مذہبی مضامین

مثالی اور عظیم شخصیت

ازقلم: افتخار حسین رضوی

یہ دنیا کارگاہ عمل ہے، یہاں اعمال خیر کو بجا لانا ہے اور اعمال شر سے خود کو محفوظ رکھنا ہے، اس میدان عمل میں اپنی جسمانی، ذہنی اور فکری صلاحیتوں کا تسلسل اور تواتر کے ساتھ مثبت مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کردار اور اپنی شخصیت کی تعمیر وترقی کا اہم ترین اور انتہائی ضروری فریضہ کو انجام دینا ہے، خوش نصیب اور سعادت مند ہیں وہ لوگ جو اس عظیم فریضہ کو سرانجام دینے اور اپنی شخصیت کو آراستہ و پیراستہ کرکے تراشنے اور نکھارنے کا قابلِ تعریف و لائق ستائش مثالی کارنامہ انجام دینے میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوتے ہیں۔ قابلِ غور وفکر یہ امر ہے کہ اس تکمیلِ مقصد کے پس پردہ بہت سے اسباب و عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن کے بنیادی ڈھانچے پر مثالی کردار و شخصیت کی مستحکم اور قابل رشک عمارت کی تعمیر پایۂ تکمیل تک پہنچتی ہے، تعمیر کردار و شخصیت سازی کا یہ جد وجہد، ابتلاء و آزمائش اور انتہائی دشوار کن مراحل سے بھرپور یہ طویل سفر جب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو خصائل و شمائل حمیدہ سے متصف کردار و شخصیت کی دلکش پر کشش عمارت دعوت نظارہ دیتی ہے، ایسی مثالی شخصیت کے مالک افراد مرکز و محور عقیدت و محبت بن جاتی ہیں، دنیا ایسی عظیم الشان شخصیات کی اتباع و اطاعت کرنا باعثِ فخر و سعادت سمجھتی ہے، ایسی کردار ساز، زمانہ ساز اور عہد ساز شخصیتوں کے دم قدم سے سماج و معاشرہ، قوم و ملت اور ملک و وطن عروج و ارتقاء کی منزلیں طے کرتے ہیں، ایسے کامیاب اور کامل لوگوں کی صحبت بافیض ہوتی ہے، جس سے فیض حاصل کرنے والے افراد بھی اپنی زندگیاں بامقصد اور بامراد بناتے ہیں۔ ایسے عظیم لوگ رشک چمن اور رشک شمس و قمر بن کر اپنی تابناک کرنوں سے عالم انسانیت کو منور و مجلّٰی کرتے ہیں، مگر ایسی کردار ساز اور عہد ساز شخصیتیں نادر و نایاب ہوتی ہیں خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں ایسی عظیم و جلیل شخصیتوں سے فیضیاب ہونے کا زرین موقع ملتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے