غزل

غزل: تم اس میں پیار کا جذبہ ابھارتے رہنا

نتیجہ فکر: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی

قرار و قول ابھی اس سے ہارتے رہنا
تم اس میں پیار کا جذبہ ابھارتے رہنا

وہ خواب جن کی نہ تعبیر پوری ہو پائے
تم اپنی آنکھوں میں ان کو اتارتے رہنا

نہ جانے کس گھڑی ہو جائے ملتفت وہ کریم
تم التجاؤں کا دامن پسارتے رہنا

تم اپنے چہرہء زیبا کی اک جھلک دے کر
ہمارا حسنِ تخیل سنوارتے رہنا

بھلایا جا نہ سکا جانا وہ خفا ہوکر
اور اپنا دیر تک اس کو پکارتے رہنا

ترے شباب پہ نظریں اٹھیں بہ حدِ ادب
یہ کیا ہے جو کے نہیں من کو مارتے رہنا

اسی پہ ایک دن آکر اگے گا سورج بھی
یونہی ہتھیلی پہ جگنو اتارتے رہنا

یہ ریت پر نہیں جم پائیں گے مگر پھر بھی
نشان قدموں کے اپنے ابارتے رہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے