پیکر علم و فن ، گوہر خطابت ، ناشر فکر رضا حضرت علامہ تطہیر رضا پر مولانا نازش مرادآبادی دام اقبالہ کی مرتب کردہ سوانح حیات کے لیے منظوم تاثر
ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان
ہر نظر بہرِ ترقی ، ہر قدم تعمیر کا
فکر و فن میں کیسا اعلی رنگ ہے تطہیر کا
جلوۂ فکر رضا سینے کے اندر موجزن
مستند ہے نقش ان کے علم کی تنویر کا
جگمگاتا چاند ہے یا ان کے الفاظ و حروف
روشنی سورج کی ہے یا نور ہے تقریر کا
مصطفیٰ کے عشق سے معمور ان کی زندگی
یہ حسیں جوہر ہے ان کی عزت و توقیر کا
ان کی سیرت لکّھی ہے نازش مرادآبادی نے
خوشنما ہر پھول ہے اِس گلشنِ تحریر کا
ہر سطر حسنِ عقیدت کی گواہی دیتی ہے
خود ہی شیدا ہے مصور اِس حسیں تصویر کا
یا الٰہی حضرتِ تطہیر کو دے عمرِ خضر
فیض پائیں ہم سبھی اُس راہِ حق کے میر کا
اے فریدی اوج پائے میرے نازش کا قلم
پیکرِ الفاظ پر جامہ رہے تاثیر کا