حضور خطیب البراہین

خطیب البراہین الشاہ صوفی نظام الدین رحمہ اللہ: حیات و خدمات

ولادت
ایک مشہور و معروف گاؤں اگیا پوسٹ دودھارا ضلع سنت کبیر نگر ( خلیل آباد) یوپی کی سرزمین 21؍رجب المرجب 1346ھ کو آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ والدین نے آپ کا نام محمد نظام الدین رکھا۔(علیہ الرحمہ)
وفات : یکم جمادی الاخری 1434 مطابق بروز جمعرات صبح آٹھ بجے آپ علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔(ان للہ وانا الیہ راجعون) 2 جمادی الاولی بعد نماز جمعہ آپ کی نماز جنازہ آپ کے حقیقی جانشیں اور محترم صاحبزادے حضرت العلام الحاج الشاہ محمد حبیب الرحمٰن صاحب مدظلہ العالی نے پڑھائی۔ اگیا ہی میں آپ مدفن ہوئے، آپ کی مزار زیارت گاہ ہر خاص و عام ہے۔

تعلیمی سفر
مقامی مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنی تعلیمی سفر کا آغاز دارالعلوم تدریس الاسلام بسڈیلہ بستی سے فرمایا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ اسلامیہ اندکوٹ میرٹھ کا رُخ کیا، وہاں پر ایک سال رہ کر اپنے روحانی مربی حضرت علامہ حاجی مبین الدین محدث امروہوی اور امام النحو حضرت علامہ غلام جیلانی میرٹھی علیھا الرحمہ سے اکتساب فیض کرتے رہے، پھر ہندوستان کی عظیم سنی درسگاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں داخلہ لیا اور اساتذہ اشرفیہ بالخصوص حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی بارگاہ فیض سے علم کی لازوال نعمتوں سے مالا مال ہوتے رہے اور حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ و حضرت سید محمد صاحب کچھوچھوی علیہ الرحمہ و دیگر اکابر علماء کے ہاتھوں آپ کو الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کی سند و دستار فضیلت عطا کی گئی۔

صوفی صاحب کا لقب
چونکہ آپ کی پرورش ایک اسلامی ماحول میں ہوئی تھی۔ اور آپ فطرتاً بھی اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ثابت ہوئے تھے، اس لئے آپ کو بچپن ہی سے لہوولعب، کھیل کود، ہنسی مذاق اور پھر دیگر خرافات طفلی سے شدید نفرت تھی اور طلب علم کی لگن کے ساتھ ساتھ ذوق عبادت اور تقویٰ و پرہیز گاری کے اوصاف جمیلہ کی طرف آپ کا میلان اس قدر شدید تھا کہ اس سے سر مو انحراف بھی آپ کو گوارہ نہیں۔
حضرت مولانا احمد علی صاحب مبارکپوری علیہ الرحمہ جو الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں دارالاقامہ کے نگراں تھے، کا بیان ہے کہ ’’میں جب فجر کی نماز کے لئے طلبہ کو بیدار کرنے جاتا تو مولانا نظام الدین (علیہ الرحمہ) کو ہمیشہ وضو کرتے یا وضو سے فارغ پاتا۔
آپ کی اتباع شریعت کا یہ جذبہ دیکھ کر آپ کے ہم سبق ساتھی اور علماء و اساتذہ کرام آپ کو صوفی کے لقب سے پکارنے لگے۔(اور آہستہ آہستہ یہ لقب اتنا مشہور ہوگیا کہ آپ کے نام کا جزء لاینفک بن گیا۔)
جس وقت آپ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں زیر تعلیم تھے اس وقت آپ نے حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں یہ عریضہ پیش کیا کہ حضور میرے ساتھی مجھے صوفی کہتے ہیں جبکہ میں اپنے کو اس کا مصداق نہیں سمجھتا۔ آپ ان لوگوں کو سمجھا دیں کہ اس طرح نہ کہیں، حافظ ملت علیہ الرحمہ نے آپ کو بغور دیکھا اور پرزور انداز میں ارشاد فرمایا :
’’جی ہاں ہم بھی آپ کو صوفی صاحب کہتے ہیں اور آپ ہیں اس لئے تو کہتے ہیں۔‘‘
(ماہنامہ اشرفیہ/محدث بستوی سنتوں کے آئینے میں، مئی ۲۰۱۳ء ،ص ۶)
سچ ہے۔۔۔

وی راولی می شناشد
ولی کو ولی پہچانتا ہے

خطیب البراہین کا لقب
آپ نے طالب علمی کے زمانے سے ہی خطاب فرمانا شروع کر دیا تھا، اور زندگی کی آخری سانس لینے سے تقریباً ۲؍۳ سال قبل تک تبلیغ کا یہ انداز جاری رہا، آپ کے بیان کا انداز اس اعتبار سے نرالا تھا کہ آپ عام مقرروں کی طرح صرف لفاظی، اور بیانی اور چیخ و پکار سے کام نہیں لیتے تھے بلکہ اپنی ہر بات قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال اور امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے اشعار سے مزین کرکے بڑے لطیف پیرائے میں پیش فرماتے تھے۔ اس طرح کہ قرآن کا حوالہ ہے تو آیت نمبر ، پارہ ، رکوع اور حدیث کا حوالہ ہے، تو کتاب کا نام، باب، صفحہ وغیرہ بیان کرنے کا التزام فرماتے تھے، ایک دعویٰ پر کئی کئی دلیلیں پیش کرتے، کبھی بھی بلا دلیل کوئی بات نہیں کہتے۔
آپ کے ہمعصر علماء و صلحا اور ادباء نے آپ کے خطاب میں دلائل و براہین کے انھیں امتیاز کو دیکھ کر آپ کو خطیب البراھین (یعنی دلیلوں کے ساتھ اپنی بات پیش کرنے والا مقرر) کے لقب سے ملقب کیا۔ یہ لقب بھی آپ کے نام کے ساتھ ایسا وابستہ ہوا کہ لفظ” خطیب البراہین” سنتے ہی ذہن صوفی صاحب کی ہی طرف مبذول ہوتا ہے، اور کیوں نہ ہو کہ آپ ہی اس کے حقدار ہیں۔
آج لوگوں نے تقریر کو بہت آسان سمجھ لیا ہے اور عام طور پر آج کل جس طرح تقریر کرنے اور سننے کا رواج بن گیا ہے وہ آسان ہے بھی۔ کیونکہ اس میں صرف یہ ہنر چاہئے۔ بلند آواز، چیخ و پکار، شور شرابا، چلا چلی وغیرہ ، لیکن جس اہتمام کے ساتھ حضور خطیب البراہین علیہ الرحمہ خطاب فرماتے تھے وہ کل بھی مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے۔ ظاہر سی بات ہے اپنی باتوں کو دلائل و براہین کے ساتھ مزین کرنا اسی کے بس کی بات ہے جو ان پر مضبوط گرفت رکھتا ہو۔ اور حضرت صوفی صاحب علیہ الرحمۃ نہ یہ کہ صرف ان پر مضبوط گرفت رکھتے تھے بلکہ دلائل و براہین کے اسرار و رموز پر بھی گہری نظر رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ کی تقریر عوام تو عوام بڑے بڑے علماء بھی پسند فرماتے تھے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور جیسی عظیم المرتبت شخصیت کی زبان بھی آپ کی تقریر کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان تھی۔
ایک بار امرڈوبھا کے اجلاس میں حافظ ملت علیہ الرحمہ مدعو تھے، جلسہ شروع ہوا تو حضرت اپنی قیام گاہ پر آرام فرماتھے، جب صوفی صاحب علیہ الرحمہ کی تقریر شروع ہوئی تو آپ بیدار ہوگئے۔ اسٹیج پر تشریف لے گئے، اور پیٹھ ٹھونک کر حیرت انگیز مسرت کا اظہار فرمایا اور بے پناہ دعائوں سے نوازا۔(ماہنامہ اشرفیہ مئی ۲۰۱۳ئ، ص ۷)

تدریسی خدمات
کل چھپن سال تک آپ نے مندرجہ ذیل اداروں میں تدریسی خدمات انجام دی۔
(۱) دارالعلوم اہلسنت فیض الاسلام مہنداول ضلع بستی
(۲) دارالعلوم اہلسنت شاہ عالم احمدآباد، گجرات
(۳) دارالعلوم اہلسنت فضل رحمانیہ پچپیڑوا گونڈہ (حال بلرام پور)
(۴) دارالعلوم اہلسنت تنویر الاسلام امرڈوبھا، بکھرہ سنت کبیر نگر
آخر الذکر ادارہ دارالعلوم اہل سنت تنویرالاسلام امرڈوبھا میں آپ کل پیتالیس سال تک بحیثیت شیخ الحدیث طالبان علوم نبویہ کو اپنا علمی و روحانی فیض پہنچاتے رہے۔ جن میں سے ریٹائر ہونے کے بعد بلا معاوضہ ۲۱؍سال تک بخاری شریف کا درس دیتے رہے۔

خشیت الٰہی
اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا اِنْ اَولیاؤہٗ اِلّاَ الْمتّقون۔اللہ کے ولی وہ ہیں جو اس سے ڈرتے ہیں۔ اور ارشاد فرماتا ہے "انما یخشی اللہ من عبادہٖ العلماء” بے شک اللّٰہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو ( زیادہ) علم والے ہیں
ان دونوں آیات کی روشنی میں جب ہم حضرت صوفی صاحب علیہ الرحمہ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی حیات کا ہر لمحہ خوف خداوندی سے لبریز تھا۔ بلاشبہ آپ اللہ رب العزت کے سچے ولی ہیں۔ اور عالمِ ایسے کہ بڑے بڑے علماء آپ پر قربان ہونا اپنے لئے باعث فخر تصور کرتے، آپ صحیح معنوں میں علماء کی اس صف میں تھے جن کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ ولسم نے ارشاد فرمایا، العلماء ورثۃ الانبیاء۔ علماء نبیوں کے وارث ہیں، سو آپ کے اندر خوف خداوندی کا پایا جانا فرمان خداوندی کی تصدیق تھی۔ آئیے مندرجہ ذیل واقعات کے ذریعہ اپنے دل کو جلا بخشتے ہیں۔
(۱) مولانا ادریس بستوی نائب ناظم الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور بیان کرتے ہیں:
صدر مدرس کا سرکاری عہدہ بساوقات مشکل پیدا کردیتا ہے ، مگر صوفی صاحب علیہ الرحمہ نے اپنے اس عہدہ کو اپنی صداقت، تقویٰ و طہارت میں حائل نہ ہونے دیا اور نہ ہی کسی ایسے کاغذ پر دستخط کیا جس کی سچائی میں ذرہ برابر بھی شک رہا ہو۔
بڑا ہی مشہور واقعہ ہے کہ آپ کے دور صدات میں انسپکٹر مدارس عربیہ اترپردیش کی آمد بغرض معائنہ دارالعلوم تنویرالاسلام امرڈوبھا میں ہوئی۔چونکہ وہ ایک خاتون تھیں اور حضرت صوفی صاحب کا کسی نامحرم عورت سے سامنا کرنا اور ہم کلام ہونا ناممکن تھا ارکان ادارہ اور سرکاری دفتروں میں آنے جانے والے حضرات کی زبردست کوشش تھی کہ حضرت ان سے بات کرلیں۔ مگر حضرت اس پر راضی نہ ہوئے، لوگوں نے کہا حضرت آپ کی ملاقات اور آنے والی افسر کی دل جوئی سے ادارہ کو بہت فائدہ ہوگا۔ تو حضرت نے فرمایا :
’’دین کو دے کر دنیا حاصل کرنے کی کوشش کرنا سب سے بڑا خسارہ ہے، اس لئے میں اس خسارہ کو منظور نہیں کرسکتا۔‘‘
یقینا یہ بڑی دشوار منزل تھی۔ اس مقام پر جہاں کسی افسر کی دل جوئی کا معاملہ ہو بڑے بڑے لوگوں کے حوصلہ پست ہوجاتے ہیں،لیکن ایسے عالم میں بھی حضرت صوفی صاحب کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ اور آپ نے شرعی قانون پر پورے اطمینان سے عمل کیا۔
(۲) ایک بار آ پ علیہ الرحمہ اپنی زمانہ طالب علمی میں اپنی کھیت گئے۔ اس وقت مٹر کی فصل تیار تھی۔ آپ ایک کھیت سے مٹر کی پھلیاں توڑنے لگے، اسی درمیان گائوں کے ایک شخص کا ادھر سے گذر ہوا، اس نے حضرت کو دیکھ کر کہا صوفی صاحب یہ آپ کا کھیت نہیں یہ تو تجمل حسین صاحب کا کھیت ہے، اتنا سننا تھاکہ خوف الٰہی سے آپ کے بدن پر لرزہ طاری ہوگیا اور آپ کے ہاتھ رک گئے، فوراً آپ گھر واپس آئے اور مالک کھیت کے گھر پہونچے، اس سے واقعہ بتاکر معافی مانگی اور بچی ہوئی مٹر کی پھلیاں واپس کردیں۔ کھیت کا مالک حضرت صوفی جو ابھی ایک چھوٹے بچے تھے کی خشیت الٰہی اور خوف خداوندی دیکھ کر حد درجہ متاثر ہوا اور بہت ساری دعائیں دی۔
اللہ رب العزت حضرت کے اس واقعے سے ہمیں نصیحت و عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آج تو معاملہ یہ ہے کہ پوری پوری جائداد غصب کرجاتے ہیں اور بدن کا ایک رونگٹا بھی خوف الٰہی سے نہیں کھڑا ہوتا۔
(۳) بکھرہ میں ایک بار آپ کچھ علماء کے ساتھ بھونو بھائی سلائی ماسٹر کی دکان پر تشریف لے گئے اور ان سے کہا کہ میرا یہ پوری آستین والا سوئٹر ہے، اسے پہن کر وضو بنانے میں دشواری ہوتی ہے، آپ اس میں چین لگا دو۔ حضرت انھیں سوئٹر دے کر علماء کے ساتھ دین کی باتوں سے مشغول ہوگئے، ادھر ماسٹر موصوف نے آستین چاک کیا اور اپنے کترن سے ایک سفید کپڑا نکال کر چین کے ساتھ سل دیا۔ کچھ دیر بعد حضرت نے فرمایا آستین بنادیجئے اب ہم چلیں گے ٹیلر ماسٹر صاحب نے کہا حضرت بن کر تیار ہے، اور سوئٹر آگے بڑھادیا۔ حضرت نے آستین دیکھا تو فرمایا یہ سفید کپڑا آپ نے کہاں سے لگادیا۔ عرض کیا! حضور کترن سے نکال کر لگا دیا؟ یہ سن کر حضرت کا چہرہ متغیر ہوگیا اور فرمایا، یہ تو بہت غلط ہوا آپ اسے فوراً نکال دیں۔ دوسرے کا کترن بلا اجازت میرے لئے کیسے جائز ہوسکتا ہے، اور پھر آپ نے کیڑے کی دکان سے ایک گرہ کپڑا خریدوا کر منگوایا پھر اسے لگا کر سوئٹر میں چین سلی گئی۔

ولی کامل

حضرت کا یہ کمال احتیاط اور تقویٰ دیکھ کر حاضرین حیران وششدر رہ گئے ، جی ہاں!تقویٰ کے یہی وہ انوکھے انداز ہیں کہ جب بندہ اس منزل پر فائض ہوجاتا ہے بندہ ہر کام میں اللہ و رسول کی رضا اور خوشنودی کا طالب ہو تو پروردگار دونوں عالم میں اس کا چرچا عام فرمادیتا ہے۔ اور اسے اپنا ولی اور محبوب بنا لیتا ہے۔ جیسا کہ خود اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا انّ اولیاؤہ الا المتقون۔اللہ کے اولیاء وہ ہیں جو تقویٰ والے ہیں۔
اور متقی وہی ہوسکتا ہے جو صاحب ایمان ہو۔ گویا ولایت کی دو بنیادی شرطیں ہیں:
(۱) ایمان اور (۲) تقویٰ
ان مذکورہ صفات کی روشنی میں جب ہم حضور خطیب البراہین علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ولایت کی تمام صفات آپ کی ذات میں بدرجہ اتم موجود ملتی ہیں۔ جن کی عوام تو عوام علمائے کرام اور پیران عظام نے بھی گواہیاں دی ہیں، یہی تو وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی مخلوق خدا نے بیک زبان انھیں زندہ ولی کا لقب دے دیا تھا۔
امام اہل سنت فرماتے ہیں۔

تیرے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا مہک سکے حور سراغ لے کے چلے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button