حضور غوث اعظم

کرامات حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ

ترتیب و پیش کش: شوقین نواز شوق فریدی

حضرت سیدنا غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا ایک مرید ایک ہی رات میں نئی نئی عورت کے سبب ستر بار محتلم ہوا۔ صبح غسل سے فارغ ہوکر اپنی پریشانی کی فریاد لیکر اپنے مرشد کریم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت باعظمت میں حاضر ہوا۔ قبل اس کے کہ وہ کچھ عرض کرے۔ سرکار بغداد حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود ہی فرمایا، رات کے واقعہ سے مت گھبراؤ میں نے رات لوح محفوظ پر نظر ڈالی تو تمہارے بارے میں ستر مختلف عورتوں کے ساتھ زنا کرنا مقدر تھا۔ میں نے بارگاہ الٰہی میں التجا کی کہ وہ تیری تقدیر کو بدل دے اور ان گناہوں سے تیری حفاظت فرمائے۔ چنانچہ ان سارے واقعات کو خواب کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا۔ (بہجۃ الاسرار و معدن الانوار، ص193)

ارشادات غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
اس سے معلوم ہوا کہ کسی پیر کامل کی بیعت ضرور کرنی چاہئیے کہ پیر کی توجہ سے مصیبتیں ٹل جاتی ہیں اور بعض اوقات بڑی آفت چھوٹی آفت سے بدل کر رہ جاتی ہے۔ بہجۃ الاسرار میں ہے، پیروں کے پیر،پیر دستگیر، روشن ضمیر، قطب ربانی، محبوب سبحانی، پیر لاثانی، قندیل نورانی، شہباز لامکانی، الشیخ ابو محمد سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کا فرمان بشارت نشان ہے، مجھے ایک بہت بڑا رجسٹر دیا گیا جس میں میرے مصاحبوں اور میرے قیامت تک ہونے والے مریدوں کے نام درج تھے اور کہا گیا کہ یہ سارے افراد تمہارے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔ فرماتے ہیں، میں نے داروغہء جہنم سے استفسار کیا، کیا جہنم میں میرا کوئی مرید بھی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، “نہیں۔“ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے مذید فرمایا، مجھے اپنے پروردگار کی عزت جلال کی قسم ! میرا دست حمایت میرے مرید پر اس طرح ہے جس طرح آسمان زمین پر سایہ کناں ہے۔ اگر میرا مرید اچھا نہ بھی ہو تو کیا ہوا۔ الحمدللہ عزوجل میں تو اچھا ہوں۔ مجھے اپنے پالنے والے کی عزت جلال کی قسم ! میں اس وقت تک اپنے رب عزوجل کی بارگاہ سے نہ ہٹوں گا جب تک اپنے ایک ایک مرید کو داخل جنت نہ کروالوں۔

عظیم الشان کرامت
ابوالمظفر حسن نامی ایک تاجر نے حضرت سیدنا شیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی، حضور ! میں تجارت کیلئے قافلہ کے ہمراہ ملک شام جا رہا ہوں۔ آپ سے دعاء کی درخواست ہے۔ سیدنا شیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا، “تم اپنا سفر ملتوی کردو، اگر گئے تو ڈاکو تمہارا سارا مال بھی لوٹ لیں گے اور تمہیں بھی قتل کر ڈالیں گے۔“ تاجر یہ سن کر بڑا پریشان ہوا، اسی پریشانی کے عالم میں واپس آ رہا تھا کہ راستے میں حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ مل گئے۔ پوچھا، کیوں پریشان ہو ؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا، پریشان نہ ہو شوق سے ملک شام کا سفر کرو۔ انشاءاللہ عزوجل سب بہتر ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ قافلے کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ اسے کاروبار میں بہت نفع ہوا۔ وہ ایک ہزار (1000) اشرفیوں کی تھیلی لئے حلب پہنچا۔ اتفاقاً وہ اشرفیوں کی تھیلی کہیں رکھ کر بھول گیا، اسی فکر میں نیند نے غلبہ کیا اور سو گیا، نیند میں اس نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا کہ ڈاکوؤں نے قافلے پر حملہ کرکے سارا مال لوٹ لیا ہے اور اسے بھی قتل کر ڈالا ہے۔ خوف کے مارے اس کی آنکھ کھل گئی۔ گھبرا کر اٹھا تو وہاں کوئی ڈاکو وغیرہ نہ تھا۔ اب اسے یاد آیا کہ اشرفیوں کی تھیلی اس نے فلاں جگہ رکھی ہے۔ جھٹ وہاں پہنچا تو تھیلی مل گئی۔ خوشی خوشی بغداد شریف واپس آیا۔ اب سوچنے لگا کہ پہلے غوث اعظم سے ملوں یاشیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ؟ اتفاقاً راستے میں ہی سیدنا شیخ حمّاد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مل گئے اور دیکھتے ہی فرمانے لگے، پہلے جاکر غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملو کہ وہ محبوب ربانی ہیں، انہوں نے تمہارے حق میں ستر بار دعاء مانگی تھی تب کہیں جاکر تمہاری تقدیر بدلی جس کی میں نے خبر دی تھی۔ اللہ عزوجل نے تمہارے ساتھ ہونے والے واقعہ کو غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی دعاء کی برکت سے بیداری سے خواب میں منتقل کر دیا۔ چنانچہ وہ بارگاہ غوثیت مآب میں حاضر ہوا۔ غوث اعظم رضی اللہ تعا لٰی عنہ نے دیکھتے ہی فرمایا، “واقعی میں نے تمہارے لئے ستر مرتبہ دعاء مانگی تھی۔“ (بہجۃ الاسرار )

عذاب قبر سے رہائی

ایک غمگین نوجوان نے آکر بارگاہ غوثیت میں فریاد کی، حضور ! میں نے اپنے والد مرحوم کو رات خواب میں دیکھا، وہ کہہ رہے تھے، “بیٹا ! میں عذاب قبر میں مبتلا ہوں، تو سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر میرے لئے دعاء کی درخواست کر۔“ یہ سن کر سرکار بغداد حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے استفسار فرمایا، کیا تمہارے اباجان میرے مدرسے سے کبھی گزرے ہیں ؟ اس نے عرض کی، جی ہاں۔ بس آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خاموش ہو گئے۔ وہ نوجوان چلا گیا۔ دوسرے روز خوش خوش حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا، یامرشد ! آج رات والد مرحوم سبز حلہ (یعنی سبز لباس) زیب تن کئے خواب میں تشریف لائے وہ بے حد خوش تھے، کہہ رہے تھے، بیٹا ! سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کی برکت سے مجھ سے عذاب دور کر دیا گیا ہے اور یہ سبز حلّہ بھی ملا ہے۔ میرے پیارے بیٹے ! تو ان کی خدمت میں رہا کر۔“ یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا، میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو مسلمان تیرے مدرسے سے گزرے گا اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ (ایضاً، ص194)

مردے کی چیخ و پکار

ایک بار بارگاہ غوثیت مآب میں حاضر ہو کر لوگوں نے عرض کی، عالی جاہ ! “باب الازج“ کے قبرستان میں ایک قبر سے مردے کی چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ حضور ! کچھ کرم فرما دیجئے کہ بے چارے کا عذاب دور ہو جائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا، کیا اس نے مجھ سے خرقئہ خلافت پہنا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی، ہمیں معلوم نہیں۔ فرمایا، کیا کبھی وہ میری مجلس میں حاضر ہوا ؟ لوگوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ فرمایا، کیا اس نے کبھی میرا کھانا کھایا ؟ لوگوں نے پھر لا علمی کا اظہار کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے پوچھا، کیا اس نے کبھی میرے پیچھے نماز ادا کی ؟ لوگوں نے وہی جواب دیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ذرا سا سر اقدس جھکایا تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پر جلال و وقار کے آثار ظاہر ہوئے۔ کچھ دیر کے بعد فرمایا، مجھے ابھی ابھی فرشتوں نے بتایا، “اس نے آپ کی زیارت کی ہے اور آپ سے اسے عقیدت بھی تھی لٰہذا اللہ تبارک و تعالٰی نے اس پر رحم کیا۔“ الحمدللہ عزوجل اس کی قبر سے آوازیں آنی بند ہو گئیں۔ (بہجۃ الاسرار )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے