سیاست و حالات حاضرہ

انڈین مسلم اور حالاتِ حاضرہ (8)

تحریر: محمد عباس الازہری

انڈیا میں جب بھی مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی جاتی ہے ,ماب لنچنگ کے واقعات پیش آتے ہیں ,حکومت و انتظامیہ کی ناانصافی سامنے آتی ہے تب جاکر ان کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے اور انہیں صرف "ووٹ بینک” کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے پھر کچھ دنوں کے بعد بھول جاتے ہیں !اب یہ سوال بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ آزادی کے بعد سے لیکر اب تک کیا مسلمانوں کا کوئی لیڈر ایسا ہے جو ان کی نمائندگی کرتا ہو اور جس کی شخصیت اور سیاسی تصور انڈین مسلمانوں کے حالات بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکے, اور یہ بھی واضح رہے کہ انڈین مسلم جہاں ایک طرف سیاست میں پسماندہ ہیں وہیں دوسری طرف ملک کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی میں بھی وہ اپنے آپ کو بہت پیچھے پاتے ہیں اور جو بھی حکومت آتی اس نے ان کے بنیادی اور ضروری مسائل کے حل کرنے کے بجائے صرف "وعدہ” کرنے پر اکتفا کیا اور اب انڈین مسلم یہ بھی سمجھنے لگے کہ کوئی مذہبی تنظیم یا کوئی مسلم لیڈر ان کی نمائندگی نہیں کر سکتا ہے اس لیے وہ ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو سیکولر ہو اور جو اکثریت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی ملک کی ترقی کا حصہ بنائے کیونکہ مذہبی تنظیمیں کچھ حد تک مسلم شناخت کو تو بچا پائی ہی لیکن ان کے مسائل کو حل کرنے سے قاصر رہی ہیں اور جو سیاسی رہنما ہیں وہ اپنی اپنی جماعتوں کی پالیسیوں کے پابند ہیں۔ اور جب یہ کسی اہم عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو وہ اپنی پارٹی کی پالیسی کے تحت ہی مسلمانوں کے بارے میں بات کر پاتے ہیں اور اگر کبھی وہ کچھ متعین دائرے سے باہر بات کرتے ہیں تو پارٹی کی طرف سے انہیں ڈانٹ پڑتی ہے اور کبھی برخاست کر دیا جاتا ہے اور کبھی باہر کا راستہ دیکھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھی حاشیہ پر لگا دیا جاتا ہے انہیں سب وجوہات کے سبب انڈیا میں مسلم آبادی کو ایک جمہوری ملک میں برابری کے حقوق کی ضمانت کے باوجود تعلیم، صحت، اور نوکری وغیرہ کافی دشوار کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اورجب شر پسند اپنی شرارت میں حد سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں ایسے میں مسلم قیادت کا فقدان قابل تشویش ہے اور مزید برآں آج تک مسلمانوں کی ترقی کے مسئلے پر ملک میں ایک رائے بن ہی نہیں پائی ہے کچھ پارٹیاں مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی کے خلاف ہیں اس لیے ان کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ نہیں کرتی ہیں اور کچھ صرف وعدے کے ذریعے کام چلاتی ہیں اور کچھ کام بہت کم کرتی ہیں لیکن تشہیر زیادہ کرتی ہیں ,کچھ کام کم کرتی ہیں لیکن نقصان زیادہ کرتی ہیں جیسا کہ 2007 میں حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی” سچر کمیٹی کی رپورٹ” میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ انڈین مسلم تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد بھی اس کی سفارشات پر عمل آج تک نہیں ہوا! ان کی پسماندگی کے لیے صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے حکومت اور مسلمان دونوں ہی ذمہ دار ہیں کیونکہ مسلمان خود کچھ نہیں کرنا چاہتے ہیں سب کچھ حکومت پر ڈال دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب کام حکومت ہی کرے !ان کے برعکس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتی طبقات کے لوگ اپنے تعلیمی ادارے بنائے,ہاسپیٹل کھولے ,فلاحی و رفاہی تنظیمیں بنائے اور ان کو منظم طریقے سے کام پر لگائے ہوئے ہیں مسلمان ایسا کیوں نہیں کرتے ہیں یہ بریانی ,کباب ,پان ,فیشن پر مشتمل کپڑے ,گوشت اور کھانے پینے کی دوکان کھولتے ہیں اور نئی نئی گاڑیاں خردیتے ہیں , ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں پہلے سیاست کو شجرِ ممنوعہ سمجھتے تھے لیکن اب جب آنکھ کھلی تو بہت دیر ہو چکی ہے اور یہ کہنا کہ مسلمان سیاست میں شامل ہوئے بغیر قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں یہ غلط ہے بلکہ بغیر سیاست کے منظم طریقے سے بہت کچھ کر سکتے ہیں اور ہاں جب ان کے اندر سیاسی شعور و بیداری آ جائے گی تو سیاسی پارٹیاں انہیں صرف اپنے مفاد کے لیے استمعال نہیں کر سکتی ہیں!جب انڈین مسلمانوں کے مسائل اور ان کے اعتماد کی بحالی کا چیلنج سیکولر پارٹیوں کے سامنے آتا تب یہ اپنی مناقفانہ سیاست کی وجہ سے وابستہ توقعات کا خون کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ ” سیکولرازم ” ملک اور مسلمانوں دونوں کو بچا سکتا ہے اس لیے اس وقت ملک کو قابلِ اعتماد سیکولر لیڈرشپ کی ضرورت ہے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان اور اگر مذہب کے نام پر مسلم لیڈرشپ سامنے آتی ہے تو اس سے خطرہ ہے کہ انڈین سوسائٹی میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم شروع ہوجائے گی اس سےفائدے کم اور نقصانات زیادہ ہوں گے جیسا کہ کچھ لوگ اس راہ پر چل پڑے ہیں !
جاری۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے