مذہبی مضامین

سنّت رسولﷺ کی اہمیت

تحریر: محمد نفیس القادری امجدی
خطیب وامام: جامع مسجد منڈیا گنوں سہالی
استاذ: جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیامعافی،مرادآباد، یوپی، الہند

مذہب اسلام میں نبی کریمﷺکی سیرت مبارکہ اور آپ کی سنت مقدسہ کی اتباع اور پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے۔ اسی لئے آسمان امت کے چمکتے ہوئے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، اللہ و رسول کے پیارے ،صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم آپ کی ہر سنت کریمہ کی اتباع اور پیروی کو اپنی زندگی کے ہر قدم پر اپنے لئے واجب العمل سمجھتے تھے اور بال برابر بھی کبھی کسی معاملے میں بھی اپنے پیارے رسول کریمﷺ کی مقدس سنتوں سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کر سکتے تھے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

ٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْل

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو ! حکم مانو اللہ اور حکم مانو رسول کا۔(سورہ نساء،آیت 59)

ہمارے پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
سرکار اعلی حضرت نے کیا خوب کہاہے
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھاغیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

کیاہی اچھا وہ دور تھا کہ جب نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کا آفتاب عروجِ اقبال پر تھا ، تعریف و تحسین کن کلمات سے کروں کہ جب ہر چہار جانب مثل مقدس خوشبو عمل سنت کی بہار آگئیں تھیں مثل پروانہ، عاشقانِ رسول ﷺ سنتِ رسول ﷺ کی شمع پر زندگیاں قربان کرنا مقصود زندگی سمجھتے۔

تاریخ امت محدیہ اس امرِحق پر شاہد ہے کہ زمانے کے فتنوں، جہالت و بدمذہبی کی تاریکیوں، روشن خیالیوں کے تیز تر جھونکوں نے اس شمع کو گل کرنا چاہا۔مگر! تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ میرے پیارے آقاﷺ کی سنت وہ شمع ہے کہ جس پر فدا ہونے والے عشاق کو نہ تو زمانے کے فتنے دور کرسکے نہ ہی جہالت و بدمذہبی کی تاریکیاں ان پروانوں کے قریب آسکی، اور نہ ہی روشن خیالیوں کے تیزتر جھونکے ان کے قدم اکھاڑ سکے۔

اے عاشقانِ رسول کریمﷺ اپنے آقا کریمﷺ کی سنتوں کا علم حاصل کیجئے، کہ ہر انسان محتاجِ تقلید ہے۔ اور ہمیں حکم ہے اپنی زندگی کے ہر پہلو اپنے ہر قول و فعل کو تقلید رسول میں گزارنے کا اور عمل کرنے کا۔

اور ایک مسلمان اور سرکارِ دوعالمﷺ کے مطیع غلام ہونے کے ناطے لازم و ضروری ہے کہ ہم اپنے نبی کریم ﷺکی سنّتوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو ں اور حضورﷺکی سنّتوں کو عمل کے ذریعے خوب عام کریں ، کیونکہ نبی کریمﷺ کے طریقوں پر عمل کرنا ہی ہمارے لئے بلند درجات کا ذریعہ ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے :

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ: بے شک تمہیں رسول اللّٰہ کی پیروی بہتر ہے۔ (پ۲۱، الاحزاب : ۲۱/ کنزالایمان)

حضور صَدرُ ا لْافاضِل سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ الرحمَہ ’’ خَزائنُ العرفان ‘‘ میں اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : ان کی اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب و تکالیف پر صبر و شکرکرو اور رسولِ کریم ﷺ کی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے۔ (خزائن العرفان، پ۲۱، الاحزاب : ۲۱، ص۷۷۷)

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ’نورُالعرفان‘‘ میں اسی آیت کے تحت فرماتے ہیں : کہ حضورﷺ کی زندگی سارے انسانوں کے لیے نمونہ عمل ہے جس میں زندگی کا کوئی شعبہ باقی نہیں رہتا اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نےنبی کریم ﷺ کی زندگی کو اپنی قدرت کا نمونہ بنایا۔ کاریگر نمونہ پر اپنا سارا زورِ صَنعَت صرف کر دیتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ کامیاب زندگی وہی ہے جو ان کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہو ،

اگر ہماراجینا،مرنا ،سونا ،جاگنا ،اٹھنا،بیٹھنا،حضورﷺ کے نقشِ قدم پر ہو جائے تو یہ سارے افعال عبادت بن جائیں ۔
نمونہ عمل میں پانچ چیزیں ہوتی ہیں ۔
(۱) اسے ہر طرح مکمل بنایا جاتا ہے ، (۲) اس کو بیرونی غبار سے پاک رکھا جاتا ہے ،(۳)اس کوچھپایا نہیں جاتا ، (۴) اس کی تعریف کرنے والے سے صَانِع (یعنی بنانے والا) خوش ہوتا ہے ،(۵) اس میں عیب نکالنے پر ناراض ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ میں یہ پانچ باتیں موجود ہیں ۔

(نور العرفان، پ۲۱، الاحزاب، تحت الآیۃ : ۲۱، ص۶۷۱)

سنت مضبوطی سے تھام لو

       حضرت سیّدنا عِرباض بن سارِیہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :  میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ امت میں کثیر اختلافات دیکھے گا ایسے حالات میں تم پر لازم ہے کہ میری سنّت اور خلفاء راشدین کے طریقے کو مضبوطی سے تھام لو ۔  (ابوداؤد،کتاب السنۃ ، باب فی لزوم السنۃ، ۴/ ۲۶۷، حدیث : ۴۶۰۷، ملتقطًا)
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :
بیشک اس دین کی اِبتداء غریبوں سے ہوئی اور عنقریب یہ اسی طرف لوٹ آئے گا جس طرح اس کا آغاز ہوا تھا،پس غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا : یارسول الله ! غریب کون ہیں ؟ فرمایا : وہ لوگ جو میری سنّتیں زندہ کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالی کے بندوں کو سکھاتے ہیں ۔ (الزھد الکبیر، ص۱۱۷، رقم : ۲۰۵)
احادیثِ مبارکہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپنے نبی کریمﷺ کی مبارک سنّتوں پر عمل پیرا ہونے کے کتنے فائدے اور کیسے کیسے انعامات ہیں ، اس بارے میں حضور ﷺ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں
چنانچہ جھولی بھر دی جاتی ہے

اللّٰہ رب العزت کے پیا ر ے رسول نبی کریم ﷺکا فرمان ہے : اللّٰہ تعالی سیدھے راستے پر چلنے والے، سنّتوں کے عامِل سفید بالوں والے شخص سے حیا فرماتا ہے کہ وہ اللّٰہ تعالی سے سوال کرے اور وہ اسے عطا نہ فرمائے۔ (معجم الاوسط ، من اسمہ محمد، ۴/ ۸۲ ، حدیث : ۵۲۸۶)

سنّتیں زندہ کرنے والا جنّتی ہے

نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا : مَن اَحیَا سُنَّتِی فَقَد اَحَبَّنِی وَ مَن اَحَبَّنِی کَانَ مَعِیَ فِی الجَنَّۃ۔

یعنی جس نے میری سنّت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذبالسنۃو اجتناب البدع، ۴/ ۳۰۹، حدیث : ۲۶۸۷)

سنّت زندہ کرنے کا ثواب

نبی کریمﷺ نے حضرت سیّدنا بلال بن حارث رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا : جان لو! حضرت بلال نے عرض کی : یا رسول اللّٰہ کیاجان لوں ؟ نبی کریمﷺ نے دوبارہ اسی طرح فرمایا : اے بلال جان لو ! عرض کی : یا رسول اللّٰہ کیاجان لوں ؟ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَحْیَا سُنَّۃً مِنْ سُنَّتِی قَدْ اُمِیتَتْ بَعْدِی فَاِنَّ لَہُ مِنَ الاَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُورِہِمْ شَیْئًا

یعنی جس نے میری ایسی سنّت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ چکی تھی (یعنی اس پرعمل ترک کیا جا چکا تھا) تو اسے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گاجو اس سنّت پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی بدعتِ سیئہ( بُری بدعت ) کو رواج دیا جسے اللّٰہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نا پسند فرماتے ہیں تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہے جو اس بدعت سیئہ پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی۔

(ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذبالسنۃو اجتناب البدع، ۴/ ۳۰۹، حدیث : ۲۶۸۶)

سنّت کو زندہ کرنے کا مطلب

حضرت علّامہ ملّا علی قاری عَلَیْہ الرحمہ مذکورہ حدیث کے اس حصے’’مَن اَحیَا سُنَّۃً یعنی جس نے میری سنّت کو زندہ کیا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’سنّت کو زندہ کرنے سے مراد اپنے قول وعمل کے ذریعے اس سنّت کی اِشاعت و تشہیر کرنا ہے۔ ‘‘ حدیثِ پاک کے اس حصے ’’قَد اُمِیتَت بَعدِی یعنی جو میرے بعد مٹ چکی تھی‘‘ کی تشریح میں امام ابنُ المَلِک رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سنّت پر عمل کو چھوڑ دیا گیا ہو، تو میرے بعد جس نے اس سنّت کو اپنے عمل کے ذریعے یا دوسروں کو اس پر عمل کی ترغیب کے ذریعے زندہ کیا تو اس کے لیے ان لوگوں کی مثل پورا پورا اجر ہے جو بھی اس سنّت پر عمل کرے۔ ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثانی، ۱/ ۴۱۴، تحت الحدیث : ۱۶۸)

آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ نبی کریمﷺ کی سنتوں پر عمل کی کیسی برکتیں ہیں ، آج کے پُرفتن دور میں کہ جب ہر طرف فیشن کی بھرمار ہے ، پیارے پیارے نبی کریمﷺ کی سنتوں پرعمل کرنا اگرچہ دشوار ہے جیسا کہ

سنّت کو مضبوطی سے تھامنے والے کی مثال

حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کا اِرشادِ پاک ہے : اَلْمُتَمَسِّکُ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ اِخْتِلَافِ اُمَّتِیْ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔

یعنی اختلافِ امّت کے وقت میری سنّت کومضبوطی سے تھامنے والا ہتھیلی میں اَنگارے رکھنے والے کی طرح ہو گا۔
(کنزالعمال، کتاب الایمان والاسلام ، الباب الثانی فی الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الجزء الاول، ۱/ ۱۰۵، حدیث : ۹۳۳)

اطاعت رسول اطاعت خدا ہے

اللہ تعالی اطاعت رسول کریمﷺ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-
تَرجَمہ :جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا(کنزالایمان)

قرآن پاک میں جہاں پروردگار عالم اپنے محبوب کی اطاعت کو اپنی اطاعت فرمارہا ہے، تو وہیں رسول پاک صاحبِ لولاک ﷺ کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ عمل ہے۔
نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا۔
من احب سنتی فقد احبنی و من احبنی کان معی فی الحبتہ۔
یعنی جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرےساتھ ہوگا۔

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:من تمسک بسنتی عند فساد الامتی فلہ اجرمائۃ شہید

یعنی فساد ِ امت کے وقت جو شخص میری سنت پر عمل کرے گا اسے سو شہیدوں کا ثواب عطا ہوگا۔

ہدایت کے درخشندہ ستارے آسمان صحابیت کےتارے صحابہ کرام کی زندگیاں سنن رسول کریمﷺ پر عمل کی خوشبوؤں سے مشک بار ہیں۔

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سنت پر عمل :

ذوالنورین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ایک بار وضو فرمانے کے بعدمسکرائے اور فرمایا کہ ایک بار نبی کریمﷺ بھی وضو فرمانے کے بعد مسکرائے تھے۔

شہزادی نبی کریمﷺفاطمہ زاہر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا سنتوں پر عمل :

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرما تی ہیں کہ میں نے چال ڈھال شکل و صورت انداز گفتگو اور اٹھنے بیٹھنے کے انداز میں شہزادی نبی کریمﷺ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے بڑھ کرکسی کو حضور ﷺ سے مشابہت رکھنے والا نہ پایا۔
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک موقع پر فرمایا:کیا میں اپنے محبوب کی سنتوں پر عمل نہ کروں۔
سنتِ رسولﷺ پر عمل کرنےکے بے شمار دینی اور دنیاوی فوائد ہیں۔
سنتِ رسولﷺ پر عمل کرنے سے اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
سنت پر عمل کرنا جنت میں نبی کریمﷺ کے قرب کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو سنتِ رسول کریمﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button