ایڈیٹر کے قلم سے سیاست و حالات حاضرہ

فرقہ پرستی کو فروغ دیتے بعض زرخرید میڈیا

ہمارے ملک میں آزادی کے بعد سے ہی کچھ لوگوں نے مسلمانوں کو پریشان کر اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کے لیے اسلامی دہشت گردی نامی ایک پروپیگنڈہ اپنایا جو کافی حد تک کامیاب بھی رہا اور ہمیشہ اسکے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے وقار کو مجروح کیا جاتا رہا اور انہیں اذیت وتکلیف پہونچائی جاتی رہی، پہلے تو یہ کام بیانوں کے ذریعہ ہوتا رہا لیکن اب تو آر ایس ایس اور بگھوا تنظیموں نے اسے درس وتدریس کا جز بناکر نوجوان طبقوں کے دلوں میں اسلام ومسلمین کے تئیں بغض ونفرت کا بیج بونا شروع کردیا ہے چنانچہ ملک کی عظیم دانشگاہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی دھلی میں وائس چانسلر اور آر ایس ایس کے کٹر ہمنوا مسٹر جگدیس کمار باقاعدہ اسلامی دہشت گردی نامی کورس کو داخل نصاب کرنے کا اعلان کرچکے ہیں علاوہ ازیں طرح طرح کی بگھوا تنظیمیں لوگوں کی ذہن سازی میں سرگرم عمل ہیں کہ اسلام اور مسلمان ملک کے غدار اور دہشت گرد ہیں جبکہ آئے دن روزانہ خبروں میں یہ پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ فلاں جگہ فلاں بھگوا تنظیم کے لوگوں نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکا، روزہ رکھنے سے منع کیا، اذان نہ دینے پر مجبور کیا، مسلمانوں اور مسجد کے درمیان آڑے آئے یا مسجد کو نقصان پہونچایا تو کبھی یہ سننے کو ملتا ہے فلاں جگہ فرضی گئوکشی کے نام پر اور گوشت کھانے کے لئے کسی مسلمان کو مارڈالا تو کبھی یہ سننے کو آتا ہے کہ فلاں دلت کو فقط گھوڑے کی سواری کے لئے موت کے گھاٹ اتار دیا اور مندر جیسے پوتر جگہ پر کسی بچی کے ساتھ نازیباں حرکتیں کیں جو کہ نہ صرف مسلم معاشرہ کے لئے خطرناک ہے بلکہ ہر سماج کے لئے سم قاتل سے کم نہیں جسے دیکھ کلیجہ منہ کو آتا ہے اور صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ مذہب اسلام کے دامن پر دہشت گردی کے چھینٹے مارنے والوں دیکھو اس ملک میں اسلامی نہیں زعفرانی دہشت گردی جاری ہے۔
اور اب تو حد ہوگئی صاحب! جمہوریت کی چوتھی ستون "میڈیا” بھی زعفرانی دہشت گردی کو اسلامی دہشت گردی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ جبکہ اپنا ملک ہی نہیں پوری دنیا اور صرف ہندو مسلمان ہی نہیں پوری انسانیت قدرتی وباسے جوجھ رہی ہے۔ اس وقت بھی ایک طرف جہاں مسلمانوں کو ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے لوگوں کو مار کر بھگاتا ہوا دکھانے کی کوشش جاری ہے وہیں دوسری طرف محبوب علی نامی مسلم نوجوان کی ماب لنچنگ پر میڈیا کی خاموشی۔ اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا چاہیئے کہ میڈیا بھی زعفرانی دہشت کو سپورٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے