مضامین و مقالات

وقت پر وقت کی گر بات نہ مانی جائے

تحریر: آصف جمیل قادری امجدی[گونڈہ]
6306397662

بیشک پوری دنیا میں تعلم کے حصول کا منکر کسی بھی خطے میں نہیں مل سکتا۔ چاہے وہ مذہبی تعلیم ہو یا پھر دنیا میں کسی اچھے منصب کی چاہت کے لیے ہو ۔خیر اچھی تعلیم کو ہمیشہ مقدس بابرکت و باعظمت مانا جاتا رہا اور آئندہ یہ روش دائمی پائیدار رہے گی۔
جس طرح زندگی وقت کے محور پر گردش کررہی ہے،بعینہ تعلیم بھی وقت کا بے حد متقاضی ہے۔ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک جاہلِ مطلق انسان نے وقت کی قدرومنزلت کا خیال رکھا،تو آج وہ اپنے گاؤں،قصبہ یا علاقے کا سب سے رئیس آدمی بن گیا۔ اب ہردن اس کے ہم عصر ہی عزت و شرف کا نیا سہرا اس کے سر باندھے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔اسی معاشرے میں کچھ چہرے ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنے والدین کی مشکبار شفقتوں کے سایے سے دور غیرمعروف اجنبی علاقے میں تعلیم کی خاطر برسہابرس پڑے رہتے ہیں لیکن وقت کی ناقدری نے علم کی برکت سے انہیں محروم کردیا۔
آج coved19 اور social destance کی وجہ سے تعلیم گاہ مقفل ہیں۔ طلبہ کو اپنے گھر پر ہی رہ کر آن لائن تعلیم حاصل کرنے کا سنہرا موقع ملا ہے۔(شاید اب زندگی میں دوبارہ یہ وقت میسر نہ ہو) کل تک جس چیلنج سے طلبہ کو گزرنا پڑتا تھا یقینا وہ بھی ایک المیہ تھا کہ اپنے دوست احباب بھائ بہن اور والدین کی محبتوں سے کافی دور رہ کر تعلیم حاصل کرنا ہوتا تھا۔لیکن آج اس سے ماوریٰ اھل و عیال اعزاء و اقرباء کے ساتھ اپنے ہی گھر پر آن لائن موبائل کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنا ہے۔پھر بھی دیکھا جاتا ہے کہ آن لائن درس کا سلسلہ باضابطہ نظم و نسق کے ساتھ شروع ہے۔اور طلبائے کرام آپسی گپ شپ یا درس کے علاوہ کسی دوسرے کام (واٹس ایپ، فیس بک چلانے گیم کھیلنے) میں اس طرح ذوق و شوق سے منہمک ہو جاتے ہیں،گویا آن لائن تعلیم کا آغاز اسی خاطر کیاگیا ہے۔ایسی صورتِ حال میں والدین کو چاہیے کہ جب بچے تعلیم کے اوقات میں موبائل پر آن لائن ہوں تو ان پر سخت نگرانی کے ساتھ کڑی نگاہ رکھیں۔ اگر بچے اوقات درس میں موبائل پر اپنی مصروفیات کو صحیح سمت میں نہیں لے جارہے ہیں،تو کہیں نا کہیں بچے کی بربادی کا سبب ماں باپ یا پھر وہ افراد ہیں جن کی نگرانی میں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کو چاہیے کی آن لائن درس شروع ہونے سے پہلے اپنے بچوں کو ضرور بضرور ہدایت کردیا کریں جن میں اسے موضوع بحث رکھیں "اگر خیریت چاہتے ہو تو موبائل پر پڑھائی کے علاوہ اور کسی چیز میں مصروف نہ دیکھوں”
عزیز طلبہ! حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ جو کہ اخلاق و مروت کے مشکبار گلستاں تھے،علم و فن کے جبل استقامت تھے،آپ کے پیکرِعزم و ہمت کا خطبہ آج بھی جامعہ اشرفیہ نیز اس کے پروردہ مصباحی فرزندان بکثرت پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ "تضیع اوقات سب سے بڑی محرومی ہے” یعنی ایک انسان اپنے وقت کو صحیح طور پر استعمال میں نہیں لاتا ہے،تو وہ اپنی زندگی کی گوناگوں لذتوں سے لطف اندوز ہونا تو درکنار یہاں تک کہ اپنے رب کی نعمتوں سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
عزیزطلبہ! تعلیم کو تمہارے رب نے بہت پاورفل بنایا ہے۔ایک انسان اپنی محنت و مشقت سے دنیاوی دولت و ثروت کا انبار تو لگا سکتا ہے اور اس کی بدولت بیشتر طاقت کو خرید بھی سکتا ہے۔ لیکن ذرا محسوس کریں کہ اگر اسی آدمی کا ایک دس سال کا ننھا منا بچہ ابھی علم حاصل کررہا ہے اور دھیرے دھیرے دن بدن اپنے سینے کو نورِعلم سے منور کررہا ہے،اس لازوال نعمت و دولت سے اس کا باپ محروم ہے۔گویا اس باپ کی پوری زندگی تاریک راہ پر بہت تیزی سے گزر رہی ہے لیکن نورعلم کی محرومی اسے حلت و حرمت میں کوئی فرق واضح نہیں ہونے دیتی ۔
عزیزطلباء! تعلیم قومی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ تعلیم یافتہ افراد ہی سماجی زندگی کے تانے بانے بنتے ہیں۔ وقت کی نبض پر انہی کی نظر ہوتی ہے۔ بدلتے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے منصوبہ بندی بھی انہی کے ذریعہ ممکن ہوتی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیمی زندگی اور ان کے تقاضوں پر عمل آوری فیصلہ کن کردار نبھاتی ہے۔
اسلام کا تصور تعلیم کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا ہے۔ اس کا آغاز لفظ "اِقْرَأ” یعنی تعلیم کے حکم سے ہوتا ہے۔ اور اس کی تکمیل "اَلْکِتَابْ” یعنی قرآن کریم کے زندہ معجزے سے ہوتی ہے۔ اسلام کے اولیں قافلہ سالاروں نے علم کی شاندار بزم سجائی اور علم کی شمع سے ہرگھر اور ہر علاقہ کو منور کیا۔ انھوں نے اس وقت کے تمام مروجہ بھید بھاؤ کو درکنار کرتے ہوئے سماج کے ہر فرد کے لیے تعلیم کا انتظام کیا، ہمارے اسلاف کرام نے ہر میدان زندگی کو اپنی علمی تحقیق کا موضوع بنایا،علمی وسعت اور فراخ دلی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ یہ سب کچھ انھوں نے اپنے جزبہ فرض کے تحت، اپنے شوقِ فراواں کے ساتھ بغیر کسی معاوضہ کے انجام دیا۔ کسی بھی سماج کی ترقی اور بہتری علمی ترقی پر منحصر ہوتی ہے۔ علم سے نہ صرف زندگی میں بہتری وقار اور رعنائی آتی ہے، بلکہ علم ہی کی وجہ سے عدل و انصاف کو فرو
غ ملتا ہے۔عقیدہ کی پختگی،سماجی رشتوں میں استحکام، صحت مند معاشرہ کی تعمیر اور معاشی توازن بھی بڑی حد تک علم کی مرہونِ منت ہے۔ اسی لیے یہ بات دیکھی جاسکتی ہے کہ جو لوگ علم سے محروم ہیں،وہ اپنے حقوق سے بھی محروم ہیں ان کی زندگی حاشیہ پر ہے۔ وہ اوہام و خرافات اور طرح طرح کے امراض کے شکار ہیں نیز ظالموں کے معاشی استحصال کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان ساری بیڑیوں کو علم کی شمشیرِ براں ایک کاٹ میں توڑ دیتی ہے۔ عزیز طلباء وقت کی ناقدری آپ کو کبھی بھی نورِعلم سے محروم کرسکتی ہے ۔ اس لیے ہوشیار باش، کیونکہ وقت اپنی ناقدری کا تھپڑ انسان کے منہ پر نہیں بلکہ اس کی روح پر مارتا ہے۔ اس وقت انس ان کو سوائے پچھواتے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ وقت جو آپ کی زندگی کا سب سے انمول ہیرا تھا،سب سے عظیم خزانہ تھا آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے اب پھر دوبارہ کبھی بھی واپس نہیں آتا(wested time never return) ہم مادی اشیاء یعنی روپیے پیسے، سونے چاندی مال اور جائداد کی قدر تو کرتے ہیں مگر وقت کی بےدردی سے ناقدری کرتے اسے ضائع کرتے ہیں حالانکہ وقت تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ جو شئ جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی اسی اعتبار سے عزت و قدر کی جاتی ہے۔ اور جس نے وقت کی ہر آن قدر کی اس کے ایک ایک لمحے کو ضائع ہونے سے بچالیا بلکہ اسے نیک اور صحیح کام میں لگا لیا تو زمانہ گواہ ہے اکابر لوگوں کے لیے تاریخ بھی شاہد ہے کہ وقت کی اہمیت نے اس انسان کو سب سے بڑا طاقتور انسان بنا دیا ۔

؏ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت پر وقت کی گر بات نہ مانی جائے
وقت پھر وقت نہ دے گا ہمیں پچھتانے کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے