عقائد و نظریات

معبودان کفار اور شرعی احکام (قسط ہفتم)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط ششم میں بحث دہم ہے۔اس میں تعریض وتوریہ کی تعریف وحکم کا بیان ہے۔
قسط ہفتم میں قصہ غرانیق کی تفصیل اورحضر ت ابراہیم علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اقوال کی تشریح ہے،نیز اس امر کی وضاحت ہے کہ بتوں کی مدحت وتوصیف بتوں کی تعظیم ہے۔

بحث یازدہم:

بتوں کا ذکر خیرقرآن وحدیث میں نہیں

غیر مومن معبودان کفار کا ذکر خیر قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ایک باطل وغیر معتبر روایت کے مطابق ایک بار شیطان نے کچھ غلط فہمی پھیلا دی۔وہ غیرمعتبر روایت یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضوراقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام کعبہ معظمہ کے پاس سورہ نجم کی تلاوت فرما رہے تھے۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تلاوت کے در میان وقفہ فرماتے،اسی وقفہ کے دوران شیطان نے حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آواز مبارک کی مشابہ آوازمیں دو جملہ بتوں کی تعریف میں پڑھ دیا۔شیطان کی آواز صرف مشرکوں کو سنائی دی۔ وہ فتنہ میں مبتلا ہوئے۔تلاوت مکمل ہونے کے بعد حضوراقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام اور مومنین نے سجدہ کیا اور اس دن مشرکین نے بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدہ کیا۔

علمائے اسلام نے متعدد وجوہ سے اس روایت کوناقابل اعتبار بتایا ہے۔ چوں کہ ان روایتوں میں یہ ذکر ہے کہ مشرکین نے اس دن کہا کہ آج کے علاوہ کبھی بھی حضرت محمد مصطفّٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمارے بتوں کا ذکر خیر نہیں کیا،پس اس سے واضح ہوگیاکہ قرآن مجید میں بتوں کا ذکر ضرور موجود ہے،لیکن ذکر خیر نہیں۔ آیات قرآنیہ میں نوع بہ نوع اسلوب میں بتوں کی مذمت کی گئی ہے اور یہ ارشاد فرمایا گیا کہ بت عبادت کے لائق نہیں۔

قرآن وحدیث میں اصنام واوثان کی تعریف وتوصیف وارد نہیں ہوئی۔ حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم نے اپنی قوم کے پانچ صالحین کو معبود بنالیا تھا،ان کے بارے میں حدیث نبوی میں ذکر ہے کہ وہ مومنین صالحین تھے۔اہل عرب بھی ان کوپوجتے تھے۔

(عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:صَارَتْ الْأَوْثَانُ الَّتِی کَانَتْ فِی قَوْمِ نُوحٍ فِی الْعَرَبِ بَعْدُ-أَمَّا وَدٌّ کَانَتْ لِکَلْبٍ بِدَوْمَۃِ الْجَنْدَلِ-وَأَمَّا سُوَاعٌ کَانَتْ لِہُذَیْلٍ-وَأَمَّا یَغُوثُ فَکَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِی غُطَیْفٍ بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَإٍ وَأَمَّا یَعُوقُ فَکَانَتْ لِہَمْدَانَ وَأَمَّا نَسْرٌ فَکَانَتْ لِحِمْیَرَ لِآلِ ذِی الْکَلَاعِ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِینَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ فَلَمَّا ہَلَکُوا أَوْحَی الشَّیْطَانُ إِلَی قَوْمِہِمْ أَنْ انْصِبُوا إِلَی مَجَالِسِہِمْ الَّتِی کَانُوا یَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوہَا بِأَسْمَاءِہِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّی إِذَا ہَلَکَ أُولَءِکَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ)
(صحیح بخاری:سورہ نوح:جلددوم:ص732)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:قوم نوح کے بت بعد میں اہل عرب کے بت ہوگئے،لیکن (وُد)تویہ دومۃ الجندل(ملک شام کا ایک شہر) میں قبیلہ کلب کا بت ہوگیا، اورلیکن (سُواع)تویہ قبیلہ ہذیل کا بت ہوگیا، اور لیکن (یَغوث) تویہ قبیلہ مراد کا بت ہوگیا، پھریہ شہرسبا کے پاس وادی جوف میں قبیلہ بنی غطیف کا بت ہوگیا، اور لیکن(یَعوق) تویہ قبیلہ ہمدان کا بت ہوگیا،اورلیکن (نَسر) تویہ آل ذی کلاع (بادشاہ یمن)کے قبیلہ حمیرکا بت ہوگیا۔

یہ قوم نوح کے نیک لوگوں کے نام ہیں۔جب یہ لوگ وفات پاگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ جہاں وہ لوگ بیٹھتے تھے، ان مقامات پران کے بت نصب کرو، اوران کے نام پربتوں کا نام رکھو، پس ان حضرات کی عبادت نہ کی گئی،یہاں تک کہ یہ لوگ وفات پاگئے، اور علم مٹ گیا،پس ان حضرات کی عبادت ہونے لگی۔

توضیح:بعض مومنین صالحین اور بعض انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام کوبھی مشرکین نے اپنا معبود بنالیا ہے، وہ موضوع بحث نہیں۔ یہ نفوس قدسیہ آیت طیبہ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین)(سورہ منافقون:آیت 8) کے سبب حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کی کی تعظیم وتوقیر کی جائے گی۔

قرآن وحدیث میں مومنین صالحین وانبیائے کرام علیہم السلام کی تعظیم کا حکم ہے۔
یہاں موضوع بحث وہ معبودان کفار ہیں جو غیر مومن ہیں۔ خواہ ان کا وجود ہی فرضی وخیالی ہو، یا وہ مخلوقات میں سے ہوں،لیکن مومن نہ ہوں،یعنی قابل تعظیم نہ ہوں۔ایسے معبودا ن باطل کی تعریف وتوصیف ان کی تعظیم ہے، اور اصنام واوثان کی تعظیم کفرہے۔

تعظیم وتنقیص اور افعال واقوال

جس طرح مدحت وتوصیف سے تعظیم وتکریم ہوتی ہے، جس طرح مذمت وتقبیح سے تنقیص وتحقیر ہوتی ہے۔ اسی طرح مدحت وتوصیف سے تعظیم وتکریم ہوتی ہے۔اصنام واوثان کی تعریف وتوصیف سے ان کی تعظیم ہوتی ہے۔

قصہ غرانیق میں دو جملوں کا ذکر ہے:(تِلْکَ الْغَرَانِیقُ الْعُلَی-وَإِنَّ شَفَاعَتہنَّ لَتُرْتَجَی)(یہ سب بلند رتبہ بت ہیں اور بے شک ان کی شفاعت کی امید ہے)

بت کو بلند رتبہ کہنا اس کی مدح وتعظیم ہے۔یہ کفر ہے۔دربار خداوندی میں شفاعت اصنام واوثان کی قبولیت کی امید رکھنا دوسرا کفر ہے۔ان دوجملوں میں دوکفرپائے جاتے ہیں۔

قصہ غرانیق اور محققین اسلام

محققین اسلام نے قصہ غرانیق کو غیر معتبر بتایا ہے۔ اس روایت کے روات بھی قابل اعتماد نہیں۔ چوں کہ اس بحث میں اس بات کا ذکر ہے کہ بتوں کی تعظیم کفر ہے،اور بتوں کی مدح وستائش ان کی تعظیم ہے،اس لیے بطور استشہاد اس بحث کی عبارتیں نقل کی گئی ہیں۔

صالحین پر شیطان کوقابو نہیں

امام نسفی نے رقم فرمایا:(قالوا:انہ علیہ السلام کان فی نادی قومہ یقرأ ”والنجم“فلما بلغ قولہ:(ومناۃ الثالثۃ الأخری)جری علٰی لسانہ”تلک الغرانیق العلی وأن شفاعتہن لترتجی“ولم یفطن لہ حتی ادرکتہ العصمۃ فتنبہ علیہ-وقیل نبہہ جبریل علیہ السلام فاخبرہم أن ذلک کان من الشیطان۔

وہذا القول غیر مرضی-لأنہ لا یخلو إما أن یتکلم النبی علیہ السلام بہا عمدًا وأنہ لا یجوز لأنہ کفر-ولأنہ بعث طاعنا للاصنام لا مادحا لہا۔

أو اجری الشیطان ذلک علی لسان النبی علیہ الصلاۃ والسلام جبرًا بحیث لا یقدر علی الامتناع منہ وہو ممتنع،لان الشیطان لا یقدر علی ذلک فی حق غیرہ ففی حقہ اولٰی۔

والقول بانہ جری علٰی لسانہ سہوا وغفلۃ مردود ایضا،لانہ لایجوز مثل ہذہ الغفلۃ فی حال تبلیغ الوحی-ولوجاز لبطل الاعتماد علٰی قولہ۔

ولأنہ تعالی قال فی صفۃ المنزل علیہ:(لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ)-وقال:(انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون)
(تفسیر نسفی:سورۃ الحج:آیت53)

توضیح:امام نسفی نے فرمایا کہ قصہ غرانیق متعددوجوہ کی بنا پرناقابل قبول ہے۔

(الف)اس میں بتوں کی مدح سرائی اوران کے مقبول الشفاعۃ ہونے کا بیان ہے،اوریہ کفرہے،نیز حضوراقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام بتوں کی توصیف بیانی کے واسطے مبعوث نہیں، بلکہ انہیں حکم تھا کہ بتوں کے عیوب بیان کریں،تاکہ لوگ بت پرستی کو ترک کریں۔

(ب)حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر شیطان کا فریب چلتا نہیں، بلکہ محال ہے۔مسلمانوں کویہ بات معلوم ہے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر شیطان کافریب چلتا نہیں۔

(ج)حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام سے تبلیغی امور میں سہوونسیان محال ہے،ورنہ ان نفوس قدسیہ کے ارشادات مبارکہ پراعتماد ختم ہوجائے گا۔

(د)اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے،لہٰذ ا شیطان اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتا۔

قصہ غرانیق باطل وموضوع

قاضی عیاض مالکی قدس سرہ العزیزنے قصہ غرانیق سے متعلق طویل بحث رقم فرمائی ہے۔آپ نے بحث کی دو قسمیں کی۔قسم اول قصہ غرانیق کی تضعیف اور سند کے اعتبارسے اس کے عدم ثبوت کے بیان میں ہے۔قسم دوم میں فرض وتقدیرکے طورپرقصہ غرانیق کوتسلیم کر کے تاویلات صحیحہ رقم کی گئی ہیں۔محققین اسلام نے قصہ غرانیق کوباطل قرار دیا ہے۔امام فخرالدین رازی نے قصہ غرانیق کے باطل وموضوع ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔

قال القاضی:(فاعلم اکرمک اللّٰہ:ان لنا فی الکلام علٰی مشکل ہذا الحدیث مأخذین:احدہما فی توہین اصلہ-والثانی علٰی تسلیمہ۔
اما المأخذ الاول فیکفیک ان ہذا الحدیث لم یُخَرِّجہُ اَحَدٌ مِن اَہلِ الصِّحَّۃِ -وَلَا رَوَاہُ ثِقَۃٌ بِسَنَدٍ سَلِیمٍ مُتَّصِلٍ-وانما اَولَعَ بہ وبمثلہ المفسرون والمؤرخون المولعون کُلَّ غریب-المُتَلَقِّفُونَ مِنَ الصُّحُفِ کُلَّ صَحِیحٍ وَسَقِیمٍ)(الشفاء: جلددوم:ص125)

توضیح:جو محدثین اپنی کتابوں میں صحیح احادیث طیبہ جمع کرتے ہیں، ان میں سے کسی نے قصہ غرانیق کی تخریج نہیں کی،نہ ہی ثقہ راویوں نے اس کی روایت کی ہے۔ان مفسرین ومؤرخین نے اس روایت کو بیان کیا ہے جو صحیح وضعیف ہرقسم کی روایت نقل کرتے ہیں۔

قال القاضی:(واما الماخذ الثانی فہو مبنی علٰی تسلیم الحدیث،لَو صَحَّ-وَاَعَاذَنَا اللّٰہ من صحتہ-ولکن علٰی کل حال،فَقَد اَجَابَ عن ذلک ائمۃ المسلمین باجوبۃ)(الشفاء: جلددوم:ص129)

توضیح:قاضی عیاض مالکی قدس سرہ العزیز نے فرمایا کہ اس روایت کوصحیح فرض کرکے بھی علمائے اسلام نے اس کی تاویلات رقم کی ہیں۔

قال القاضی:(ولاشک فی ادخال بعض شیاطین الانس اوالجن ہذا الحدیث علٰی بعض مُغَفَّلِی المحدثین-لِیُلَبِّسَ بہ علٰی ضعفاء المسلمین)
(الشفاء:جلدوم:ص128)

ترجمہ:بعض انسانی یا جنی شیطانوں کا اس روایت (قصہ غرانیق)کو بعض غفلت شعار محدثین کے ذہن میں ڈال دینا یقینی ہے،تاکہ اس کے ذریعہ کمزور مسلمانوں کوشبہہ میں ڈالے۔

قصہ غرانیق کی تاویلات

(1)قاضی عیاض مالکی قدس سرہ نے رقم فرمایا:(قیل:لَعَلَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَہٗ اثنَاءَ تلاوتہ علٰی تقدیر التقریر والتوبیخ للکفارکقول ابراہیم علیہ السلام(ہٰذَا رَبِّی)علٰی احد التاویلات-وکقولہ(بَل فَعَلَہٗ کَبِیرُہُم)-ہذا بعد السَّکتِ وبیان الفصل بین الکلامین-ثم رجع الٰی تلاوتہ-وہذا ممکن مَعَ بَیَانِ الفَصلِ وَقَرِینَۃٍ تَدُلُّ عَلَی المراد-وَاَنَّہٗ لَیسَ مِنَ المَتلُو-وہو احد ما ذکرہ القاضی ابوبکر)(الشفاء: جلددوم:ص129)

توضیح:ایک تاویل یہ ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کفارومشرکین کو زجروتوبیخ کے طورپر ایسا فرمایا، اوریہ قرآن مجید کی آیتیں نہیں تھیں۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم کو زجروتوبیخ کے طورپر فرمایا:(ہذا ربی)یعنی تمہاری نظر میں یہی ستارہ ہمارا رب ہے، حالاں کہ یہ خود مخلوق ہے،اورمخلوق معبود نہیں ہوسکتی۔

(2)قاضی عیاض مالکی نے قاضی ابوبکربن عربی مالکی کی تاویل نقل کرکے رقم فرمایا:
(والذی یَظہَرُ وَیَتَرَجَّحُ فِی تَاوِیلِہٖ عندہ وعند غیرہ من المحققین علٰی تَسلِیمِہٖ-ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان-کَمَا اَمَرَہٗ رَبُّہٗ-یُرَتِّلُ القُراٰنَ تَرتِیلًا وَیُفَصِّلُ الاٰیَ تَفصِیلًا فِی قِرَأتِہٖ کَمَا رَوَاہُ الثِّقَاتُ عنہ۔

فَیُمکِنُ تَرَصُّدُ الشَّیطَانِ لِتِلکَ السَّکتَاتِ-وَدَسُّہٗ فِیہَا مَا اِختَلَقَہٗ مِن تِلکَ الکَلِمَاتِ مُحَاکِیًا نَغَمَۃَ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحیث یَسمَعُہٗ مَن دَنَا اِلَیہِ مِنَ الکُفَّارِ-فَظَنُّوہَا مِن قَولِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،و اشاعوہا-ولم یقدح ذلک عند المسلمین بحفظ السورۃ قبل ذلک علٰی مَا اَنزَلَہَا اللّٰہُ-وَتَحَقُّقِہِم مِن حَالِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فِی ذَمِّ الاَوثَانِِ وَعَیبِہَا مَا عُرِفَ مِنہُ۔

وَقَد حَکٰی مُوسَی بنُ عُقبَۃَ فِی مغازیہ نحوہذا-وقال:ان المسلمین لم یسمعوہا-وانما القی الشیطان ذلک فی اَسمَاعِ المُشرِکِینَ وَقُلُوبِہِم -وَیَکُونُ مَارُوِیَ مِن حُزنِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لہذہ الاشاعۃ والشُّبہَۃِ وَسَبَبِ ہٰذِہِ الفِتنَۃِ)(الشفاء:جلددوم:ص130)

توضیح: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ترتیل کے ساتھ قرآن مجید تلاوت فرماتے، اورآیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے۔اسی وقفہ میں شیطان نے حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز مبارک کی مثل آواز میں وہ دونوں جملے بتوں کی تعریف میں کہا،جسے مشرکین نے سنا، پس مشرکین کو وہم ہوا کہ یہ جملے حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمائے۔

(وَتَحَقُّقِہِم مِن حَالِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فِی ذَمِّ الاَوثَانِِ وَ عَیبِہَا مَا عُرِفَ مِنہُ)کا مفہوم ہے کہ مومنین نے بتوں کی تعریف والے جملے نہ سنے، اور مومنین کے نزدیک یہ امر یقینی اور متحقق تھا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمیشہ بتوں کی مذمت فرماتے ہیں اور ان کے عیوب بیان کرتے ہیں۔

(3)قاضی عیاض مالکی نے رقم فرمایا:(ومما یظہرفی تاویلہ ایضًا ان مجاہدًاروٰی ہذہ القصۃَ-والغرانقۃ العلٰی-فان سَلَّمنَا القِصَّۃَ-قُلنَا:لَا یَبعُدُ اَنَّ ہٰذَا کَانَ قُراٰنًا-وَالمُرَادُ بالغرانقۃ العُلٰی وان شفاعتہن لَتُرتَجٰی- الملائکۃُ علٰی ہٰذِہِ الروایۃ-وبہذا فسر الکلبی الغرانقۃَ-انہا الملائکۃُ۔

وذلک ان الکفارکانوا یعتقدون الاوثان والملائکۃ بنات اللّٰہ-کَمَا حَکَی اللّٰہُ عَنہُم-وَرَدَّ عَلَیہِم فی ہذہ السورۃ بقولہ(اَ لَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الاُنثٰی)فانکراللّٰہ کل ہٰذا من قولہم-ورجاء الشفاعۃ من الملائکۃ صحیحٌ
فَلَمَّا تَأَوَّلَہُ المشرکون علٰی ان المراد بہذا الذِّکرِ اٰلِہَتُہُم-وَلَبَّسَ عَلَیہِمُ الشَّیطَانُ ذلک وَزَیَّنَہٗ فی قلوبہم-وَاَلقَاہُ اِلَیہِم-نَسَخَ اللّٰہُ مَا اَلقَی الشَّیطَانُ-وَاَحکَمَ اٰیَاتِہٖ وَرَفَعَ تِلَاوَۃَ تِلکَ اللَّفظَینِ اللَّتَینِ وَجَدَ الشَّیطَانُ بِہِمَا سَبِِیلًا لَلاِلبَاسِ-کَمَا نَسَخَ کَثِیرٌمِن القُراٰنِ وَرُفِعَت تِلَاوَتُہٗ-وَکَانَ فی انزال اللّٰہ تَعَالٰی لِذٰلِکَ حکمۃٌ وفی نسخہ حکمۃٌ -لِیُضِلَّ بہ من یشاء ویہدی من یشاء-ومَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الفٰسِقِینَ)(الشفاء:جلددوم:ص313)

توضیح:ایک تاویل یہ ہے کہ غرانیق سے فرشتے مراد ہیں،اور ملائکہ کرام بلند رتبہ ہیں اوران کی شفاعت دربار الٰہی میں مقبول بھی ہے،اوریہ دونوں قرآن مجید کی آیتیں تھیں۔
چوں کہ مشرکین عرب اپنے بتوں اورملائکہ کرام کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ ان لوگوں نے شیطانی وسوسے کے سبب ان دونوں آیتوں سے سمجھا کہ ان میں ہمارے بتوں کی تعریف ہے،پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت منسوخ فرمادی۔

قاضی عیاض مالکی نے اس مقام پرمذکورہ بالا تین تاویلات رقم فرمائیں۔

قصہ غرانیق میں (علیٰ لسان النبی صلی اللہ علیہ وسلم)سے مرادیہ ہے کہ شیطان نے خود حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آواز مبارک کی مثل آواز میں یہ دوجملہ پڑھا،اور مشرکین کو یہ شبہہ ہوگیا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی ہے۔

((علی لسانہ“ سے نغمہ نبوی مرادہے۔کتاب الشفا کی عبارت ماقبل میں مرقوم ہے۔

(وَدَسُّہٗ فِیہَا مَا اِختَلَقَہٗ مِن تِلکَ الکَلِمَاتِ مُحَاکِیًا نَغَمَۃَ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحیث یَسمَعُہٗ مَن دَنَا اِلَیہِ مِنَ الکُفَّارِ-فَظَنُّوہَا مِن قَولِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم-واشاعوہا)(الشفاء:جلددوم:ص130)

قصہ غرانیق کی عدم صحت کا بیان

(۱)امام فخر الدین رازی نے رقم فرمایا:(ذکر المفسرون فی سبب نزول ہذہ الآیۃ أن الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلّم لما رأی إعراض قومہ عنہ وشق علیہ ما رأی من مباعدتہم عما جاۂم بہ-تمنی فی نفسہ أن یأتیہم من اللّٰہ ما یقارب بینہ وبین قومہ وذلک لحرصہ علی إیمانہم فجلس ذات یوم فی ناد من أندیۃ قریش کثیر أہلہ-وأحب یومئذ أن لا یأتیہ من اللّٰہ شیء ینفروا عنہ وتمنی ذلک-فأنزل اللّٰہ تعالی سورۃ (وَالنَّجْمِ إِذَا ہَوَی) (النجم:1)

فقرأہا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلّم حتی بلغ قولہ:(أَ فَرَءَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّی::وَمَنَواۃَ الثَّالِثَۃَ الاخْرَی)(النجم:20-19)ألقی الشیطان علی لسانہ”تلک العرانیق العلی منہا الشفاعۃ ترتجی“۔

فلما سمعت قریش ذلک فرحوا ومضی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم فی قرأتہ فقرأ السورۃ کلہا فسجد وسجد المسلمون لسجودہ وسجد جمیع من فی المسجد من المشرکین فلم یبق فی المسجد مؤمن ولا کافر إلا سجد سوی الولید بن المغیرۃ وأبی أحیحۃ سعید بن العاصی فإنہما أخذا حفنۃ من التراب من البطحاء ورفعاہا إلی جبہتیہما وسجدا علیہا لأنہما کانا شیخین کبیرین فلم یستطیعا السجود۔

وتفرقت قریش وقد سرہم ما سمعوا وقالوا:قد ذکر محمد آلہتنا بأحسن الذکر

فلما أمسی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم أتاہ جبریل علیہ السلام فقال ماذا صنعت تلوت علی الناس ما لم آتک بہ عن اللّٰہ وقلت ما لم أقل لک؟فحزن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم حزناً شدیداً وخاف من اللّٰہ خوفاً عظیماً حتی نزل قولہ تعالی:(وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ إِلا نُوحِی إِلَیْہِ أَنَّہ لا إِلٰہَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ) الآیۃ۔

ہذا روایۃ عامۃ المفسرین الظاہریین-أما أہل التحقیق فقد قالوا: ہذہ الروایۃ باطلۃ موضوعۃ-واحتجوا علیہ بالقرآن والسنۃ والمعقول۔
(تفسیر الرازی:سورۃ الحج:جلد 23ص44-مکتبہ شاملہ)

توضیح: منقولہ بالاقصہ غرانیق کو متعدد مفسرین نے نقل کیا ہے۔ مفسرین ومحققین نے متعدد وجوہ سے قصہ غرانیق کو باطل وموضوع قرار دیا ہے۔کتب تفاسیر اور شروح احادیث وکتب سیرمیں قصہ غرانیق کے بطلان کے اسباب مرقوم ہیں۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ کسی مفسر ومحدث نے یہ نہیں لکھاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بالقصد بتوں کی تعریف کی،کیوں کہ بتوں کی مدح وستائش ان کی تعظیم ہے اور بتوں کی تعظیم کفرہے۔

سہو ونسیان کے سبب بھی ایسا ہونا ممکن نہیں،کیوں کہ احکام تبلیغیہ میں حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام سے سہو ونسیان کاصدور محال ہے۔قرآن مجید احکام اسلا میہ کا مخزن وسرچشمہ ہے، پھر قرآ ن مجید کی آیات طیبہ اورمقدس سورتیں امت تک پہنچاتے وقت سہو ونسیان کیسے ہوسکتا ہے۔

اب ایک سوال باقی رہا کہ شیطان نے اس مجلس میں یہ دوجملے کہاتھا،یا نہیں؟محققین اس بات کے قائل ہیں کہ قصہ غرانیق موضوع وباطل ہے۔

(2)امام فخر الدین رازی شتافعی(606-544ھ)نے رقم فرمایا:
(وأما السنۃ فہی ما روی عن محمد بن إسحق بن خزیمۃ أنہ سئل عن ہذہ القصۃ فقال:ہذا وضع من الزنادقۃ وصنف فیہ کتاباً۔

وقال الإمام أبو بکر أحمد بن الحسین البیہقی:ہذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جہۃ النقل ثم أخذ یتکلم فی أن رواۃ ہذہ القصۃ مطعون فیہم۔

وأیضاً فقد روی البخاری فی صحیحہ أن النبی علیہ السلام قرأ سورۃ النجم وسجد فیہا المسلمون والمشرکون والإنس والجن-ولیس فیہ حدیث الغرانیق-وروی ہذا الحدیث من طرق کثیرۃ-ولیس فیہا ألبتۃ حدیث الغرانیق)(تفسیر الرازی:سورۃ الحج:جلد 23ص44-مکتبہ شاملہ)

توضیح: امام بیہقی علیہ الرحمۃوالرضوان نے فرمایا کہ قصہ غرانیق روایت کے اعتبارسے ثابت نہیں ہے،اس کے روات بھی ناقابل اعتماد ہیں،نیز صحیح بخاری میں یہ مروی ہے کہ سورہ نجم کی تلاوت کے وقت مومنین ومشرکین اور جن وانس نے سجدہ کیا،لیکن قصہ غرانیق کا ذکر نہیں۔اسی طرح بہت سی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے،لیکن قصہ غرانیق کا ذکر نہیں۔

(أما أہل التحقیق فقد قالوا:ہذہ الروایۃ باطلۃ موضوعۃ)کا مفہوم یہ ہے کہ محققین اسلام نے قصہ غرانیق کو باطل وموضوع قراردیا ہے۔

امام شربینی شافعی نے رقم فرمایا:(قال الرازی: ہذہ روایۃ عامّۃ المفسرین الظاہریۃ أما أہل التحقیق فقد قالوا: ہذہ الروایۃ باطلۃ موضوعۃ، واحتجوا علی البطلان بالقرآن والسنۃ والمعقول)
(تفسیر السراج المنیر:سورۃ الحج:جلددوم:ص442-مکتبہ شاملہ)

مفسرابن عادل دمشقی حنبلی نے رقم فرمایا:(قال ابن الخطیب:وأما أہل التحقیق فقالوا:ہذہ الروایۃ باطلۃ موضوعۃ لوجوہ من القرآن والسنۃ والمعقول)(اللباب فی علوم الکتاب:سورۃ الحج:جلد 14:ص117-مکتبہ شاملہ)

سورہ حج (آیت:52)کی تفسیر میں تفسیر کبیر،تفسیر سراج منیر اور تفسیر لباب میں قصہ غرانیق کے بطلان کے دلائل مرقوم ہیں۔دیگر کتب تفاسیر میں بھی اسی مقام پرقصہ غرانیق کے بطلان وغیرمعتبر ہونے کا بیان ہے۔قصہ غرانیق کی روایت ناقابل اعتماد اور شرعی اصول کے اعتبارسے بھی یہ غلط اورباطل ہے۔

اصنام واوثان کی تعظیم کفر

منقولہ ذیل اقتباسات میں قصہ غرانیق کے دوجملوں کو بتوں کی تعظیم سے تعبیرکیا گیا ہے، اور حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب تعظیم اوثان کی نسبت کرنے کو کفر کہا گیا، کیوں کہ تعظیم اوثان واصنام کفرہے،اورجوکسی نبی علیہ السلام کی جانب کفرکی نسبت کرے، وہ خود کافر ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بتوں کی مدحت وستائش بتوں کی تعظیم ہے۔

(1)امام فخر الدین رازی شتافعی(606-544ھ)نے رقم فرمایا:
(وقال الإمام أبو بکر أحمد بن الحسین البیہقی:ہذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جہۃ النقل ثم أخذ یتکلم فی أن رواۃ ہذہ القصۃ مطعون فیہم۔

وأیضاً فقد روی البخاری فی صحیحہ أن النبی علیہ السلام قرأ سورۃ النجم وسجد فیہا المسلمون والمشرکون والإنس والجن ولیس فیہ حدیث الغرانیق-وروی ہذا الحدیث من طرق کثیرۃ ولیس فیہا ألبتۃ حدیث الغرانیق۔

وأما المعقول فمن وجوہ:أحدہا: أن من جوز علی الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلّم تعظیم الأوثان فقد کفر لأن من المعلوم بالضرورۃ أن أعظم سعیہ کان فی نفی الأوثان)(تفسیر الرازی:سورۃ الحج:جلد 23ص44-مکتبہ شاملہ)

(2)امام شمس الدین خطیب شربینی شافعی قاہری (م۷۷۹؁ھ)نے رقم فرمایا:
(وقال البیہقی:ہذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جہۃ النقل-فقد روی البخاری فی صحیحہ:”أنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قرأ سورۃ النجم وسجد فیہا،وسجد المسلمون والکفار والإنس والجن“-ولیس فیہ حدیث الغرانیق:

وأما المعقول فمن وجوہ: أحدہا:
أنّ من جوّز علی النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تعظیم الأوثان فقد کفر -لأنّ من المعلوم بالضرورۃ أن النبیّ کان معظم سعیہ فی نفی الأوثان)
تفسیر السراج المنیر:سورۃ الحج:جلددوم:ص422-مکتبہ شاملہ)

(3)ابوحفص عمربن علی بن عادل دمشقی حنبلی (م۰۸۸؁ھ)نے رقم فرمایا:
(وقال الإمام أبو بکر أحمد بن الحسین البیہقی:ہذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جہۃ النقل ثم قال:رواۃ ہذہ القصۃ مطعونون-وروی البخاری فی صحیحہ أنہ علیہ السلام قرأ سورۃ النجم-وسجد فیہا المسلمون والمشرکون والجن والإنس ولیس فیہ ذکر الغرانیق-وروی ہذا الحدیث من طرق کثیرۃ-ولیس فیہا البتۃ ذکر الغرانیق۔

وأما المعقول فمن وجوہ:أحدہا: أن من جوَّز علی الرسول تعظیم الأوثان فقد کفر-لأن من المعلوم بالضرورۃ أن أعظم سعیہ کان فی نفی الأوثان)(اللباب فی علوم الکتاب:سورۃ الحج:ج14ص118-مکتبہ شاملہ)

توضیح:مذکورہ بالا تینوں تفاسیر میں بیان کیا گیا کہ جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق میں بتوں کی تعظیم کا قول کرے،وہ کافر ہے،کیوں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سب سے عظیم کوشش یہی تھی کہ لوگوں کو بتوں سے دور کریں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف لائیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بتوں کی تعریف وتوصیف بتوں کی تعظیم ہے۔
منقولہ بالا تینوں عبارتوں میں قصہ غرانیق کے دو جملوں کو بتوں کی تعظیم سے تعبیر کیا گیا۔ان جملوں میں بتوں کی تعریف ہے،پس بتوں کی مدح وتعریف ان کی تعظیم ہے۔

مدح وثنا قولی تعظیم

(1)امام ابوعبد اللہ قرطبی مالکی (م۱۷۶؁ھ)نے رقم فرمایا:
(فأما ما یضاف إلیہ من قولہم:تلک الغرانیق العلا-فکذب علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم-لان فیہ تعظیم الاصنام، ولا یجوز ذلک علی الانبیاء)(تفسیر قرطبی:جلد 12ص86-مکتبہ شاملہ)

ترجمہ:لیکن جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے،یعنی لوگوں کا قول (تلک الغرانیق العلی)،پس یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہے، کیوں کہ اس میں بتوں کی تعظیم ہے اور یہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام کے لیے جائز نہیں۔

توضیح: قصہ غرانیق جھوٹی روایت ہے،کیوں کہ اس میں بتوں کی تعظیم ہے، اوربتوں کی تعظیم حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام کے لیے جائز نہیں،نہ ہی امتیوں کے لیے جائز ہے۔ قصہ غرانیق میں بتوں کی تعریف ومدح سرائی تھی۔اسی مدح سرائی کوتعظیم سے تعبیر کیا گیاہے، یعنی بتوں کی توصیف ومدح سرائی بتوں کی تعظیم ہے۔

(2)امام محمدبن جریر طبری شافعی(310-244ھ)نے رقم فرمایا:
(أنّ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما اعتمر عُمرۃ القضیَّۃ-تخوَّف أقوامٌ کانوا یطوفون بہما فی الجاہلیۃ قبل الإسلام لصنمین کانا علیہما تعظیمًا منہم لہما،فقالوا:وکیف نَطوف بہما۔
وقد علمنا أنَّ تَعظیم الأصنام وجمیع ما کان یُعبد من ذلک من دون اللّٰہ شرکٌ؟ ففی طوَافنا بہذین الحجرین أحرَجُ ذلک-لأن الطواف بہما فی الجاہلیۃ إنما کان للصنمین اللذین کانا علیہما-وقد جاء اللّٰہ بالإسلام الیومَ-ولا سبیل إلی تعظیم شیء مع اللّٰہ بمعنی العبادۃ لہ!
فأنزل اللّٰہ تعالی ذکرہ فی ذلک من أمرہم:(إنّ الصفا والمروۃ من شعائر اللّٰہ)(تفسیرطبری:جلد3:ص230-مکتبہ شاملہ)

توضیح: بتوں کے ارد گرد طواف کرنااس کی تعظیم ہے، اوریہ بھی شرک ہے۔
زمانہ جاہلیت میں صفا ومروہ پر دوبت نصب تھے۔مشرکین ان بتوں کی تعظیم میں بتوں کا طواف کرتے۔جب عمرۃ القضا کے موقع پرحضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو صفا ومروہ کی سعی کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام کو شبہہ ہوا کہ ان دونوں پر پہلے بت تھے۔صفا ومروہ کے طواف کے سبب ان بتوں کی تعظیم ہو گی۔

اللہ تعالیٰ نے آیت مقدسہ (ان الصفاوالمروۃ:الاٰیۃ)نازل فرماکر شبہہ دور فرمادیا۔

وضاحت: مضمون طویل ہونے کے سبب دوحصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ان شاء اللہ تعالیٰ اسی مضمون کا نصف دوم ”ضمیمہ قسط ہفتم“کے عنوان سے شائع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے