علما و مشائخ

پروفیسر مسعود احمد نقشبندی پر اک نظر

از: محمد سلیم انصاری ادروی

ماہر رضویات پروفیسر سید مسعود احمد نقشبندی مجددی صدیقی علیہ الرحمہ، سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے شیخ طریقت، مفتی اعظم دہلی مفتی مظہر اللہ دہلوی نقشبندی علیہ الرحمہ (صاحب تفسیر مظہر القرآن) کے فرزند اور مرید تھے۔ آپ کی ولادت سنہ ١٩٣٠ء کو دہلی میں ہوئی۔ آپ نے اپنے جد امجد کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ عالیہ مسجد فتح پوری دہلی میں تعلیم حاصل کی، اس کے بعد اورینٹل کالج دہلی، ادارۂ شرقيہ دہلی، مشرقی پنجاب یونیورسٹی شملہ، پنجاب یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی حیدر آباد میں تحصیل علم کیا۔ سنہ ١٩٧١ء میں سندھ یونیورسٹی ہی سے آپ نے اردو میں "قرآنی تراجم و تفاسیر” پر بہت پر معلومات مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں مختلف علماے کرام اور یونیورسٹیوں کے متعدد پروفیسروں کے نام ملتے ہیں، جن میں آپ کے والد محترم کے علاوہ سب سے اہم شخصیت استاذ الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں کی ہے۔

فراغت کے بعد آپ نے درس و تدریس کے میدان میں قدم رکھا۔ کئی کالجوں میں پرسنپل کے عہدے پر فائز رہے۔ علاوہ ازیں آپ ایک عظیم محقق اور مصنف بھی تھے۔ آپ نے سو سے زائد کتب تصنیف فرمائیں، جن میں سے تقریبا چالیس کتابوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ آپ نے مجددین اسلام (امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نقشبندی اور امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی علیہما الرحمہ) پر گراں قدر تحقیقی اور تصنیفی کام کیا۔ خصوصا محدث بریلوی کی حقیقی شخصیت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کو محدث بریلوی پر تحقیقی کام کرنے کی طرف متوجہ کرانے کا سہرہ آپ ہی کے سر جاتا ہے۔

دور الشیخ احمد رضا الهندی البریلوی، حیات امام اہل سنت، محدث بریلوی، رئیس الفقہاء، فاضل بریلوی اور ترک موالات، فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں، حیات مولانا احمد رضا خاں بریلوی، جدید و قدیم سائسنی افکار و نظریات اور امام احمد رضا، اکرام امام احمد رضا خان، امام احمد رضا خان اور عالم اسلام، رہبر و رہنما، خلفائے اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا اور عالمی جامعات اور آئینۂ رضویات وغیرہ کتب آپ کے ماہر رضویات ہونے پر شاہد ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں، جن میں تعظیم کتاب الله، سیرت مجدد الف ثانی، تذکرہ مظہر مسعود، تحریک آزادئ ہند اور السواد الاعظم، حیات مظہری، آخری پیغام اور تقلید وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ تقریبا ایک درجن جلدوں پر مشتمل "جہان امام ربانی” آپ ہی سرپرستی میں مرتب کیا گیا۔ ٢٧ اپریل سنہ ٢٠٠٨ء کو آپ کا وصال ہوا اور کراچی میں آپ کی تدفین ہوئی۔

(ماہ نامہ کنزالایمان/ جون سنہ ٢٠٠٣ء/ ص: ٣٦-٣٧، یادگار مسعود ملت/ ص: ٣-۵)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے