اولیا و صوفیا

علی کا کوئی بیٹا کیسے بزدل ہونے پائے گا

محمد مجیب احمد فیضی
استاذ: دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور۔
رابطہ نمبر :۸۱۱۵۷۷۵۹۳۲
email:faizimujeeb46@mujeebhamariaawaz

اس کائنات رنگ وبو میں اللہ رب العزت نے دین اسلام کی ترویج واشاعت ،اس کی تحفظ وبقاء اور اپنے بگڑے اور بھٹکے ہوئے بندوں کے لئے بے شمار انبیاء کرام ومرسلین عظام اس خاکدان گیتی پر مبعوث فرمائے۔ان انبیاء ورسل کے بھیجنے کا واحد مقصد بھٹکے ہوئے لوگوں کو صراط مستوی کی ہدایت دینی اور انہیں راہ راست پر لانا تھا ۔اور اس سلسلے کی آخری کڑی حضور احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہوگیا ۔اب رہتی دنیا تک ،حشر تک کو کوئی نبی ورسول نہیں مبعوث ہوگا۔آپ فرماتے میں آخری نبی ہوں اور اب میرے بعد کوئی نبی ورسول نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے اچھے برے لوگ ہر دور میں پائے گئے ہیں اگر اچھوں نے اپنی اچھائی سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا ہے تو بروں نے بھی برائی کر کے شریعت مصطفی کے حسین اصولوں کو پاش پاش کیا ہے۔جس طرح پہلے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انبیاء کرام علیہم السلام انجام دیتے تھے اب چوں کہ میرے نبی کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اس لئے جو کام رب کے حکم سے انبیاء کرام انجام دیتے تھے اب اس کو اللہ کے نیک اور صالح بندے اولیاء کرام انجام دیں گے۔
انہیں پاک اور نیک زندہ وتابندہ ناموں میں سے ایک نام سیدالشہداء فی الھند سیدنا وسندنا سالار مسعود غازی رضی اللہ عنہ کا ہے ۔آپ کی شخصیت بلا تفریق مذہب وملت خاص کر دنیائے انسانیت کےلئے بالکل بھی محتاج تعارف نہیں۔آپ ہندو پاک بے شمار دلوں کی دھڑکن ہیں۔آج اپنے گھر میں اذان سن کر یا دے کر نماز پڑھ لینا بڑا آسان ہے لیکن کفر کے سینے پر صدائے توحید بلند کرنا یہ غازئ پاک کا حصہ ہے۔جو آپ نے بہرائیچ کی سر زمین پر نہ صرف کہہ کر بلکہ کرکے دکھایا ہے۔
اسم مبارک
آپ کا نام نامی اسم گرامی وقار، سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ ہے جو وطن عزیز ہندوستان کے مسلم غیر مسلم مرد عورت اور بچوں میں بالے میاں غازی میاں کے نام سے مشہور ہیں۔

والدہ: ستر معلی سلطان سبکتگین کی صاحبزادی، سلطان محمود غزنوی کی خواہر ،حضرت سالارساہو رحمۃاللہ علیہ کی بیوی اور سرکار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کی والدۂ ماجدہ تھیں۔
ولادت
آپ کی ولادت با سعادت ۲۱/رجب المرجب ۴۰۵/ ھجری مطابق ۱۰۱۵/ء سرزمیں اجمیر بروز اتوار بوقت صبح صادق ہوئی۔
آپ کی ولادت باسعادت ہندوستان کے راجہ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ سے تقریبا ڈیڑھ سو برس سے بھی زیادہ پہلے ہوئی ہے۔
اور آپ کا سلسلۂ نسب بارہویں پشت پر سرمایۂ محراب ومنبر خیبر شکن راتوں رات عبادت کرنے والے شب زندہ دار تمام ولیوں کے سردار سیدنا
وسندنا مشکل کشا مولی علی رضی اللہ عنہ سے بارہوں پشت پر جا ملتا ہے۔

شعر
علی کا کوئی بیٹا کیسے بزدل ہونے پائے گا
شجاعت کی سند جب حیدر کرار رکھتے ہیں

جب آپ کی عمر مبارک چار برس کی ہوئی تو آپ کے والد بزرگ وار سالار ساہو رحمۃ اللہ علیہ نے رسم بسم اللہ خوانی کی ادائے گی کے بعد سید ابراہیم بارہ ہزاروی کو آپ کا استاذ مقرر کیا۔صرف نو برس کی عمر میں آپ نے اپنے استاذ سید ابراہیم بارہ ہزاری سے استفادۂ علوم فنون کر کے ظاہری وباطنی تمام تر علوم میں باکمال ثابت ہوئے،نیز آپ نے شہسواری،تیر انداری،شمشیر زنی اور نیزہ زنی میں بھی مہارت حاصل کر لیا۔
اور یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ آپ والد گرامی حضرت سالار ساہو رحمۃ اللہ علیہ سلطان محمود غزنوی کی طرف سے وطن عزیز ہندوستان کے گورنر مقرر تھے۔
اگر ہم سلطان محمود غزنوی سے آپ کے رشتہ کا ربط کریں تو وہ سیدالشھداء فی الھند کے سگے ماموں ہیں،جن کو آپ سے بے حد لگاؤ تھا،اور آپ ان کے حقیقی بھانجے ہیں،جنہوں نے اپنے والد سلطان سبکتگین کے بعد تقریبا ۲۳/برس تک سلطنت کی بانگ ڈور تھامی۔
والی قنوج کی سر کوبی کے لئے پہلی بار جب سلطان محمود غزنوی نے اپنے بھانجےکادیدار کیا اور واپسی پر اپنی خواہرستر معلی اور اپنے بھانجے سالار مسعودغازی کو ساتھ لیا اور "غزنہ "
(قابل کے قریب افغانستان کے ایک شہرکانام)
پہونچ گئے۔جب "کاہیلر”
(کشمیر کے پہاڑی علاقہ کا شہر جو اس وقت گمنام ہے) میں سخت بغاوت رونما ہوئی تو آپ کے والد سالار ساہو نے اپنی بیوی اور فرزند دلبند کو وہاں سے بلالیا۔
جہاں سید مسعود غازی کچھ دن قیام کے بعد دوبارہ غزنہ تشریف لے آئے۔جب سلطان نے آپ کو والدین کے پاس ہندوستان بھیجنا چاہا تو بادشاہ محمود غزنوی نے آپ سے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا تو مسعود غازی نے ماموں کے حضور عریضہ پیش کیا کہ ماموں!!آپ مجھے ہندوستان جانے کی اجازت مرحمت فرمادیں تاکہ میں اس سرزمیں کو کفر وشرک جیسی آلودگیوں سے پاک وصاف کرکے صدائے توحید بلند کرسکوں اتنا سننا تھا کہ بادشاہ نے فرط مسرت میں آپ کو کلیجہ سے لگا کر ہند کی جانب رخصت فرمایا اور آپ اعلاء کلمۃ الحق، دین حق کی تحفظ وبقاء ،اور اسلام کی سر بلندی کے لئے گیارہ ہزار سواروں کے ساتھ ملک عزیز ہندوستان پہونچے۔
چند ہی ماہ کے بعد بادشاہ سبکتگین کا ۳۰/ربیع الاول سن ۴۳۰/ھجری میں انتقال ہو جاتا ہے۔ادھر آپ انتہائی تزک واحتشام اور شان وشوکت کے ساتھ کابل جلال آباد اور سندھ کے راستہ سے ہوتے ہوئے متھرا پہانچ کر ملتان کی جانب کونچ کیا۔
وہاں کچھ دن آپ نے قیام بھی کیا اس کے بعد دہلی روانہ ہوئے اس وقت دہلی کا راجہ پال رائے تھا،جس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی باالاخر جنگ کی نوبت آگئی۔اس وقت راجہ رائے پال کے پاس سپاہیئوں کی بڑی طاقت وقوت موجود تھی البتہ سالار مسعود غازی کے جانثار وجانباز رفقاء نے ان سے جم کر مقابلہ کیا۔ آخر راجہ کو شکشت فاش ہوئی جس کو دیکھ کر کچھ راجاؤں نے اطاعت قبول کیا ۔پھر وہاں سے میرٹھ قنوج ہوتے ہوئے بارہ بنکی ضلع کے ایک گاؤں سترک میں جلوہ فرما ہوئے جہاں کے راجاؤں سے مقابلہ کے بعد۴۲۳/ھجری شعبان المعظم کے مہینہ میں آپ بہرائیچ پہونچے۔
آپ کی آمد سے بہرائیچ کے اطراف واکناف میں مخالفت ومنفرت کی تیز
ہوائیں چلنے لگیں،انہیں دنوں آپ کے والد ماجد سیدنا سالار ساہو کا بھی انتقال ہوگیا،لیکن آپ کے عزم وحوصلے اسلام کی ترویج واشاعت کے متعلق بڑے مستحکم تھے ،ادھر بہرائیچ اوراطراف بہرائیچ کے راجاؤوں کو آپ کے قیام کی خبر ناگواری کاسبب بن گئی۔ان حضرات نے آپ کو وہاں سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر نہیں گئے تو معاملہ لڑائی سے طے ہوگا ۔کچھ
دنوں کے بعد باالاخر جنگ کی نوبت آ ہی گئی اسلام کے شیروں نے جس جواں مردی اور دلیری کے ساتھ حق وباطل کے اس معرکہ میں اپنی اپنی جانبازی مظاہرہ کیا جس سے اعدائے اسلام کو مات اور دھول چاٹنے پر مجبور کردیا ،اور ان کے بہت سے راجاؤوں کو محبوس ومقید بھی کردیا، اس شکست فاش سے راجاؤوں میں بے چینی بڑھ گئی ،ادھر راجہ سہر دیو نے اپنے کارندوں سے اعلان کروایا کہ اب کی میدان جنگ میں لوہے کی زہر آلود کیلیاں بچھادی جائیں چنانچہ ایسے ہی ہوا دونوں فوجیں آمنے سامنے رونما ہوئیں،اس جنگ میں دشمنان اسلام کو ذلت ورسوائی اور سکشت فاش ہی حاصل ہوا لیکن افسوس کہ مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کے اس کچھ احباب نے جام شہادت نوش فرما کر جاں بحق ہوئے۔
اس طرح کچھ دن چلتا رہا پھر اس کے بعد اس علاقہ کے غیر مسلموں کو دھرم رکچھا کے نام پر خوب خوب بر انگیختہ کیاگیا اس کے بعد پھر ایک جنگ ہوئی جس میں آپ اپنے چند رفقاء کے ساتھ دین اسلام کی حفاظت وصیانت کے خاطر آگے بڑھےجنگ کا نقارہ بجا کئی کئی روز تک آپ جنگ لڑتے رہے ،اپنی جواں مردی کے جوہر دکھاتے رہے، ادھر دشمن کی یلغار تیر وتلوار کی بارشیں شروع ہو گئیں، آپ ہمت نہ ہارے اپنے محوب سواری پر سوار کر دشمن کے نرغے میں جب گھستے تھے تو کفار پر رعشہ طاری ہوجاتا اور وہ سب خوف سے لزہ براندام ہوجاتے۔آخر آپ اتنی کثیر افواج سے کب تک لڑتے آپ کے باقی رفقاء بھی قریب قریب جاں بحق ہو ہی چکے تھے۔ ادھر فوج کا سردار راجہ سہر دیو نے ٹیلہ کی آڑ سے ایسا تیر مارا جو آپ کے گلوئے مبارکہ میں آکر پیوست ہوگیا۔ فورا خون کا فوارہ بہہ نکلا ۔آپ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور قریب تھا کہ اپنی سواری سے گر ہی جاتے لیکن اپ کے محب سکندر دیوانہ نے آپ کو سنبھالا اور ایک سایہ دار درخت کے سائے میں آپ کو لٹایا ۔آپ کے زبان مبارک سے کلمہ طیبہ جاری وساری تھا۔عصر ومغرب کے مابین آپ نے اس بے رحم دنیا کو ۱۳ /رجب المرجب ۴۲۴/ہجری کو چھوڑ کر داعئ اجل کو لبیک کہا۔انا للہ وانا الیہ رجعون۔
سر زمین بہرائیچ میں آپ کا مزار پرانوار مرجع خلائق ہے۔
لٹاتے رہتے ہیں غازی کبھی کچھ کم
نہیں ہوتا
مرےغازی خزانوں کا بڑا انبار رکھتے ہیں۔

کرامت

سید الشھداء فی الھند حضرت سیدنا مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہند کے اکابر اور قدیم اولیاء میں شمار ہے ۔اللہ رب العزت نے آپ کو رحانی طاقت سے مستفیض فرمایا تھا۔اولیاء کرام کا معاملہ اور لوگوں سے ذرا الگ تھلگ ہوتا ہے۔ان کے ظاہری احوال کو دیکھ کر تردد کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔رب تعالی کی عبادت وریاضت کی بھٹی میں تپ کر ان کے ہاتھ خدائی کام کا صدور ہونے لگتا ہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ سے بہت سے ساری کرامتوں کا صدور ہوا ہے سب کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں،البتہ ایک کرامت تحریرکرنا اس لئے چاہتا ہوں تاکہ کوئی ان کو اپنے اوپر قیاس کرنے کی خطا نہ کر بیٹھے۔حضرت بندگی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے پائے کے بزرگ گزرے ہیں ان کا ایک مرید تھا جو پیشہ کے اعتبار حجام گیری کرتا تھا اور اپنے پیر کی دہلیز پر پڑا رہتا تھا۔ایک بار بہرائیچ شریف عرس کے موقع پر جانے کے لئے بضد ہوگیا،حضرت بندگی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو سمجھایا کہ اتنی بھیڑ ہوجاتی ہے کیا کرنے کے لئے جاؤگے وہ کہنے لگا اس بار آپ مجھے جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں ۔جب وہ بہت بضد ہوا تو آپ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے چلے جانا لیکن جانے سے پہلے میرا ایک مکتوب لیتے جانا اور زہرانامی باغ کے قریب ایک نقاپ پوش گھوڑے پر سوار شخص کو دے دینا ۔اس نے کہا ٹھیک ہے حضور جیسے آپ کا حکم تھوڑی دیر کے بعد مرید خط لے کر نکلا حضرت بندگی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کہنے کے مطابق اس مقام پر ایک نوجوان گھوڑے پر سوار نقاب پوش سے ملاقات ہوئی مرید سمجھ گیا فورا مکتوب پیش کیا ۔ نقاب پوش شخص نے اس کو لیا اور پڑھنے کے بعد مسکرائے اس خط میں لکھاہوا تھا کہ اے مسعود غازی!! آپ اپنے یہاں کیوں اتنے لوگوں کو بلا لیتے ہیں کہ جس لوگوں کو وہاں پر بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آپ نے فورا مکتوب کی شکل میں جوابی کاروائی کیا اور اس نائی سے کہا لو یہاں سے جب جانا تو بندگی کو میرا بھی یہ پیغام پیش کردینا۔چنانچہ جب حجام وہاں سے لوٹا تو اپنے پیرحضرت بندگی کی بارگاہ میں مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ رقعہ پیش کیا جس میں لکھا ہوا تھا اے بندگی!! تو کہتا ہے کہ میں اتنی بھیڑ کیوں لگا لیتا ہوں ارے اتنی کوششوں کے بعد بھی جب تو اپنے ایک نائی کو نہ روک سکا تو میں اپنی محبت میں وارافتہ خلق خدا کو کیسے روکوں۔
صحیح کہا تھا کسی عاشق نے۔۔۔۔۔۔۔

نہ جانے کس قدر اونچے ہیں کاشانے محمد کے
بدل دیتے ہیں تقدیروں کو دیوانے محمد کے
کوئی اجمیر سےپی لے کوئی بغداد سےپی لے
بہت مشہور ہیں دونوں یہ میخانے محمد کے


آپ کی قبر مبارک بہرائیچ شریف میں زیارت گاہ عوام وخواص ہے۔چھوٹے بڑے، ہندو مسلمان ،بڑے بڑے علماء مشائخ سب آتے ہیں اور آپ کے فیوض وبرکات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ بہت سے پریشان حال سفید داغ والے نیز مجزوموں کوڑھیوں کو رب تعالی اپنے فضل وکرم اور آپ کے توسل سے شفاء دیتا ہے ۔ہرسال ان بیماریوں سے شفاء پانے حضرات کی وہاں اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو فیضان مسعود غازی سے خوب خوب مالا مال فرمائے،آمین۔

مریض آئیں شفاء پائیں شفاء پائیں چلے جائیں
مرے غازی مریضوں پے کھلا دربار رکھتے ہیں