مذہبی مضامین

توہین رسالت اور بھارت کے مسلمان

ازقلم: مدثراحمد، شیموگہ کرناٹک

آئے دن دُنیا کےمختلف مقامات پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰﷺکی شان میں گستاخیاں کرنا ایک طرح سے شرپسندوںکا شیوہ بنتاجارہاہے اور اسے سستی شہرت کاراستہ بنالیاگیاہے۔توہین رسالت کے واقعات بھارت میں بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔آزادی کے بعد ان واقعات میں بے انتہاء اضافہ ہواہے۔ہر سال کسی نہ کسی ریاست میں کسی شرپسند سے توہین رسال کی واراتوں کو انجام دیاجارہاہے۔ان واقعات پر بھارت کے مسلمانوں میں ہمیشہ غم وغصہ رہاہے،کئی موقعوں پر تشددکی وارداتیں پیش آئی ہیں تو کئی موقعوں پر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں بھارت کے مسلمانوں نے احتجاج کیاہے۔یہ سلسلہ اس قدر سنگین ہوچکاہے کہ اب توہین رسالت کو باقاعدہ طو ر پر سستی شہرت کیلئے استعمال کیاجارہاہے اور مسلمان ان سستی شہرت کے بھوکوں کومزیدبڑھاوا اس طرح سے دے رہے ہیں کہ وہ اپنی حرکتوں کو دوہرانے سے گریز نہیں کررہے۔جب کوئی شخص کسی گناہ کو انجا م دیتاہے تو اس گنہگار کو سزا دینے کیلئے باقاعدہ طو رپر تھانوں میں شکایتیں کی جاتی ہیںا ور جو قانون دستیاب ہے اُس قانون کے مدِ نظرقصورواروں کوسزا دی جاتی ہے۔لیکن ہمارے یہاں اکثر دیکھاگیاہے کہ مسلمانوں نے توہین رسالت کی وارداتوں کے بعد ان معاملات پر قانونی کارروائیاں کروانے کیلئے مقدموں کا سہارا نہیں لیا،بلکہ میمورنڈم اور ریالیوں کا سہارالیکر صرف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے۔آزادی کے75 سال کے بعد درجنوں ایسے معاملات پیش آئے ہیں جس میں شرانگیزوں میں توہین رسالت کی ہے۔لیکن ان شرپسندوں کو آج تک سزانہیں ملی ہے،اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ بھارت میں توہین رسالت کے تعلق سے الگ سے قانون نہیں بناہے اورنہ ہی قانون بنانے کیلئے کبھی مسلمانوں کی طر ف سے الگ سے مطالبہ کیاہے،جس طرح سے سردی کے موسم میں گرم کپڑوںکی ضرورت کو محسوس کیاجاتاہے اورگرمی کے موسم میں ٹھنڈے کپڑوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ،اسی طرح سے مسلمانوں میں بھی توہین رسالت کے قانون کےتعلق سے اُسی وقت ضرورت محسوس کی جاتی ہے جب کوئی شرپسند اس مذموم کوشش کر جائے،باقی دنوں میں انہیں اس کا کوئی احساس ہی نہیں رہتا۔آزادی کے بعد نہ جانے کتنے وزیر اعظم اور کتنی حکومتیں مسلمانوں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچ رہی تھیں اور مسلمانوں کے حکم کی تعمیل ہورہی تھی اور ان کی ضروریات کوپوراکرنے کیلئے اندرا گاندھی،راجیو گاندھی،وی پی سنگھ اور دیوے گوڈاجیسے لوگوں نے ہمیشہ حامی بھری تھی،مگر ان کے پا س سے مسلمانوں نے سوائے قبرستانوں کیلئے فنڈس اور الیکشن کے موقعوں پر چند سکوں کے مطالبات کے علاوہ کبھی بھی توہین رسالت کے خلاف قانون بنانے کی پیشکش نہیں کی ہے۔اگر پیشکش کی بھی ہے تو وہ زبانی خرچ کے طو رپرکی گئی ہے نہ کہ قانونی طریقوں کو اپنا کر حکومتوں سے مطالبہ کیاگیاہے۔اب بھی وقت ہے کہ مسلمان سپریم کورٹ میں اس سلسلے میںپٹیشن دائرکریں کہ توہین رسالت کے تعلق سے قانون بنانے کیلئے وہ مرکزی حکومت کو احکامات جاری کرے،اس کے علاوہ قانون بنانے کیلئےہی صدرہند،وزیر اعظم،لوک سبھا وراجیہ سبھا اسپیکر کے سمیت دیگر مسلم و نام نہاد سیکولر اراکین پارلیمان کو مکتوب لکھیں کہ قانون بنانے کیلئے پیش رفت کی جائے۔دراصل یہ ذمہ داری مسلم پرسنل لاء بورڈکی ہےلیکن جس کچھوے کی رفتار سے ان کاکام ہورہاہے اس لئے مسلم پرسنل لاء بورڈسے اُمیدکرنا بیکارنظرآرہاہے۔اگرواقعی میں مسلم پرسنل لاء بورڈمیں کچھ حرارت باقی ہے تو وہ توہین رسالت کے خلاف قانون بنانے کیلئے حکومتوں اور حکمرانوں پر دبائوڈالیں۔جس طرح سے شاہ بانو کیس میں مسلم پرسنل لاء بورڈنے اپنا لواہامنواکرجائیدادکے تعلق سے قانون بنوایاتھا،اُسی طرح سے اسلام کی بنیاد ،مسلمانوں کی جان،کائنات کی رحمت اور سردارِ انبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺکی توہین کرنے والوں کوسزا دلوانے کیلئے قانون بنانے کا مطالبہ کیاجائے۔بھارت میں دلتوں وپسماندہ طبقات کے تحفظات و بقاء کی خاطر جس طرح سے اٹراسٹی ایکٹ موجودہے،اُسی طرز پر مسلمان بھی مطالبہ کریں کہ توہین رسالت کرنے والے قصورواروں کو فوری گرفتاری،غیر ضمانتی اور زیادہ سزاوالے قانون کو علیحدہ بنایاجائے۔اگر یہ کام اب شروع کیاجائیگا تو اس کا اثر اگلے پانچ دس سالوں میں ہوگا اور اس کیلئے ابھی سے تیاری کرنی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے