قرآنیات
ازقلم: پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)
08.04.1443
14.11.2021
اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ(التوبۃ، ۱۹)
ترجمہ: تو کیا تم نے حاجیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔
آیت کا پس منظر اور حاصل مفہوم یہ ہے کہ جب زمانہ جاہلیت کے پروردہ کفار میں سے چند نے مسلمانوں کو یہ طعنہ دیا کہ تم اگر چہ اپنے دین کی وجہ سے شرک سے محفوظ ہو اور آخرت کے تصور کی وجہ سے بہت سی برائیوں سے بچتے بھی ہو مگر تم جو جہاد (بالید و اللسان و القلب) کی وحشی حرکتیں کرتے ہو اس کے مقابلے میں ہم بڑے مہذب ہیں کہ ہم حاجیوں کو پانی پلا کر اور مکہ میں آنے والوں کے لیے معقول انتظامات کر کے انسانیت کی عظیم خدمت انجام دیتے ہیں. یہ تقابل بظاہر بڑا دلچسپ نظر آتا ہے مگر اس کی حقیقی حیثیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس آیت میں ایسا تقابل کرنے والوں کو نہ صرف یہ کہ ظالم قرار دیا ہے بلکہ ان کی ہدایت کے انتظام کی بھی نفی فرمائی ہے. آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دور جاہلیت کا یہ فکری معیار فرسودہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل قبول بھی ہے.
مقام عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو آج کل جدید سیاسی و معاشی نظام (سیکولر پارٹی یا سودی نظام) کی خدمات کا ٹوکرا اپنے سر پر لیے گھومتے ہیں اور بار بار دینی و اسلامی گروہ کی قربانیوں کو قدامت پرستی یا جدید دنیا سے ناواقی کا نام دے کر لغو قرار دیتے ہیں. جاہلیت قدیمہ کی طرح جاہلیت جدیدہ کے اثرات نے بھی لوگوں کے فکری توازن میں رخنہ ڈال دیا ہے. جاہلیت جدیدہ کے علم بردار؛ اسلام کا نام لینے کے باوجود ایمانی جذبے کے ساتھ صلہ رحمی اور حقوق العباد کی بات کرنے کی بجائے مغرب کی پیروی میں انسانی حقوق، نسوانی حقوق، آزادی اظہار جیسے ڈھکوسلوں کے بہانے اہل ایمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نظر آتے ہیں. ذرا غور تو کیجیے کہ جاہلیت قدیمہ میں کفار کہتے تھے کہ تم اگر چہ مومن ہو مگر ہماری بھی یہ اقدار ہیں مگر آج نام نہاد مسلمان خود ہی کہتے ہیں کہ ہم اگر چہ مومن ہیں مگر ان کی یہ اعلیٰ اقدار ہیں. جب غیروں کے منہ سے ایمان کو ایک طرف رکھتے ہوئے اخلاقیات کا دعویٰ قرآن میں ناقابل قبول ٹھہرا تو کتنی بڑی شقاوت ہے کہ اپنوں کے منہ سے ایسی باتیں قابل سماع بلکہ لائق تعریف سمجھی جا رہی ہیں. قرآنی پیغام یہی ہے کہ خدمت گزاری، رفاہ عامہ اور انسانیت نوازی کے ساری نعرے کھوکھلے اور بے سُرے ہیں جب تک ان کے پیچھے ایمان کا روح پرور نغمہ شامل نہ ہو.