مذہبی مضامین نبی کریمﷺ

آدابِ بارگاہِ رسالت مآبﷺ (قسط نمبر 15)

از قلم: ابوحامد محمد شریف الحق رضوی ارشدی مدنی کٹیہاری
امام وخطیب نوری رضوی جامع مسجد وخادم دارالعلوم نوریہ رضویہ رسول گنج عرف کوئلی ضلع سیتامڑھی بہار انڈیا

حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ادبِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ باب مدینۃ العلم ہیں – مقامِ صہبا میں ان کا تعظیمِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا انوکھا انداز ملاحظہ فرمائیں :
عن اسماء بنت عميس ان النبی صلی الله عليه وسلم كان يوحی اليه وراسه فی حجر علی فلم يصل العصر حتی غربت الشمس فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم اصليت يا علی قال لا فقال اللهم انه كان فی طاعتك وطاعة رسولك فاردد عليه الشمس قالت اسماء فرأيتها غربت ثم رأيتها طلعت بعد غربت ‘ وقفت علی الجبال والارض وذٰلك بالصهباء فی خيبر
(الشفاء جلد اول صفحہ 177/)
” حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ کا سر مبارک حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں تھا ‘ پس انہوں نے نمازِ عصر نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا – رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا اے علی تونے نماز پڑھ لی ؟ عرض کی نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ علی تیری اور تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت میں تھا پس تو اس پر سورج کو لوٹا دے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا سورج غروب ہوگیا پھر میں نے دیکھا غروب ہونے کے بعد طلوع ہوگیا اس کی روشنی پہاڑوں اور زمین پر پڑتی رہی اور یہ واقعہ خیبر میں مقام صہباء میں پیش آیا "
قابلِ غور بات
نماز دینِ اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور سب سے زیادہ قرآن پاک میں نماز کی تاکید کی گئی بالخصوص قرآن پاک میں بقیہ نمازوں کے ساتھ نمازِ وسطیٰ یعنی نماز عصر کی بہت تلقین کی گئی ‘ اس حکم کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بخوبی جانتے تھے مگر انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ جس شخصیت کا سرمبارک میری گود میں ہے وہ حبیبِ باری تعالیٰ ہیں – ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اسی لیے انہوں نے نماز عصر کو قربان کردیا مگر آرامِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں خلل نہ آنے دیا – پھر حضور اقدس محبوبِ کریم رسولِ عظیم احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی طاعتك وطاعة رسولك ‘ قابلِ غور بات یہ ہے کہ آرام نبی کریم رؤوف ورحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما رہے تھے تو یہ اطاعتِ خدا وندی کیسے ہوگئی ؟ نبی اکرم شفیعِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ جملے ارشاد فرماکر قیامت تک کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس اعتراض کو ختم کردیا کوئی بد باطن یہ نہ کہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جان بوجھ کر نماز عصر چھوڑی بلکہ یہ بتا دیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس مقام پر نماز کو قربان کرنا اطاعتِ خداوندی ہے کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے – من يطع الرسول فقد اطاع الله – اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمانِ خداوندی پر عمل کیا اور اس کا صلہ یہ ملا کہ چشمِ فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج اس لیے پلٹا تاکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نماز عصر ادا کرلیں – حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ حرمتِ ناموس رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بہت احمیت کی حامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے