گوشہ خواتین مذہبی مضامین

لڑکیوں کو پردے کا حکم! والدین کی ذمہ داری

تحریر: نصرت فاطمہ قادریہ (گریڈیہ) جھارکھنڈ

اولاد چاہے لڑکا یا لڑکی والدین کی ذمہ داری ہے کہ انکی اچھی تربیت کریں ۔۔۔۔

ضروری ہے کہ اپنے لڑکوں کو غیر محرم عورتوں پر نظر ڈالنے سے روکیں اور لڑکیوں کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم دیں کیونکہ فطری طور پر عورتوں میں مردوں کیلئے اور مردوں میں عورتوں کیلئے رغبت رکھی گئی ہے۔ جب وہ بے پردہ عورت کو دیکھتا ہے تو رغبت کو پورا کرنے کیلئے اس کی طرف لپکتا ہے۔ آج کل کے اخبارات اس بات پر گواہ ہیں کہ بے پردگی کی وجہ سے کس طرح لوگ بے راہ روی کا شکار ہیں ۔اسلام نے اس برائی کے سدباب کیلئے 3 تدابیر اختیار کی ہیں:

کتابﷲ کی آیات اور سنتِ رسولﷲ کے مختلف ابواب میں ترغیبِ عفت اور تربیتِ نظر نہایت موثر اور بلیغ انداز میں موجود ہے۔ کہیں عفت و عصمت پر بہترین اجر و انعام کا ذکر ہے تو کہیں فحش کاری پر وعیدِ شدید۔
غیر شادی شدہ زانی کو 100 کوڑے مارنے اور شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کا انتہائی شدید ترین حکم (حدِ شرعی) ہے۔
غیر محرم مرد و عورت کی ایک دوسرے سے مکمل علیحدگی اور ان کے باہمی اختلاط پر دو ٹوک پابندی لگائی گئی ہے۔ اگر عورت کو گھر سے بہ وقتِ ضرورت باہر نکلنا اور اجنبی مردوں کے سامنے سے گزرنا پڑے تو وہ پردہ کرلے۔
پردہ کرنے کا حکم 5ھ میں نازل ہوا جبکہ رسول اللہ نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح کیا تھا۔ نبی اکرم نے اس وقت گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا اور حضرت انس بن مالکؓ کو جو اس سے پہلے بے دھڑک آپکے گھر میں آتے جاتے تھے، آپنے انھیں بلا اجازت داخل ہونے سے منع کر دیا۔ اس موقع پر نازل ہونے والی آیت یہ تھی:
’’جب ان (اُمہات المومنین) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو۔‘‘(الاحزاب53)۔

نظر بازی، زنا کاری کا پیش خیمہ ہے، اس لئے اسلام نے سب سے پہلے اس پر پابندی لگائی اور مرد و عورت دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی نظریں پست رکھیں اور اپنی عزت کی حفاظت کریں:
’’آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزگی ہے۔‘‘(النور30)۔
اور بالکل یہی حکم عورتوں کو بھی دیا گیا ہے:
’’آپ مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمتوں کی حفاظت کریں۔‘‘(النور31)۔

یہ حکم اس بات کا غماز ہے کہ نظرکی بے احتیاطی کا عصمتوں کی پامالی سے چولی دامن کا رشتہ ہے

اور مرد کی نگاہ ہوس ناک ہوتی ہے، اسی لئے اسے منع کیا گیا کہ وہ عورتوں کی طرف گھور گھور کر دیکھے۔ اچانک پڑنے والی نگاہ سے متعلق حضرت علیؓ سے مخاطب ہوکر نبی اکرم نے فرمایا:
’’اے علی! نظر پر نظر نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لئے (معاف) ہے اور دوسری تم پر (گناہ) ہے۔‘‘
عورت کی نگاہ کے متعلق رسول اللہ نے فرمایا:
’’آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔‘‘
مطلب یہ کہ آنکھوں کے راستے سے جو خوب صورت تصویر مرد کے دل میں اترتی ہے، دل اس کیلئے مچلنے لگتا ہے، دماغ اس کیلئے سازشیں کرتا ہے، آخر میں شرم گاہ کی باری آتی ہے۔ اگر وہ اس میں کامیابی پالے تو جو زنا اب تک مجازی تھا، وہ حقیقی روپ دھار لیتا ہے۔

لہذا پردے کا اہتمام لازمی ہے ۔۔۔۔
مولی تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاء گو ہوں اللہ تعالیٰ ہماری سب ماں بہنوں کو پردے کی توفیق بخشے اور فحش گناہوں سے محفوظ رکھے ۔۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وســلم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے