴، باب الحث علیٰ عاشوراء)
حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ سے امید قوی ہے کہعاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔
امام ترمذی فرماتے ہیں عاشورا کے روزے کی ترغیب اور فضیلت میں حضرات علی، و محمد بن صیفی و مسلمہ بن اکوع و ہند بن اسماء و ربیع بنت معوذ بن عفراء و عبد الرحمٰن بن سلمہ خزاعی حضور کے عمِ مکرم سے اور عبد اللہ بن زبیر سے ر وایات آئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے