اولیا و صوفیا

مختصر تذکرہ حضرت مفتی سید ابوالحسن شاہ جہاں المعروف نورالدین سیف اللہ رفاعی شافعی رحمتہ اللہ علیہ

خاندان رفاعی کے چشم و چراغ، مفتی رفاعیہ حضرت سید ابوالحسن شاہ جہاں المعروف سید نورالدین سیف اللہ رفاعی کی ذات ستودہ صفات محتاج تعارف نہیں ہے۔ خاندان رسالت سے منسوب ہونے کی بنا پر اگر ایک طرف آپ کے رخ انور پر سیادت کا نور چمکتا تھا تو ایک جید عالم دین اور عبقری فقیہ ہونے کے ناطے آپ کے سر پر علم و معرفت کا تاج زریں بھی دمکتا تھا۔ آپ بیک وقت صاحب نسبت پیر و مرشد، عالم با عمل، فقیہ بے بدل اور باکمال مفتی تھے۔ آپ علم و حکمت، سیادت و نجابت، تقوی و طہارت ، رشد و ہدایت اور خلوص و للہیت کا حسین سنگم تھے۔

نام و نسب:
آپ کا اسم گرامی نورالدین، کنیت ابوالحسن ، لقب سیف اللہ و شاہ جہاں، مشربا رفاعی اور مسلکا شافعی آپ کا تخلص نور ہے۔ والد گرامی کا نام نامی حضرت مولانا السید ابو النصر محمد امین اللہ الثانی المعروف سید حسام الدین الحسنی الحسینی الموسوی الشافعی الرفاعی رحمتہ اللہ علیہ ہے، آپ رفاعی حسنی حسینی موسوی سید ہیں، 21، واسطوں سے آپ کا سلسلہ نسب اور سلسلہ طریقت بھی 21، واسطوں تک صاحب سلسلہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے۔

ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت یکم صفر المظفر 1271ھ میں ہندوستان کی اقتصادی و صنعتی راجدھانی عروس البلاد ممبئی عظمیٰ میں ہوئی۔

تعلیم و تربیت:
آپ کی اکثر و بیشتر تعلیم ممبئی میں ہوئی۔

اجازت و خلافت:
آپ نے جب ظاہری علوم و فنون کی تکمیل کرلی تو باطنی علوم کے حصول کی طرف توجہ دی۔ اس کے لیے آپ کو کہی دور جانے کی ضرورت نہیں تھی آپ کا گھر خود ہی باطنی علوم اور روحانی تعلیم و تربیت کا سرچشمہ تھا، آپ کے والد گرامی اس وقت کے سلسلہ رفاعیہ کے صاحب سجادہ اور مسند نشین تھے۔ باپ سے بہترین بیٹے کی تربیت کون کر سکتا ہے؟ چنانچہ آپ کے والدگرامی حضرت مولانا السید ابوالنصر محمد امین اللہ الثانی المعروف سید حسام الدین رفاعی علیہ الرحمہ(ممبئی) نے آپ کو اپنی تربیت میں لے لیا، ریاضت و مجاہدہ کرایا، پھر جب آپ کے اندر اہلیت کا احساس ہوا تو آپ کے والد ماجد نے 11/ شوال المکرم 1284ھ میں بمقام شہر راجہ پور، ضلع رتنا گیری، مہاراشٹر، میں بہت سارے خلفاء، چاوش اور مریدین کے سامنے مجمع عام میں سلسلہ رفاعیہ کی دستار خلافت و مشیخت سے نوازا اور اپنا خلیفہ بناکر لوگوں کی رشد و ہدایت اور ان کو بیعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس طرح کل تیرہ (13) سال کی عمر میں آپ کے نازک کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ رکھ دیا گیا اور اس ننھی سی عمر میں آپ کو اتنے عظیم منصب سے سرفراز کردیاگیا۔
سلسلہ رفاعیہ کے بزرگوں میں آپ کو یہ انفرادی اور امتیازی شان حاصل ہے کہ سلسلہ رفاعیہ کی اجازت و خلافت کے ساتھ مشہور سلاسل قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور چشتیہ کی بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ چنانچہ دوران تعلیم ہی آپ کے استاذ و مربی حضرت مولانا سید حفیظ الدین قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور چشتیہ کی اجازت و خلافت سے نواز دیا تھا۔ اس طرح سے آپ سلسلہ رفاعیہ کے ساتھ معروف سلاسل اربعہ کا سنگم بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے اندر ہر سلسلہ کی جھلک پائی جاتی تھی۔ اور آپ یکساں طور سے ہر سلسلہ کا احترام بھی بجالاتے تھے۔ آج کے مرشدان طریقت اور پیران عظام کے لیے نمونہ عمل اور مکمل آئیڈیل ہیں۔

تبحر علمی:
حضرت مولانا مفتی سید ابوالحسن شاہ جہاں المعروف نورالدین سیف اللہ رفاعی علیہ الرحمہ منفردالمثال پیرومرشد ہونے کے ساتھ ایک جید عالم دین، عبقری فقیہ اور بے نظیر مفتی بھی تھے۔ علمی گہرائی و گیرائی، فکری صلابت، تحقیقی لیاقت اور تصنیفی صلاحیت کے لحاظ سے آپ امتیازی شان کے حامل تھے۔ منطق و فلسفہ علم معانی و بلاغت،اصول فقہ و تفسیر اور علم نحو و صرف میں کامل درک رکھتے تھے۔
ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی تجلیات امام رفاعی کے عرض مرتب میں لکھتے ہیں:
"آپ کی علمی صلاحیت بہت اچھی تھی، عربی اور فارسی زبان میں آسانی سے بات چیت کر لیا کرتے تھے ساتھ ہی ساتھ آپ خوش بیان مقرر اور عربی و فارسی اور اردو کے خوش خط کاتب بھی تھے۔ حضرت کی علمی صلاحیت و لیاقت ہی کے ناتے آپ کے دور کے بہت سارے علماء عظام و مفتیان کرام علمی معاملات میں آپ سے رجوع کرتے، عوام آپ سے استفتاء کرتے اور آپ ان کا شافی جواب تحریر فرماتے۔ اپنے دور کے مناظروں میں آپ کی شرکت متعدد تاریخی حوالوں سے ثابت ہے۔
چنانچہ دمن کے ایک مناظرہ میں آپ نے بھی شرکت کی، دمن میں آپ سے سلسلہ رفاعیہ میں مرید تھے، دمن، جو شہر سورت کے پاس ایک جزیرہ ہے۔ جہاں مچھیرے اور کچھ کاروباری بھی آباد ہیں۔ یہ 1915ء کی بات ہے، یہاں مسجد اور عیدگاہ تھی۔ لوگ سب سنی صحیح العقیدہ تھے۔ دو چار جو ہواے کھاے تھے، بربنا نفسانیت دوسری عیدگاہ قائم کرنے کی ٹھان لی۔ عام اکثریت نے ڈھیروں سمجھایا، مگر نہ ماننا تھی، نہ مانے۔ استفتا کی صورت میں یہ معاملہ امام اہلسنت امام
احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے دارالافتاء میں پہنچا۔امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے شرعی دلیلوں کی روشنی میں فہمائش کی۔ اس فتویٰ پر جہاں اجلہ علماء ہندوستان کی تائیدات و دستخط ہیں، وہیں خانقاہ رفاعیہ، بڑودہ گجرات کے ایک ذی علم بزرگ عالی مرتبت شیخ طریقت مفتی سید ابوالحسن شاہ جہاں نورالدین سیف اللہ رفاعی علیہ الرحمہ نے بھی تائید و دستخط کیے ہے۔ یہ حوالہ "فتاویٰ علماء زمن در دفع فساد اہل دمن” میں دیکھا جا سکتا ہے،جو کتاب مطبع تحفہ حنفیہ،پٹنہ سے ،1919ء میں چھپی ہے۔”(تجلیات امام رفاعی ص: 10) ظاہر ہے مناظرے میں بحیثیت مناظر معمولی صلاحیت کا انسان نہیں شریک ہوتا ہے۔

وفات:
آپ کا ابر کرم برسوں تک ملت اسلامیہ کی سوکھی کھیتیوں پر برستا رہا، اور آپ کی شمع حیات مذہب اسلام کو روشنی دیتے ہوے پگلتی رہی آخر ایک دن علم و حکمت کا یہ آفتاب عالم تاب روپوش ہوگیا، 3/ ربیع الاول 1335ھ کا دن آپ کے عقیدت مندوں کے لیے بڑا تاریک دن رہا جب آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
آپ کو اپنے بزرگوں کے سایہ رحمت میں خانقاہ رفاعیہ ڈانڈیا بازا بڑودہ، (گجرات) میں حضرت مولانا سید فخرالدین غلام حسین المعروف امیرمیاں رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس کے احاطہ میں دفن کیاگیا، مزار مبارک مرجع خلائق ہے۔

از قَلَم:
سید حسام الدین ابن سید جمال الدین رفاعی
خانقاہ رفاعیہ
بڑودہ، گجرات
9978344822

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button