منقبت

منقبت: ہو خیرات تیری عطا غوث اعظم

کرم مجھ پہ کر دے تو یا غوث اعظم
مجھے باغ جنت دلا غوث اعظم

معطر میں ہوجاؤں ذکر نبی سے
مجھے راہ حق پر چلا غوث اعظم

ہے خالی مری جھولی بھر دے خدا را
ہو خیرات تیری عطا غوث اعظم

ہوا مردہ زندہ خدا کے کرم سے
اشارہ ہوا جب ترا غوث اعظم

کبھی خواب میں آکے ہاتھوں سے اپنے
شراب محبت پلا غوث اعظم

لحد میں اندھیرے سے ہوں میں پریشاں
نگاہ کرم ہو عطا غوث اعظم

میں کیوں جاؤں ​غیروں کے در پر کبھی بھی
ہوں جب تیرے در کا گدا غوث اعظم

فریدی کی حسرت یہ ہو جائے پوری
غلام اپنا اس کو بنا غوث اعظم

فرید عالم اشرفی فریدی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے