نظم

نعرۂ مستانہ

نتیجہ فکر: فاضل میسوری

یہ کام کریں گے علی الاعلان کرینگے
گستاخ کو فی النار بصد شان کرینگے

گستاخ کا سر تن سے جدا ہو کے رہے گا
تجدیدِ وفا سارے مسلمان کرینگے

ہر قطرۂ خوں دے گا محمد کو سلامی
ہم زیست کے صحرا کو گلستان کرینگے

جویانِ شہادت ہیں ہمیں موت سے کیا ڈر
جاں فخر سے سرکار پہ قربان کرینگے

ہم نے یہ روش سیکھی ہے مردانِ عرب سے
"ناموسِ رسالت پہ فدا جان کرینگے”

تفسیرِ وفا لکھیں گے ہم خون سے اپنے
چشمانِ ملائک کو بھی حیران کرینگے

لے آئیں گے نذرانۂ جاں بر سرِ مقتل
جب حکم ہمیں سید و سلطان کرینگے

زندہ نہیں چھوڑینگے انہیں زیرِ فلک ہم
جو سرزنشِ صاحبِ قرآن کرینگے

گستاخِ پیمبر کی میں جب ہجو لکھوں گا
تصدیق مری حضرتِ حسان کرینگے

وہ حلقۂ تسکیں میں رہیں گے بہ فراغت
جو ذکرِ نبی زیست کا عنوان کرینگے

مٹ جاؤں اگر حرمتِ آقا پہ میں فاضل
جنت میں تواضع مری رضوان کرینگے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے