خانوادۂ رضا

"کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن” پر ارباب علم و دانش کے تاثرات

تحریر: کلیم احمد قادری
رضائے مصطفے اکیڈمی، دھرن گاؤں
ضلع جلگاؤں مہاراشٹر ۔

اس ضمن میں بدر ملت علامہ مفتی بدرالدین احمد قادری علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

‘‘ایک انسان اپنی دماغی کوشش سے بلند پایا مصنف و قابل صد افتخار ادیب تو بن سکتا ہے۔ اپنی ذاتی قابلیت کے زور سے اردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ مختلف زبانوں کا ماہر تو ہو سکتا ہے۔ اپنے ذہن ثاقب کی تیزی سے نحو و صرف، معانی و بیان، تاریخ و فلسفہ کا محقق تو ہو سکتا ہے۔ لیکن قرآن حکیم کا مترجم بننا تو یہ اس کے اپنے بس کی بات نہیں۔ قرآن مجید کی ترجمانی کرنا، کلام الٰہی کے اصل منشا و مراد کو سمجھنا، آیات ربانی کے انداز کو پہچاننا، آیات محکمات و متشابہات میں امتیاز کرنا یہ صرف اس عالم دین کا کام ہے جس کا دماغ انوار ربانی سے روشن, اس کا قلب عشق مصطفیٰ ﷺ کا مدینہ اور اس کا ذہن بصیرت دینیہ کا حامل ہو۔ رہے وہ لوگ جو زبان و ادب، نحو و صرف، فلسفہ و تاریخ وغیرہ علوم کے فاضل ہونے کے باوجود باطل پرستی کےحامی و طرف دار ہیں توانھیں بارگاہ رسالت ﷺ سے قرآن مجید کی ترجمانی کے لیے تائید رحمانی کا کوئی حصہ نہ ملا، کیوں کہ علم قرآن ہی وہ کسوٹی ہے جس سے کھرے کھوٹے کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن فہمی ہی وہ معیار ہے جو علمائے حق و علمائے باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچتا ہے’’۔
(سوانح اعلیٰ حضرت ص ۳۶۵ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

اب تک کنزالایمان کا دنیا کی تقریباً دس زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ کنزالایمان کے علمی محاسن و معارف پر اب تک سو سے زائد کتب و رسائل و مقالات تحریر کیے جا چکے ہیں۔ عالمی جامعات میں بھی اس کو موضوع تحقیق بنایاجارہا ہے۔ ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی نگرانی میں ڈاکٹر مجیداللہ قادری نے کراچی یونیورسٹی سے ۱۹۹۳ء ‘‘کنزالایمان اور دیگر معروف قرآنی تراجم کا تقابلی جائزہ’’ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ جو ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی سے شائع ہو چکا ہےاور انڈیا سے بھی حال ہی میں طبع ہوچکا ھے۔ روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بریلی شریف سے لیڈی اسکالر "مس حامدہ” کے مقالۂ ڈاکٹریت ‘‘اردو نثر اور مولانا احمد رضا خاں’’ کے چوتھے باب میں کنزالایمان کی علمی و ادبی اہمیت پر ایک گوشہ شامل ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر غلام غوث قادری نے بھی اپنے پی ایچ ڈی مقالہ ‘‘امام احمدرضا کی انشاپردازی’’ میں کنزالایمان کی علمی و ادبی اہمیت کا تذکرہ کیا ہے۔

ڈاکٹر صابر سنبھلی نے کنزالایمان کی زبان و بیان میں انفرادیت اور لسانی خوبیوں پر تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ جو سہ ماہی افکار رضا میں قسط وار شائع ہو چکا ہے۔

دنیائے اہلسنت ممنون ہے علامہ محمد عبدالمبین نعمانی قادری کی کہ انھوں نے بڑی عرق ریزی اور شب و روز کی محنت سے کنزالایمان کی تصحیح کا کام انجام دیا ۔ ان کے اس تصحیح شدہ نسخے کی اشاعت "رضا اکیڈمی” مالے گاؤں نے کی اور اس کے بعد اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ لہٰذا تمام ناشرین کو چاہیئے کہ وہ اس جدید تصحیح شدہ ایڈیشن کو ہی شائع کریں۔

کنزالایمان حقائق و معارف کا امنڈتا ہوا سمندر ہے۔ برصغیر ہندوپاک کے بے شمار ارباب علم و دانش نے کنزالایمان کی انفرادیت، جامعیت، ادبیت، معنویت، زبان وبیان کی چاشنی اور سلاست و روانی اور متعدد خوبیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جو تاثرات رقم فرمائے ہیں وہ ہدیۂ قارئین ہیں:

🔹 حضور محدث اعظم ہند
‘‘علم قرآن کا اندازہ اگر صرف اعلیٰ حضرت کے اس ترجمے سے کیجیے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی کوئی مثال سابق نہ عربی زبان میں ہے نہ فارسی میں ہے اور نہ اردو میں اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ پر لایا نہیں جا سکتا۔ جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر درحقیقت وہ قرآن کی تصحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن ہے۔ اس ترجمہ کی شرح حضرت صدرالافاضل استاذ العلماء مولانا شاہ نعیم الدین صاحب مراد آبادی علیہ الرحمہ نے حاشیہ پر لکھی ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ دوران شرح میں کئی بار ایسا ہوا کہ اعلیٰ حضرت کے استعمال کردہ لفظ اٹل ہی نکلا۔ اعلیٰ حضرت خود شیخ سعدی کے فارسی ترجمہ کو سراہا کرتے تھے لیکن اگر حضرت سعدی اردو زبان کے اس ترجمے کو پاتے تو فرما ہی دیتے کہ ترجمہ قرآن شے دیگر است وعلم قرآن شے دیگر است’’۔ (المیزان، امام احمدرضا نمبر، ممبئی ۱۹۷۶؁ءص۲۴۵)

🔹 محبوب ملّت محمد محبوب علی خاں
‘‘یہ ترجمہ (کنزالایمان) اس نائب رسول، عالم دین، مفتی شرع متین، ماہر شریعت، واقف طریقت، مجدداعظم دین وملت کا ہے جس کو مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے اکابر علمائے کرام و مفتیان عظام نے اپنا مقتدا و پیشوامانا۔ جس کو اس صدی کا مجدد تسلیم کیا۔ جس سے حدیث شریف کی سندیں لیں۔ اور ان سندوں پر فخر و مباہات فرمایا اور جن سے شرف بیعت حاصل کیا۔ وہ ہیں حضور پرنور مرشد برحق سیدنا اعلیٰ حضرت تاجدار اہل سنت مجدد اعظم دین و ملت شیخ الاسلام والمسلمین، تاج الفحول الکاملین، راس العلماالراسخین مولانا حافظ و قاری الحاج مفتی شاہ علامہ عبدالمصطفیٰ محمد احمد رضا خاں قادری، جن کا مبارک ترجمہ حق و صحیح ہے اور جس ترجمہ کا تاریخی نام ہے۔‘‘کنزالایمان فی ترجمتہ القرآن’’ یہی ایک ترجمہ ہے جو ایمان کو منور فرمانے والا اور دلوں کو چمکانے والا ہے’’۔ (دیوبندی ترجموں کا آپریشن، ص ۹۹ مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی)

🔹 مولاناسیّد شاہ محمد قائم رضوی چشتی ۔۔۔سجّادہ نشین آستانہ چشتیہ نظامیہ، داناپور، بہار ‘‘قرآن عظیم کاترجمہ اکثر زبانوں میں ہوا ہے اور ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایک ترجمہ نائب رسولِ اعظم امام احمد رضا قدس سرہ کا بھی ہے. ترجمہ کرنا خود ایک مستقل فن اور بڑا ہی نازک فن ہے۔ ایک ایک لفظ کا صحیح معنی و مفہوم، محل استعمال و سیاق وسباق، شان نزول، مطلب و روئے سخن، ہمہ گیری کا پوری احتیاط کے ساتھ سمجھنا اور سمجھانا منزل ادق و دشوار ہے۔ اور تراجم سے اس ترجمہ کا مقابلہ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت نے جس عالمانہ و محققانہ انداز میں پوری جزرسی وانسانی نفسیات کی کامل آگاہی کے ساتھ فن ترجمہ کی صبر آزما منزل کو طےکیا ہے، وہ کچھ آپ ہی کا حصہ ہے۔ اب تو بیرونی یونیورسٹیاں بھی اس طرف متوجہ ہو رہی ہیں۔ اس ترجمہ میں جو احتیاط کی گئی قابل قدر ہے’’۔ (المیزان،امام احمدرضانمبر،ممبئی ۱۹۷۶ء،ص۳۵۵)

🔹 مولاناعبدالحکیم اختر شاہجہاں پوری
‘‘مسلمانو! اے شمع رسالت کے پروانو! اگرخدا نصیب کرے تو قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے صرف اور صرف کنزالایمان ترجمۂ قرآن ہی پڑھنا۔ قرآن کریم کا اردو میں یہی سب سے صحیح ترجمہ ہے۔ اردو کے باقی جتنے ترجمے ہیں ان میں سے اکثر ترجمے بے دینوں نے کیے ہیں اور انہوں نے بعض آیات کا ترجمہ منشائے ربانی کے خلاف کر کے مقدس شجر اسلام میں غیر اسلامی عقائد و نظریات کی قلمیں لگائی ہوئی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ آپ یا آپ کے گھر والے ان ترجموں کو پڑھ کر اپنی دولت ایمان کو ضائع کر بیٹھیں۔ ایمان کی حفاظت کے لیے بے ادبی و بےحرمتی سے مبرا ‘‘کنزالایمان’’ کو پڑھنا اشد ضروری ہے۔ کیونکہ یہ ترجمۂ قرآن تفاسیر معتبرہ کے عین مطابق ہے’’۔(سالنامہ معارف رضا، کراچی۲۰۰۳ء،ص۱۳۸)

🔹 مولانا عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ، پاکستان
‘‘حضرت بریلوی قدس سرہ نے ایک ہزار کے لگ بھگ تصانیف ارقام فرمائیں اور جس مسئلے پر قلم اٹھایا الم نشرح کر کے چھوڑا۔ ان تمام تصانیف کا سرتاج اردو ترجمۂ قرآن پاک ہے، جس کی نظیر نہیں ہے۔ اور اس ترجمہ کا مرتبہ اسی کو معلوم ہوتا ہے، جس کی اعلیٰ درجے کی تفاسیر پر نظر ہے۔ اس ترجمۂ مبارک میں مفسرین کا اتباع کیا گیا ہے۔ اور جن مشکلات اور ان کے حل مفسرین نے صفحات میں جا کر بمشکل بیان فرمائے ہیں اس محسنِ اہل سنت نے اس ترجمہ کے چند الفاظ میں کھول کر رکھ دیا ہے’’۔ (حیات مولانااحمدرضاخاں بریلوی از پروفیسر مسعود احمد، مطبوعہ ممبئی،ص۲۲،۲۱)

🔹 علامہ ارشدالقادری
‘‘عربی زبان پھیلے ہوئے معانی کو اپنے اندر سمیٹنے کی جو صلاحیت رکھتی ہے اردو زبان بہت حد تک اس سے محروم ہے لیکن اس زبان اور تعبیر پر امام احمد رضا فاضل بریلی علیہ الرحمۃ کی غیر معمولی قدرت ہی کہا جائے گا کہ اردو کی تنگ دامنی کے باوجود انہوں نے اپنے اردو ترجمے میں اختصار اور جامعیت کی نادر مثال قائم کی ہے۔ اختصار کاحال تو آپ حروف کو گن کر معلوم کر لیں گے لیکن جامعیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پورے کنزالایمان میں آیت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے انہیں عبارت میں ہلالین کا پیوند جوڑنے کی کہیں ضرورت پیش نہیں آئی۔ کیونکہ ترجمہ ہی اتنا جامع اور صاف ہے کہ وہ وضاحت کے لیے بہت کافی ہے’’۔ (تجلیات رضا، کنزالایمان کا مطالعہ تین رخ سے، ص ۵۳ مطبوعہ دارالکتب دہلی)

🔹 مولانا عبدالحکیم شرف قادری جامعہ نظامیہ، لاہور، پاکستان
‘‘قرآن کو سمجھنےکے لیے صرف عربی زبان، صرف ونحو، علم معانی، بیان، بدیع وغیرہ علوم میں مہارت کافی نہیں، تفسیر و حدیث، عقائد و کلام اور تاریخ و سیرت کا وسیع مطالعہ ہی کافی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اور صاحب قرآن ﷺ سے صحیح ایمانی و روحانی تعلق بھی ضروری ہے۔ اور ترجمہ نگاروں میں امام احمد رضا فاضل بریلی قدس سرہ العزیز ممتاز ترین مقام پر فائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پچاس سے زیادہ علوم میں حیرت انگیز مہارت عطا فرمائی تھی۔ وہ عارف باللہ بھی تھے اور صبغۃ اللہ سے مزین بھی۔ساتھ ہی آپ علیہ الرحمتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب اکرم ﷺ کی محبت میں فدا تھے۔ سرکار دوعالم ﷺ کے توسط سے ان کے دل پر فیوض الہیہ کی بارش ہوتی تھی۔ اسی لیے انھوں نے قرآن پا ک کا بے مثل اردو ترجمہ ‘‘کنزالایمان فی ترجمتہ القرآن’’ کے نام سے کیا۔ مخالفین کی سازشوں کی بنا پر بعض ممالک میں اس پر پابندی عائد کی گئی لیکن بحمداللہ اس کی خداداد مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کی مانگ سب تراجم سے زیادہ ہے’’۔ (کنزالایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی ص ۹؎،۱۰؎ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی)

🔹 علامہ اختر رضاخاں ازھری علیہ الرحمۃ
۔۔۔جانشین حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ ‘‘معترض بہادر یہ سنتے چلیں کہ امام احمد رضا کا وہ ترجمہ جسے انہوں نے اردو کے ترجموں کی بنا پر غلط بتایا تھا وہ علما کے نزدیک نہ صرف صحیح ہے بلکہ ایسا مشہور ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ تو وہ جو ہم نے کہا تھا کہ ہر غیر مشہور غلط نہیں ہوتا محض تنزل تھا اور اردو کے ترجموں کی ہی حد تک تھا نیز ان ارشادات کے پیش نظر ترجمۂ رضویہ کو دیگر تراجم پر فوقیت ظاہر جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے تو اس کے مقابل دیگر تراجم کو لاناجہل ہے۔ (دفاع کنزالایمان،مطبوعہ ادارسنی دنیا، بریلی شریف،ص۵۷)

🔹 علامہ سید محمد مدنی کچھوچھوی۔۔۔جانشین حضور محدث اعظم ہند ‘‘ان تمام مباحث کو بغور دیکھ لینے کے بعد امام احمد رضا کے ترجمے کی اہمیت کا اندازہ لگتا ہے کہ اس قدر طویل بحث وتمحیص کے بعد جو حقیقت سامنے آئی اس کو امام احمد رضا نے اپنے ترجموں کے مختصر سے فقروں میں سمو دیا ہے اور اس احتیاط سے یہ کام انجام دیا کہ نہ کسی اسلامی عقیدے پر آنچ آئی، نہ بارگاہ رسالت کے آداب میں کوئی فرق ہوا،نہ محاورے کی پیشانی پر کوئی شکن پڑی، نہ اصحاب تاویل کی روش پر ارشاد ربانی کے مقصود کا دامن ہاتھ سے چھوٹا، نہ اصولی اور لغوی حقائق سے روگردانی کی اورنہ ہی اولیائے کاملین اور اسلاف متقدمین کے راستےسے ہٹے۔بے شک ایں سعادت بزور بازونیست تانہ بخشدخدائے بخشندہ’’۔ (المیزان، امام احمد رضا نمبر، ممبئی ۱۹۷۶ء، ص ۹۸)

🔹 پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کراچی
‘‘وہ ایک باخبر، ہوش مند اور باادب مترجم تھے۔ ان کے ترجمے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے آنکھیں بند کر کے ترجمہ نہیں کیا بلکہ وہ جب کسی آیت کا ترجمہ کرتے تھے تو پوراقرآن، مضامین قرآن اور متعلقات قرآن ان کے سامنے ہوتے تھے، آپ کے ترجمۂ قرآن میں برسوں کی فکری کاوشیں پنہاں ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایسی نظر عطا فرما دے جس کے سامنے علم ودانش کی وسعتیں سمٹ کر ایک نقطہ پر آ جائیں۔ فی البدیہہ ترجمہ قرآن میں ایسی جامعیت کا پیداہوجانا عجائبات عالم میں سے ایک عجوب ہے’’۔ (‘‘چشم و چراغ خاندان برکاتیہ’’مشمولہ سالنامہ معارف رضا ،کراچی ۲۰۰۴ء،ص۸۷)

🔹 مولانایٰسین اختر مصباحی۔ ۔۔دارالقلم دہلی ‘‘کنزالایمان عظمت توحید کا محافظ ہے اور احترام انبیاو صالحین کا داعی بھی۔ کنزالایمان نے الفاظ قرآن کے پیکر کو سامنے رکھتے ہوئے روح قرآن کو بڑی حد تک اپنے اندر جذب کر لیا ہے۔کنزالایمان میں صحبت مفہوم و معنی بھی ہے اور حسن ترجمہ بھی۔کمال و جامعیت اس کا طرۂ امتیاز اور اختصار و سلاست اس کا خوبصورت زیور۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ کنزالایمان اردوزبان کے اندر صحیح معنوں میں موضح قرآن بھی ہے اور ترجمان قرآن بھی، تفہیم قرآن بھی ہے اور تذکیر قرآن بھی، تدبر قرآن بھی ہے اور بیان قرآن بھی، ضیاء قرآن بھی ہے اور انوار قرآن بھی، روح قرآن بھی ہے اور فیضان قرآن بھی، معارف قرآن بھی ہے اور محاسن قرآن بھی، نظم قرآن بھی ہے اور جمال قرآن بھی۔ اوراس کا بےمثال و باکمال مترجم ان عالمانہ صفات، مفسرانہ خصائص اور مومنانہ اوصاف و کمالات کا جامع ہے۔ جس کے بارے میں بڑے اعزاز وافتخار کے ساتھ یہ کہاجاسکتاہے کہ ؎ سالہادر کعبہ و بت خانہ می نالد حیات تازبزم عشق دانائے راز آید بروں مفتی محمد مطیع الرحمان رضوی ‘‘امام احمد رضا نے صدرالشریعہ مولاناامجد علی کی درخواست اور مسلسل اصرار پر ۱۳۳۰ھ مطابق ۱۹۱۱ء کو قرآن کریم کا اردو زبان میں فی البدیہہ ترجمہ کرایا۔ مگر دوسرے مترجمین کی طرح لغت دیکھ کر لفظ کے نیچے لفظ نہیں رکھا۔ جس سے تقدیس باری پر حرف آئے یا شان رسالت کا خون ہو بلکہ کلام الٰہی کے تمام ممکنہ مقتضیات کا لحاظ رکھتے ہوئے نہایت ہی پاکیزہ اور مقدس لفظوں میں صاف، سلیس اور شستہ ترجمہ کیا ہے’’۔ (امام احمد رضا حقائق کے اجالے میں، مطبوعہ الجمع المصباحی مبارک پور، ص۱۱)

🔹 مولانامحمدعبدالمبین نعمانی۔ ۔ ۔دارالعلوم قادریہ چریا کوٹ مئو یوپی ‘‘قرآن پاک کے تراجم تو بہت سے منظرعام پر آئے اور آرہے ہیں مگر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عشق وایمان میں ڈوب کر جو ترجمہ قرآن کنزالایمان اپنے خلیفہ و تلمذ صدر الشریعہ علامہ محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کے ہاتھوں قلم بندکرایاہے، وہ علوم و معارف اور عشق ومحبت کا گنجینہ ہے۔ اس کی سطر سطر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے علمی مقام و مرتبے کی سچی تصویر ہے۔ اس ترجمے کو دیکھنےکےبعددیگر تراجم پھیکے نظرآتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ ترجمہ ایک طرف اردو زبان و ادب کا شاہکار ہے تو دوسری طرف قرآن حکیم کی صحیح ترجمانی کا منہ بولتا ثبوت بھی اور ایجازبیانی میں بھی یہ ترجمہ قرآن اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بات بھی توجہ کے لائق ہے کہ آج پوری دنیا میں کوئی ترجمۂ قرآن کثرت اشاعت میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔طویل تفسیر ی مباحث کو چند لفظوں میں سمیٹ کر بیان کرنا بڑے کمال کی بات ہے اوریہ کمال اہل علم کو کنزالایمان میں جگہ جگہ بکھرا ملے گا’’۔ (امام احمدرضا اور ان کی تعلیمات، نوری مشن مالے گاؤں،ص۳)

🔹 مفتی ڈاکٹرمحمد مکرم احمد شاھی امام مسجد فتح پوری، دھلی ‘‘یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فاضل بریلوی علمی اور ادبی صلاحیتوں میں معاصرین اور متأخرین میں بہت اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان کے پایہ کا عالم نہ ان کے دور میں تھا نہ آج ہے۔ قرآن کریم کا محتاط اور جامع ترجمہ وہی عالم کرسکتا ہے جس عربی، فارسی اور اردوزبانوں میں مہارت ہو، جو محاورات اور ادبی فصاحت و بلاغت سے خوب واقف ہو۔ جو سیرت پاک مصطفیٰﷺ سے باخبر ہو۔ جس کو علوم قرآنیہ کے ساتھ ساتھ فن حدیث پر بھی مکمل دسترس ہو ۔جو آیت کریمہ کے شان نزول اور اس وقت کے کوائف وحالات سے باخبر ہو۔ جس کے پاس عشق مصطفیٰ کا خزانہ ہو۔ جو مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ بین الخوف و الرجا لکھنے کا عادی ہو۔ جب ہم فاضل بریلوی کی حیات اور علمی مقام ومرتبہ کا جائزہ لیتے ہیں تو صرف وہ ہی مجمع الکمالات کے پیکر میں سامنےآتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ‘‘کنزالایمان’’ دنیا بھر میں مقبول ہے۔ نہ صرف عوام و خواص بلکہ ہر طبقۂ فکرکے علمااس سے استفادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں’’۔ (سہ ماہی افکا رضا ممبئی، جولائی تادسمبر۲۰۰۰ء،ص۱۱)

🔹 سیّد وجاھت رسول قادری ۔۔۔صدر ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا، کراچی ‘‘کنزالایمان، احادیث مبارکہ، صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اسلاف کرام کی تفاسیر کا نچوڑ ہے اور یہ کہ اس میں کوئی خلاف شرع یا خلاف اسلام موادنہیں ہے۔ یہاں ہم امام احمد رضاسے علمی اور مسلکی اختلافات رکھنےوالے علمااور اسکالرز سے بھی درخواست گزار ہیں کہ آپ علم و تحقیق کے میدان میں ذاتی بغض و عناد، گروہی حسد اور مسلکی تعصب کی عینک اتار کر ‘‘نگاہ عشق و مستی’’ کی ٹھنڈی روشنی میں‘‘کنزالایمان’’ کا مطالعہ کریں ان شاءاللہ آپ کو یہاں ‘‘ایمان’’کا بیش بہا خزانہ اورعشق مصطفویﷺ کی ‘‘دولت بیدار’’ ملے گی۔ امام احمد رضا محدث بریلوی کو ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہوکر علم کی کسوٹی پر پرکھیں۔ ان شاء اللہ ان کوکھراپائیں گے اور فکری اتحاد و یگانگت کی راہ پیدا ہوگی۔ جس کی آج ہمیں شدید ضرورت ہے۔‘‘دانش نورانی’’ کی روشنی میں ان کی شخصیت و تصانیف کا مطالعہ کریں ان شاء اللہ اندھیروں سے اجالوں میں آجائیں گے۔ اس لیے کہ نور بصیرت سے مزین مطالعہ اندھیروں سے اجالے کی طرف رہنمائی کرتا ہے’’۔ (سہ ماہی افکار رضا، ممبئی جولائی تا دسمبر۲۰۰۰ء،ص۱۴)

🔹 ڈاکٹرمجید اللہ قادری
‘‘امام احمدرضا بریلوی کے ترجمہ قرآن کا ایک امتیازی پہلو دیگرمعروف اردو قرآنی مترجمین کے مقابلے میں یہ ہے کہ جو جامعیت، معنویت اور مقصدیت قرآن کے کلمات میں پوشیدہ ہے اس کی مکمل جھلک امام موصوف کے ترجمے میں نمایاں ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ مترجم کے ذہن میں وہ تمام تفاسیر، لغوی معنی، اس کے متعلق احادیث مبارکہ اور اقوال صحابہ موجود ہوں۔ اورساتھ ہی ساتھ قوت حافظہ بھی اتنا قوی ہو کہ وہ کمپیوٹر کی طرح کام کرے، جس طرح کمپیوٹر کا بٹن دبا کر مطلوبہ معلومات(Information) یکجا طور پر ایک ہی نظرمیں اسکرین پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح مترجم کا ذہن بھی اتنا قوی اور فعال ہو کہ فوراً ان تمام کلمات کے مقامات کو یکجا کرکے اور ان کی جامعیت، معنویت اور مقصدیت کے پیش نظر ایسے الفاظ کا انتخاب کرے کہ ترجمہ میں کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہے اور نہ عبارت میں کوئی جھول۔ حقیقت میں بلاامتیاز اگرامام احمد رضا کے ترجمہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوگاکہ یہ ترجمہ تفاسیراور لغات کی مستندکتب کی عکاسی کرتا ہے’’۔ (کنزالایمان اور معروف قرانی تراجم، ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی، ص۵۳۲،۵۳۱)

🔹 ڈاکٹر صابر سنبھلی
۔۔۔صدر شعبۂ اردو ایم۔ایچ (پی جی) کالج مرادآباد ‘‘یہ ترجمۂ قرآن امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا مسلمانوں کے لیے عمدہ تحفہ ہے۔ عام طور سے یہ بات بھی لوگوں کو معلوم نہیں کہ اس ترجمے کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ جو لوگ امام احمد رضا کی تصنیفی اور خاص کر فتاویٰ نویسی کی مصروفیات سے واقف ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے پاس وقت کی کتنی کمی تھی۔ ان کے عزیز شاگرد و صدرالشریعہ مولانا امجدعلی اعظمی مصنف بہار شریعت چاہتے تھے کہ اگر امام احد رضا قرآن کریم کا اردو ترجمہ کردیں تو وہ ان کے علم و فضل اور عشق رسولﷺ کی وجہ سے ایک لاثانی ترجمہ بن جائے گا۔ انہوں نے اس کے لیے کئی بار فاضل بریلوی سے عرض کیا لیکن باوجود وعدوں کے اس کے لیے وقت نہیں نکل سکا۔آخریہ طے پایا کہ صدرالشریعہ دوپہر کو قیلولہ کے وقت یا رات کو سوتے وقت فاضل بریلوی کے پاس پہنچ جایا کریں اور ایسا ہی ہوا۔ ترجمہ کا طریقہ یہ رہا کہ صدر الشریعہ آیات قرآن پڑھتےجاتےاور آپ علیہ الرحمتہ ان کا ترجمہ املاکراتے جاتے۔ مترجم کے پاس نہ تفاسیر قرآن دیکھنے کی فرصت تھی، نہ ترجمہ کی زبان پر نظر ثانی کرنے کا وقت، چاہیے تھا کہ ایسی رواداری(بلکہ بھاگ دوڑ) میں کیا گیا ترجمہ معمولی ترجمہ ہوتا، لیکن یہ مترجم علیہ الرحمہ پر اللہ رب العزت کا کرم خاص تھا کہ یہ ترجمہ اردوتراجم میں شاہ کار ہوگیا۔ یہ کام۱۳۳۰؁ ھ مطابق ۱۹۱۲ء؁ء میں مکمل ہوا’’۔ (سہ ماہی افکار رضا،ممبئی جولائی تا دسمبر۲۰۰۰،ص۱۶)

🔹سید صابر حسین شاہ بخاری* *
‘‘یوں تو قرآن کریم کے کئی تراجم ہیں لیکن اعلیٰ حضرت بریلوی علیہ الرحمتہ کے ترجمہ ‘‘کنزالایمان’’ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کی اشاعت کئی لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔اسے کئی زبانوں میں بھی منتقل کردیا گیاہے۔اس کے محاسن پر درجنوں مقالات منظر عام پر آچکے ہیں۔ اس کی مقبولیت کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ عشق مصطفیٰ ﷺ میں ڈوب کر لکھا گیا ہے’’۔(سہ ماہ افکار رضاممبئی، جولائی تاستمبر۱۹۹۹ء،ص۴۲)

🔹 مولانا رضا المصطفیٰ اعظمی
۔۔۔مھتمم المجدد احمد رضا اکیڈمی کراچی ‘‘یوں تو آپ کے علمی کارناموں کی تفصیل بڑی طویل ہے لیکن ان میں سب سے بڑا علمی کارنامہ ترجمۂ قرآن مجید ہے۔ ترجمہ کیا ہے قرآن حکیم کی اردو میں ترجمانی ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائےکہ آپ کایہ ترجمہ الہامی ترجمہ ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ اعلیٰ حضرت نے جملہ مستندومروج تفاسیر کی روشنی میں قرآن حکیم کی ترجمانی فرمائی ہے۔ جس آیت کی وضاحت مفسرین کرام کئی کئی صفحات میں فرمائیں۔ مگر اعلیٰ حضرت کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی عنایت فرمائی کہ وہی مفہوم ترجمہ کے ایک جملہ یا ایک لفظ میں ادافرمایا۔ قلیل جملہ کثیر مطالب اسی کو کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کے ترجنے سے ہر پڑھنے والے کی نگاہ میں قرآن کریم کا احترام، انبیاعلیھم السلام کی عظمت اور انسانیت کا وقار بلند ہوتا ہے’’۔ (قرآن شریف کے غلط ترجموں کی نشاندہی، ص۴ مطبوعہ رضوی کتاب گھر بھیونڈی)

🔹 ڈاکٹر محمد ھارون
۔۔۔سابق استاذ آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ ‘‘امام احمد رضا نے رسول اکرم ﷺ پر کسی بھی طرح کی تنقید کرنے یا ان کی عظمت و کمال میں کوئی بھی شک پیدا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے مرتبہ وکمال کو گھٹانے والے وہابی تراجم قرآن کے مقابلے میں اردو زبان قرآن حکیم کا بہت ہی خوبصورت ترجمہ پیش کیا۔
(پیغام رضا کا خصوصی شمارہ مارچ ۲۰۰۷ء ،ص ۶۲)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے