رمضان المبارک

روزہ کا بیان

مرسلہ: محمد سعید جامعی، خطیب رضا جامع مسجد بڑھنی بازار سدھارتھ نگر یو۔پی۔

اللہ عزوجل کا ارشاد: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا ان پر فرض ہوا تھا جو تم سے پہلے ہوئے، تاکہ تم گناہوں  سے بچو
روزہ بہت عمدہ عبادت ہے، اس کی فضیلت میں  بہت حدیثیں  آئیں ۔ ان میں  سے بعض ذکر کی جاتی ہیں

‏‏‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ. (صحیح البخاری کتاب الصوم ج ۱ ص ۲۲٦
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’جب رمضان آتا ہے، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، ‏‏‏‏‏‏وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَاب، ‏‏‏‏‏‏وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَاب، ‏‏‏‏‏‏وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، ‏‏‏‏‏‏وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، ‏‏‏‏‏‏وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ .
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنّ قید کر لیے جاتے ہیں  اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں  تو اُن میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں  جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں  تو اُن میں  سے کوئی دروازہ بند نہیں  کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے، اے خیر طلب کرنے والے! متوجہ ہو اور اے شر کے چاہنے والے! باز رہ اور کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں  اور یہ ہر رات میں  ہوتا ہے۔‘‘  
(جامع ترمذی ابواب الصوم ج ۲ ص ۱۵۵)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، ‏‏‏‏‏‏فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، ‏‏‏‏‏‏وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ
            حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رمضان آیا، یہ برکت کا مہینہ ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے، اس میں  آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں  اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں  اور سرکش شیطانوں  کے طوق ڈال دیے جاتے ہیں  اور اس میں ایک رات ا یسی ہے جو ہزار مہینوں  سے بہتر ہے، جو اس کی بھلائی سے محروم رہا، وہ بیشک محروم ہے۔‘‘
(سنن نسائی کتاب الصیام ص ۳۵۵)
ابو داود و دارمی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ لوگوں  نے باہم چاند دیکھنا شروع کیا، میں  نے    حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو خبر دی کہ میں  نے چاند دیکھا ہے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں  کو روزہ رکھنے کا  حکم فرمایا۔ 
مسئلہ ۱:  پانچ مہینوں  کا چاند دیکھنا، واجب کفایہ ہے۔
            (۱)  شعبان۔
                (۲)  رمضان۔
                (۳)  شوال۔
                (۴)  ذیقعدہ۔
                (۵)  ذی الحجہ۔
            شعبان کا اس لیے کہ اگر رمضان کا چاند دیکھتے وقت اَبر یا غبار ہو تو یہ تیس پورے کر کے رمضان شروع کریں  اور رمضان کاروزہ رکھنے کے لیے اور شوال کا روزہ ختم کرنے کے لیے اورذیقعدہ کا ذی الحجہ کے لیے (5) اور ذی الحجہ کا بقرعید     کے لیے۔ (6) (فتاویٰ رضویہ)
 
مسئلہ ۲:  شعبان کی انتیس ۲۹ کو شام کے وقت چاند دیکھیں  دکھائی دے تو کل روزہ رکھیں ، ورنہ شعبان کے تیس ۳۰ دن پورے کر کے رمضان کا مہینہ شروع کریں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۳ :  تار یا ٹیلیفون سے رویت ہلال نہیں  ثابت ہوسکتی، نہ بازاری افواہ اور جنتریوں  اور اخباروں  میں  چھپا ہونا کوئی ثبوت ہے۔ آج کل عموماً دیکھا جاتا ہے کہ انتیس ۲۹ رمضان کو بکثرت ایک جگہ سے دوسری جگہ تار بھیجے جاتے ہیں  کہ چاند ہوا یا نہیں ، اگر کہیں  سے تار آگیا بس لو عید آگئی یہ محض ناجائز و حرام ہے۔
            تار کیا چیز ہے؟ اولاً تو یہی معلوم نہیں  کہ جس کا نام لکھا ہے واقعی اُسی کا بھیجا ہوا ہے اور فرض کرو اُسی کا ہو تو تمھارے پاس کیا ثبوت اور یہ بھی سہی تو تار میں  اکثر غلطیاں  ہوتی ہی رہتی ہیں ، ہاں  کا نہیں  نہیں  کا ہاں  معمولی بات ہے اور مانا کہ بالکل صحیح پہنچا تو یہ محض ایک خبر ہے شہادت نہیں  اور وہ بھی بیسوں  واسطہ سے اگر تار دینے والا انگریزی پڑھا ہوا نہیں  تو کسی اور سے لکھوائے گا معلوم نہیں  کہ اُس نے کیا لکھوایا اُس نے کیا لکھا، آدمی کو دیا اُس نے تار دینے والے کے حوالہ کیا، اب یہاں  کے تار گھر میں  پہنچا تو اُس نے تقسیم کرنے والے کو دیا اُس نے اگر کسی اور کے حوالے کر دیا تو معلوم نہیں  کتنے وسائط سے اُس کوملے اور اگر اسی کو دیا جب بھی کتنے واسطے ہیں  پھر یہ دیکھیے کہ مسلمان مستور جس کا عادل و فاسق ہونا معلوم نہ ہو اُس تک کی گواہی معتبر نہیں  اور یہاں  جن جن ذریعوں  سے تار پہنچا اُن میں  سب کے سب مسلمان ہی ہوں ، یہ ایک عقلی احتمال ہے جس کا وجود معلوم نہیں  ہوتا اور اگر یہ مکتوب الیہ (2) صاحب بھی انگریزی پڑھے نہ ہوں  تو کسی سے پڑھوائیں  گے، اگر کسی کافر نے پڑھا تو  کیا اعتبار اور مسلمان نے پڑھا تو کیا اعتماد کہ صحیح پڑھا۔ غرض شمار کیجیے تو بکثرت ایسی وجہیں  ہیں  جو تار کے اعتبار کو کھوتی ہیں فقہا نے خط کا تو اعتبار ہی نہ کیا اگرچہ کاتب کے دستخط تحریر پہچانتا ہو اور اُس پر اُس کی مہر بھی ہو کہ   الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم  خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مُہر مُہر کے۔ تو کجاتار۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔