بین الاقوامیمراسلہ

حضرت علامہ ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب رشین اسلامک یونیورسٹی قازان میں

ازقلم: محمد طیب علیمی

بلغار اسلامک اکیڈمی کے زیر اہتمام انعقاد پذیر تین روزہ عالمی کانفرس سے فراغت کے بعد دار العلوم علیمیہ، جمدا شاہی، بستی کے صدر المدرسین حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم الجامعة الإسلامية الروسية کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق شین حفظہ اللہ کی دعوت پر اس وقت جمہوریہ تتارستان کے اہم شہر قازان میں تشریف رکھتے ہیں اور قازان شہر میں واقع الجامعة الإسلامية الروسية میں مسائل و أحكام العبادة في زمن فيروس كرونا کے موضوع پر لیکچر دے رہے ہیں۔

یورپی مسلمان اور بالخصوص اہل روس بھاری تعداد میں زمانۂ قدیم سے ہی مذہب حنفی کے پیروکار ہیں اور مذہب و ملت کے حوالے سے بڑے مخلص اور غیور واقع ہوئے ہیں۔ یہاں عہد بعہد عبقری علما اور ائمہ کی معتد بہ جماعت اپنے وسیع و عریض علمی، دینی اور سیاسی و سماجی کارناموں سے امت کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتی رہی ہے ۔

روس میں کمیونزم کے تسلط کی وجہ سے وہاں کے اہل اسلام تقریباً سات دہائی تک انتہائی سراسیمگی اور خوف و دہشت کے عالم میں تھے، کوئی ان کا پرسانِ حال نہ تھا، اسلامی شعائر مٹائے جا رہے تھے، ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، مذہب اسلام پر سخت پابندی تھی۔ روسی مسلمان ساری دنیا سے کٹے ہوئے تھے، اپنے وطن ہی میں اجنبی تھے۔ البتہ یہ جیالے اپنے گھروں کے اندر کمالِ رازداری اور احتیاط کے ساتھ اسلام کی شمع جلائے ہوئے تھے اور اسلامی تعلیمات سے اپنی نسلوں کو بہرہ ور رکھنے کی ہر ممکن تگ و دو کرتے رہتے تھے۔ اس پورے عرصے میں روسی عام مسلمان، علما، مشائخ اور ائمہ نے عزم و ہمت کی چٹان بن کر جس صبر و استقلال اور استقامت کے ساتھ اپنے دین اور وقار و تشخص کی حفاظت کی ہے بیشک وہ ایک قابلِ تقلید عمل ہے، اللہ رب العزت انہیں جزاے خیر مرحمت فرمائے۔

بیسویں صدی میں نوے کی دہائی میں جب روسی کمیونزم کا زور ٹوٹا اورجمہوریت کی فضا قائم ہوئی، تو پھر اسلام کا سورج اپنے آب و تاب کے ساتھ جگمگانے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے روس دوبارہ اسلامی شوکت کا ایک حسین مظہر بن گیا اور آج کی تاریخ میں صرف پچیس سے تیس سال کی مدت میں 1500 سے زائد نئی شاندار مساجد کی تعمیر ہو چکی ہے، یونیورسٹیز، کالجز، اکیڈمیاں، مدارس، معاہد اور دیگر ادارے ان پر مستزاد ہیں۔
2015 میں دبئی کی ایک عالمی کانفرس میں حضرت علامہ ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ تشریف لے گئے تھے، وہاں آپ کی ملاقات فضيلة الشيخ مفتي كامل حسين حفظه الله (مفتی اعظم جمہوریہ تتارستان) اور فضيلة الشيخ رستم علي تاتاري حفظه الله (نائب رئیس الجامعة رشین اسلامک یونیورسٹی قازان) سے ہوئی۔ تعارفی گفتگو اور تبادلۂ خیالات کے توسط سے باہمی رابطے استوار ہوئے۔ ان حضرات کی زبانی معلوم ہوا کہ روس میں جمہوری نظام کا بول بالا ہونے کے بعد وہاں کے اہل اسلام میں خوشیوں کا سماں بندھ گیا اور بڑی تیز رفتاری کے ساتھ عظمتِ رفتہ کی بازیابی کے لیے اقدامات اور کوششوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ اسی کے ساتھ دنیا کے مختلف گوشوں میں رہنے بسنے والے مسلمانوں سے باہمی تعلقات کے بیچ حائل دیوار بھی زمیں بوس ہوگئی، چنانہ ماہرینِ تعلیمات اور داعیانِ اسلام کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ایشیا اور بالخصوص بر صغیر سے علماے احناف کا تعاون کافی حد تک ہمیں سہارا دے رہا ہے۔

بر صغیر کے احناف کا نام آتے ہی آپ نے نوٹس لیا کہ ضرور یہ کوئی اور نہیں بلکہ دوسرے طبقے سے تعلق رکھنے والے وہی لوگ ہوں گے جو بڑی شطارت اور چیرہ دستی سے اپنے مشن پر لگے رہتے ہیں اور ماتریدیت، حنفیت پھر نقشبندیت اور چشتیت کا نام لیکر در پردہ وہابیت و اعتزال، اہانتِ اسلاف اور دیوبندی افکار کے بیج بوتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے جب اور تفصیل جاننے کی کوشش کی تو یہ خدشہ درست ثابت ہوا کہ واقعی وہی لوگ ہیں اور بہت ہی خاموشی کے ساتھ مضبوط منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اس لیے آپ تڑپ اٹھے اور ان کے توڑ کے لیے پریشاں خاطر ہو رہے تھے، چنانچہ آپ کسی مناسب موقع محل کی تلاش میں تھے کہ سبحان اللہ! رحمت خداوندی متوجہ ہوئی، اسی دوران ان حضرات نے آپ کے سوز دروں اور ملت کے تئیں آپ کی دردمندی، پھر آپ کے علمی قد اور عملی اقدامات کو دیکھتے ہوئے آپ سے بھی باہمی تعاون اور علمی و ثقافتی تعلقات استوار کرنے بات کی۔ بس کیا تھا من کی مراد مل گئی، دین متین کے اس مخلص خدمت گزار نے دین و ملت اور مسلک و مذہب کی خدمت کا یہ سنہری موقع غنیمت شمار کرتے ہوئے، اخوت اسلامی کے پیش نظر تعاونوا علی البر والتقوی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے بھروسے دوستی کا ہاتھ بڑھادیا۔

دبئی کانفرنس سے آپ کی واپسی کے بعد اسی سال 2015 میں ہی انہیں حضرات کی دعوت پر روس کا پہلا سفر ہوا۔ روس میں الجامعة الإسلامية الروسية قازان، تتارستان تشریف لے گئے۔ یہ یونیورسٹی 1998 میں قائم ہوئی ہے، اور روس میں اسلامی ثقافت و معارف کی نشاة ثانیہ کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس دورے میں آپ نے کانفرنس اور لکچر کی مصروفیات کے باوجود وہاں کے احوال اور زمینی حقائق کا بغور جائزہ لے کر کام کرنے کے طریقوں پر گہرائی سے نظر ڈالی اور اپنے طور پر خطوط کا ایک نظری خاکہ تیار کیا، جس کے مطابق آپ کی کوششیں جاری ہیں، اللہ تعالی کامیابیوں سے ہم کنار فرمائے۔

پہلے دورۂ روس سے واپسی کے بعد پھراسی سال ماہ دسمبر 2015 میں مذکورہ یونیورسٹی کی طلب پر آپ نے ہند سے دو لوگوں کا انتخاب کرکے روس بھیجا اور ساتھ ہی ساتھ وہاں کے حالات سے باخبر کرتے ہوئے، طریقۂ کار اور حکمت عملی کی تلقین فرمائی اور بار بار تنبیہ کی کہ اس زمین پر بہتوں کی نظر ہے؛ ایسے میں ہماری بڑی ذمہ داری ہے کہ زمین خالی نہ چھوڑیں، بہت ہی تدبر کے ساتھ میدان سر کرنے کی ضرورت ہے۔

قازان (روس) بھیجے گئے مذکورہ بالا دونوں لوگوں میں ایک حضرت علامہ مولانا نور الحسن خان نعیمی ازہری (پرنسپل دار العلوم فضل رحمانیہ، پچپڑوا، بلرام پور) تھے اور دوسرا میں راقم الحروف محمد طیب بلرام پوری (دار العلوم علیمیہ، جمدا شاہی، بستی)۔ دونوں کو علی الترتیب "العقيدة الإسلامية والتيارات الفكرية الهدامة” اور "الفقه الحنفي و أصوله” کے موضوع پر سولہ سولہ لیکچر دینے تھے۔ جب ہم لوگ وہاں پہنچے اور کام کرنے لگے تو ہمیں احساس ہوا کہ حضرت مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم نے کتنی جگر کاوی کی ہوگی یہاں کی زمین ہموار کرنے کے لیے۔

وہاں کچھ ایسے علما اور ائمہ سے ہماری ملاقات ہوئی جو ایک طویل عرصے کے بعد جمہوری نظام قائم ہونے کے طفیل پہلی بار اپنے ملک سے باہر جا کر باضابطہ طور پر سند یافتہ علما کی حیثیت سے واپس آئے تھے۔ یہ لوگ بخارا پڑھنے گئے تھے۔ ان کی اولیت کا لحاظ کرتے ہوئے سبھی لوگ ان کا حد درجہ احترام کرتے تھے، ان میں دو لوگ کافی اہم تھے: شیخ سلیمان اور شیخ عبد اللہ (نائب مفتی جمہوریہ تتارستان)۔ ان کے بعد بہت سے لوگ ازہر شریف، مصر اور دیگر ممالک اسلامیہ سے دولت علم لے کر آئے اور کام کر رہے ہیں۔

مگر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا کہ اس وقت یہاں جماعتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت کے کارندے بہت ہی تندہی سے سرگرم عمل ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے کسی مخصوص عقیدے یا جماعتی فکر و نظریے کی بھنک بھی نہیں لگنے دیتے، بس ایک مخلص سنی حنفی کے طور پر خود کو پیش کرتےہیں۔ پھر حیرت بالاے حیرت ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لوگ روسی جوانوں کی ایک معتد بہ تعداد کو پاکستان کے دیوبندی اداروں میں لاکر تعلیم دلوا کر فارغ التحصیل کراچکے ہیں اور وہ فارغین میدانِ عمل میں کام بھی کر رہے ہیں، جس کا اولین اثر یہ ہے کہ وہ فارغین اور ان کے زیر اثر لوگ علماے دیوبند کے پکے معتقد ہیں اور ایسے کہ ان کے خلاف کچھ سننے تک کو قطعاً روادار نہیں، کیوں کہ روس کی بھولی عوام جو ستر سالوں تک دنیا سے کٹی رہی اسے جدید حالات سے آگاہی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ دیوبند کو کوئی فکری مکتب یا نظریاتی ادارہ نہیں سمجھتے ہیں، بس ایک بڑے اسلامی تعلیمی ادارے کے طور پر جانتے اور مانتے ہیں۔

البتہ ہمارے مشاہدے اور ادراک و اندازے کے مطابق دیوبندی لوگ اندر ہی اندر فکری کاشت کاری بھی کرنے لگے ہیں، اس بارے میں ہمیں شبہ اس طور پر ہوا کہ عبد العزیز نامی ایک روسی نزاد بائیس پچیس سالہ نوجوان ہم لوگوں کے پاس بلاضروت اور بے وجہ آتا جاتا رہتا تھا، حالاں کہ وہ ہم لوگوں سے بالکل غیر متعلق شخص تھا، کیوں کہ ہمارے متعنیہ پروگرام اور شیڈیول کے اعتبار سے ہماری ضروریات کے لیے دو لوگ مختص تھے، ان کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی تیسرے شخص کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نوجوان کو دیکھ کر ہمیں شکوک و شبہات ہوئے اور اس پر گہری نظر رکھنے لگے اور محتاط ہوگئے۔ اسے بہت اچھی تو نہیں مگر ہلکی پھلکی اردو آتی تھی، وہ موقع بموقع ہم لوگوں سے بات کرتا اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا، لیکن ہم اسے سمجھ رہے تھے، اس لیے صرف اسلوبِ حکیم کے مطابق جواب دیتے تھے۔ وہ بہت کوشس کرتا کہ ہم سے اردو زبان میں بات کرے، لیکن ہم عربی ہی میں بات کرتے۔ شاید وہ اردو کا سہارا لے کر ہم سے ایسی باتیں کرنا چاہتا تھا جنہیں دوسرے موجودین نہ سمجھ سکیں۔ ہم نے اپنے میزبانوں سے اس نوجوان کے حال کا تذکرہ کیا، انہوں نے بھی احتیاط برتنے کی تاکید کی اور وہ چاہتے ہوئے بھی اسے صاف صاف منع نہ کرسکے۔

ہمیں پتہ چلا کہ وہ نوجوان کوئی عام شخص نہ تھا، بلکہ کراچی کے ایک دیوبندی ادارے کا فارغ التحصیل اور تربیت یافتہ تھا جو قازان کی ایک مسجد میں خطیب و امام اور مدرس تھا۔ اس کی حرکات و سکنات سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دیوبندی علما کے زیر اثر اور ان کا آلۂ کار تھا اور ہو نہ ہو انھوں نے ہی اسے تحصیل اخبار و احوال کے لیے ہمارے ارد گرد تعینات کیا تھا۔ واللہ اعلم۔

ہمارے لکچر میں بی۔ اے۔ اور ایم۔ اے۔ کے اسٹوڈنٹس شامل تھے۔ سوال و جواب کے سیشن میں کچھ طلبہ کے سوالوں سے ظاہر ہوا کہ وہ سلفیت اور غیر مقلدیت سے کہیں نہ کہیں مرعوب ہو رہے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ روس کے اس خالص احناف کے مضبوط حلقے میں غیر مقلد بھی ڈورے ڈال رہے ہیں، اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔

وہاں کے ماحول اور موقع محل کی نزاکتوں کا خیال رکھتے ہوئے اعلانیہ طور پر تو تعرض کی گنجائش نہ تھی، البتہ ہم لوگوں نے اپنے اس سفر میں خاص خاص لوگوں کے ذہنوں کو اپیل کرتے ہوئے ان کے سامنے علماے دیوبند کی حقیقت اور بر صغیر کی دوسری جماعتوں کی ایک تصویر پیش کی اور خاص مجلسی و نجی اوپن گفتگو میں دلائل سے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ اتنا ضرور سامنے آیا کہ اب وہ کم از کم خالی الذہن نہ رہے، بلکہ ان کی معلومات میں تصادم اور ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگئی۔

بحمدہ تعالی 2015 سے آج تک حضرت علامہ ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم کا مخلصانہ تعلق وہاں سے برقرار ہی نہیں ہے بلکہ روز بروز مستحکم سے مستحکم تر ہوتا جارہا ہے۔ اور علمی و فکری تبادلے کا سلسلہ قائم ہے، جس کی برکت سے نقشہ بدل رہا اور بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔والحمد للہ علی ذالک۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button