سیاست و حالات حاضرہ

اتر پردیش کی سیاست اور مدرسہ فیکٹر

چالیس سال ووٹ اور صرف 10 ہزار نوکریاں دے کر مسلمانوں پر 10 لاکھ احسانات لادنے والی سیکولر پارٹیوں کا تنقیدی تجزیہ کرتی ایک تحریر

تحریر:محمد زاہد علی مرکزی( کالپی شریف)
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی

اتر پردیش دیش کی سیاسی راجدھانی ہے اور یہاں مسلمانوں کا سیاست پر خاصہ اثر پایا جاتا ہے لیکن یہ اثر صرف سیکولر پارٹیوں کے لیے ہی ہوتا ہے، نہ مسلمان کچھ اپنے لیے سوچتے ہیں اور نہ ہی انھیں کچھ ملتا ہے اور نہ ہی آج تک اپنی قیادت کا شعور بیدار ہوا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ہونے نہیں دیا گیا – آخر مسلمان اس درجہ غیر مسلم سیکولر پارٹیوں پر بھروسا کیوں کرتے ہیں؟ اور اپنی قیادت کو کیوں نہیں ووٹ کرتے آج اپنی اس تحریر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
_ یو پی میں امداد یافتہ دینی مدارس کی کل تعداد 560 ہے ۔ان مدارس کے کل ملازمین کی تعداد 9514 ہے، امداد یافتہ دینی مدارس کے علاوہ یو پی مدرسہ بورڈ سے تسلیم شدہ دینی مدارس کی کل تعداد 19213 ہے – یہ مدارس صوبے کے دور دراز علاقوں تک پھیلے ہوے ہیں، بندیل کھنڈ جیسے پچھڑے علاقے میں بھی مدارس کی کثرت نے مجھے حیرت-زدہ کردیا ، مدرسہ پورٹل پر صرف جالون کے پچاس مدرسے رجسٹرڈ ہیں جنھیں حکومت سے مدرسہ ” ادھنیکرن” اسکیم کے تحت تین مدرسین کی تنخواہ ملتی ہے، کتنے چل رہے ہیں کتنے کاغذوں پر ہیں یہ ایک علاحدہ موضوع ہے لہٰذا اس پر کبھی اور گفتگو ہوگی، ابھی ہم مدرسہ فیکٹر پر نظر ڈالتے ہیں۔

کیا ہے مدرسہ فیکٹر اور کتنا ہے اثر

2016-2015 کی بات ہے جب میں بی ایس پی کے ایک قد آور مسلم لیڈر سے ملا تھا، ضلع ہمیر پور سے کم از تیس پینتیس علما ائمہ کرام کا ڈیلی گیشن تھا، جناب لیڈر صاحب نے پورے ضلع کے ائمہ، با اثر علما، مساجد کے صدور کی تفصیلات طلب کی تھیں، جو بھائی ہم سب کو لے کر گیے تھے وہ قصبہ سمیر پور (بھروا، ہمیر پور) کے تھے، جب ہم وہاں پہنچے تو نیتا جی کچھ دیر بعد تشریف لائے اور بڑی گرم جوشی سے ملے، بات شروع ہوئی سارا ڈیٹا پیش کیا گیا، بعدہ نیتا جی ہم سے مخاطب ہوے اور بولے، حضرات! آپ لوگوں سے ملاقات کی وجہ سے میں نے آج دوسرے لوگوں کی میٹنگیں کینسل کردی ہیں، وجہ صاف ہے اگر میں اور لوگوں سے ملتا تو وہ کتنے ہوتے؟ سو دو سو بس، لیکن آپ میں کا ہر ایک شخص ایک ہزار یا پانچ سو کے برابر ہے، لہذا میں نے آپ کو اہمیت دی، اس وقت میں محض 30 یا 35 لوگوں سے نہیں بلکہ تیس پینتیس ہزار لوگوں سے مل رہا ہوں، آپ کی پہنچ ہر گھر تک ہے، ہمارے پاس پورے اتر پردیش کی مساجد کے ائمہ کرام اور مساجد، مدارس کے منتظمین کے نمبر موجود ہیں، ہم سب سے ملاقات کر رہے ہیں اور آپ لوگوں کی طاقت سے ہی اس بار ہم سرکار بنانے جا رہے ہیں – ہم نے ہمیشہ آپ لوگوں کا خیال رکھا ہے، جب ہمارے زمانے میں منشی مولوی کے امتحانات ہوتے تھے آپ کو بہت سکون تھا ہم سب کچھ ہونے دیتے تھے تاکہ آپ آگے بڑھ سکیں۔
اس تقریر کے بعد انھوں نے کہا اب بتائیے آپ لوگ کیا کہنا چاہ رہے ہیں، میں نے کہا آپ مدرسہ بورڈ میں کالا بازاری بند کرانے کی کوشش کریں ، اس طرح تو نا اہل لوگ امتحان دے کر نوکری کر رہے ہیں اور مولوی بے چارے بیٹھے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں آسانی نہیں چاہیے اگر اس طرح پاس بھی ہوگیے تو کل قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے ہم کسی لائق نہیں رہیں گے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں ہم یا ہمارے بچے کہیں کے نہ رہیں گے، ہمارے ہاتھ میں ڈگری کے نام پر صرف ایک کاغذ ہی ہوگا ، بقیہ کچھ علما نے بھی تایید کردی، نیتا جی اس غیر متوقع حملے کے لیے تیار نہیں تھے، لہٰذا بات ہضم کرتے ہوئے موضوع ہی بدل دیا، اتنا ضرور کہا کہ آپ سے بات کریں گے۔
__یہ واقعہ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کہ بظاہر تعداد میں کم دکھنے والے 560 مدارس کے قریب دس ہزار مدرسین اور بے وقعت سمجھے جانے والے ہزاروں ائمہ کرام کو اتر پردیش کی سیاست میں کیسے استعمال کیا جاتا ہے یہ آپ نے بخوبی سمجھ لیا ہوگا۔

40 سال ووٹ اور 10 ہزار نوکریاں

آپ دیکھتے ہونگے جیسے ہی الیکشن قریب آتا ہے اتر پردیش کی دونوں پارٹیاں پورا زور علما پر لگا دیتی ہیں، دونوں پارٹیاں کچھ علما کو یہ کام سپرد کرتی ہیں کہ تمہیں علما، ائمہ کو لالی پاپ دینا ہے اور ان کی سننا ہے، جو وہ کہیں اس پر ہاں کرتے رہو چناؤ بعد نہ تم کو ان سے ملنا ہے اور نہ ہم کو، نیتا جی من ہی من میں یہ بھی کہتے ہیں ملنا تو ہمیں تم سے بھی نہیں ہے، بس چناؤ تک تمہیں برداشت کرنا ہے، پھر پانچ سال تم ہم سے ملنے کے لیے اجازت ہی لیتے رہوگے۔
چونکہ ائمہ، علما مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں تو یہ سیاسی لوگ بڑی آسانی سے انھیں جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی موڑتے رہتے ہیں، سیاسی شعور بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اور آسانی ہو جاتی ہے، زندگی بھر اساتذہ کے سامنے سر نہ اٹھانے والی یہ قوم کسی بھی جبہ قبہ والے بہروپیے کو دیکھ کر خود ہی ادب کا پتلا بن جاتی ہے، لہذا پر بات پر "امنا، صدقنا” ہی نکلتا ہے- اور ہوشیار لوگ ان سادہ دل بندوں کو بطور کٹھ پتلی نچاتے رہتے ہیں، کتنی احمقانہ بات ہے کہ ہم صرف 100 پچاس مدرسوں کے ایڈ کے چکر میں پورے پانچ سال کے لئے اپنے بچوں، اپنی قوم کا مستقبل داؤں پر لگا دیتے ہیں، پھر ان مدارس میں جیسے نوکری ملتی ہے اللہ کی پناہ! علما خوب جانتے ہیں۔

پچھلے 40 سالوں سے مسلمان اتر پردیش میں دونوں پارٹیوں کو ووٹ کر رہا ہے اور اس کا نتیجہ صرف دس ہزار ملازمتیں ہیں کیا یہ انصاف ہے؟ دونوں پارٹیوں میں سے کسی کی حکومت بنے انھیں کے سارے ٹھیکے ہوتے ہیں، انھیں کے پولیس افسران تھانہ انچارج ہوتے ہیں، ہر آفس میں وہی دکھتے ہیں، ہمارے علما صرف اپنی نوکری اور اپنے مدرسے کے لیے چند روپیوں کی خیرات لے کر قوم کا مستقبل بیچ دیتے ہیں، ابھی تک کوئی آپشن نہیں تھا لیکن آج آپشن ہے علما کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا فائدہ اہم ہے یا قوم کا؟ چار سال بعد اگر آپ کو کوئی درجہ دے بھی دیا تو اس لیے کہ اگلے چار سال آپ کے کندھوں پر ہی سوار ہونا ہے، ایک قوم کے لوگ ہر آفس میں ملیں گے لیکن ہم صرف مدرسوں میں ہی خوش ہوجاتے ہیں۔

اب حصے داری کا وقت ہے

جب کوئی بھی سیاسی لیڈر مسلمانوں کا نام تک نہیں لے رہا، اسٹیج پر جگہ نہیں مل رہی ایسے میں پھر انھیں کے ساتھ بنے رہنا سمجھ سے پرے ہے، علما کو چاہیے کہ کھل کر مجلس اتحاد المسلمین کا سپورٹ کریں اور کم از کم 30 چالیس نشستوں پر مجلس کو کامیاب کریں، پھر دیکھیے 18 فیصد ریزرویشن بھی ملے گا اور عزت بھی ملے گی۔
اگر ہم حصے داری کی لڑائی لڑیں اور حکومت میں حصے دار بن جائیں تو پھر 100 مدرسے نہیں ایک ہی بار آپ کے پانچ سو مدرسے ایڈ بھی ہونگے اور ہر شعبے میں ترقی بھی کریں گے، علما خود سیاست کو سمجھیں اور لوگوں کو بھی سمجھائیں کامیابی اپنوں کو اٹھانے میں ہے نہ کہ دوسروں کی دری بچھانے میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے