ازقلم: احمد حسین رضوی
شعبہ قراءت و مقامات: جامعۃ الازھر قاہرہ مصر
جیسا کہ میں نے بہتیرے حفاظ وقراء کوتراویح پڑھاتے دیکھا ہے چاہے وہ سورہ تراویح ہی کیوں نہ ہو اس طرح قرآن پاک پڑھتے ہیں کہ یہ جاننا مشکل ہوتاہے کہ قاری صاحب یا حافظ صاحب قرآن پاک کے کونسے الفاظ و کلمات ادا کر رہے ہیں مطلب تجوید وقراءت وقف ورسم کی بالکل بھی رعایت نہیں کی جاتی یہاں تک کہ صفات عارضہ کی کیا بات صفات لازمہ بھی ترک کردیتے ہیں اور تیز رفتاری کا یہ عالم کی مشہور کلمات کے سوا کچھ بھی پتا کرنا مشکل ہوتا ہے کہ حافظ صاحب پڑھ کیا رہے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”کمالین علیٰ حاشیہ جلالین“کے حوالے سے ” تَرتیل“ کی وضاحت کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں : ”قراٰنِ مجید اِس طرح آہستہ اور ٹھہر کر پڑھو کہ سننے والا اِس کی آیات و اَلفاظ گن سکے ۔ نیزفرض نماز میں اس طرح تلاوت کرے کہ جُدا جُدا ہر حَرف سمجھ آئے ، تَراویح میں مُتَوَسِّط ( یعنی دَرمیانہ) طریقے پر پڑھے۔
تیز رفتاری کے ساتھ اس طرح قرآن پاک کا پڑھنا کہ الفاظ وحروف کی ادائگی مکمل نہ ہو شرعا بالکل بھی درست نہیں اس طرح قرآن پاک پڑھنا ثواب کے بجائے گناہ کا باعث ہے۔
اور اکثر ہمارے معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ تیز رفتار پڑھنے والوں کی بہت تعریفیں کی جاتی ہیں لیکن در حقیقت!! اس قدر تیز رفتاری سے پڑھنے والوں اور سامعین میں اسکی چاہت رکھنے والوں کی اصلاح کی ضرورت ہے ورنہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق بن سکتے ہیں کہ بہت سے رات کو قیام کرنے والوں(تراویح پڑھنے والوں)کو رات جگائی کے سوا کچھ نہیں ملتا
اوربعض حفاظ وقراء تَراویح میں قراٰن تو دَرمیانے اَنداز میں پڑھتے ہیں لیکن وقت بچانے کے لیے رکوع ، سجود اور تشہد وغیرہ میں بہت جلدی کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے تَعدیلِ اَرکان کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ۔ یاد رکھیے !نماز میں” تَعدیلِ اَرکان یعنی رکوع و سجود و قومہ ( یعنی رکوع سے سیدھا کھڑے ہونے ) و جلسہ( یعنی دو سجدوں کے دَرمیان سیدھا بیٹھنے ) میں کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اﷲِ کہنے کی قدر ( مِقدار ) ٹھہرنا ( واجب ہے ) ۔ حدیثِ پاک میں ہے : اِنسان کی نماز دُرُست نہیں ہوتی حتّٰی کہ رُکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے ۔
اِس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : تَعدیلِ اَرکان یعنی نمازکو اِطمینان سے ادا کرنا واجب ہے ۔ اس کے بغیر نماز کامِل نہیں بہت ناقِص اور واجبُ الاعادہ ہے ۔ یہاں اگرچہ رُکوع سجدے کا ذِکر ہے مگر مُراد سارے اَرکان ہیں۔
اس لئے میں ایسے حفاظ وقراء سے گزارش کرونگا کہ جس طرح شریعت مطہرہ نے ہمیں حکم دیا ہے ہم اسی انداز سے تمام نماز کو پڑھیں اور قرآن پاک کو تجوید وقراءت کے رعایت کے ساتھ الله ہمیں اس کی توفیق دے (آمین)
مزید یہ بھی بتادوں کہ آج کل لوگ صرف اچھی آواز والے حفاّظ وقراء کو ترجیح دیتے ہیں کی بس حافظ وقاری خوش الحان ہوں چاہے قراءت درست ہو یا نا ہو جبکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
حالانکہ اِمامت کا مِعیار اچھی اور سریلی آواز نہیں بلکہ اچھی قِراءَت ہے ۔ ہاں اچھی قِراءَت کے ساتھ ساتھ آواز بھی اچھی ہو تو سونے پہ سہاگا ہے ، لہٰذا خوش اِلحانی دیکھنے کے ساتھ ساتھ دُرُست خوانی بھی ضَرور دیکھنی چاہیے ۔ صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : خوش خوان کو امام بنانا نہ چاہیے بلکہ دُرُست خوان کو بنائیں۔
اس پیغام کو تمام حفاّظ وقراء تک پہنچائیں تاکہ ایسوں کی اصلاح ہو سکے۔۔۔۔۔
ربّ قدیر کے بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ مولا ہم سب کو شریعت کے مطابق تمام نمازوں کی ادائگی کی توفیق دے نیز قرآن پاک کو تجوید وقراءت کی رعایت کے ساتھ پڑھنےکی توفیق دے(آمین بجاہ امام المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)