منقبت

منقبت: بٹ رہاہے جو یاں فیضِ میرِ زماں

نتیجہ فکر: امیر حسن امجدی

طیبی واحدی عرس کا یہ سماں
خوب منظر سہانا ہے اور خوش نماں

نور سے آج معمور ہے ہر مکاں
دیکھو دیکھو ہے کیسا یہ جنت نشاں

ہر طرف نور و رحمت کی برسات ہے
ہے زمیں یاں کی مثلِ فلک آسماں

جگمگاتی ہے ہر سو زمینِ کرم
گویا اترے ہوئے ہیں یہاں کہکشاں

لینے خیرات آئے ہیں شاہ و گدا
بٹ رہاہے جو یاں فیضِ میرِ زماں

آؤ آؤ دیوانوں بھرو جھولیاں
آج ابرِ کرم پر ہے یہ آستاں

رب نے چاہا تو پہنچے گا عاصی امیرؔ
گرچہ بیمار ہے اس گھڑی ناتواں

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button