منقبت

منقبت: ہمارا دل ہے کاشانہ علی کا

فیصل قادری گنوری

ہر اک ہے، اپنا، بے گانہ ! علی کا
جسے دیکھو ہے مستانہ علی کا

ہمارے سامنے کیا آئے مشکل
ہمارا دل ہے کاشانہ علی کا

نہیں ڈرتا جہاں کے شیر سے وہ
جو ہو جاتا ہے دیوانہ علی کا

جہاں خم گردنیں ہیں اولیا کی
ہے وہ دربارِ شاہانہ علی کا

جِسے فردوس کہتا ہے زمانہ
اُسے کہئے جلو خانہ علی کا

وہ ہو بغداد ، مارہرا ، بدایوں
جدھر دیکھو ہے میخانہ علی کا

خدا کا شکر ہے رہتا ہے فیصل
زباں پر نام روزانہ علی کا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button