سیر و تفریح

ایک سفر تین شخصیات

ازقلم: پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)

پچھلے کچھ ایام مسلسل سفر میں گزرے۔ سفر کے تسلسل نے کچھ رُوٹِین کاموں کو متاثر بھی کیا مگر سفر کے ذریعے "سِیرُوا فِی الاَرضِ فَانظُرُوا” کے جو فوائد حاصل ہوئے وہ ما فات کی تلافی کے لیے کافی و وافی ہیں. سفر کی یاد داشت لکھنے کی عادت ہے نہ فرصت مگر جب دوران سفر غیر معمولی واقعہ پیش آئے یا غیر معمولی شخصیات سے ملاقات میسر آ جائے تو اسے لکھا جانا چاہیے. گزشتہ دنوں لنجر اسلامک ایپلیکیشن (Linger) کی افتتاحی تقریب میں مفتی ثناء المصطفی صاحب کی دعوت پر لکھنؤ جانا ہوا. تقریب میں "کتاب کی اہمیت اور اوڈیو بُک کے فوائد” کے موضوع پر احقر کی مختصر "اسپیچ” بھی ہوئی. لکھنؤ کی لسانی عظمت کا لحاظ کرتے ہوئے "خطاب” کہنا چاہیے تھا مگر کیا کیجے کہ آج کل نسوانیت ہی کا بول بالا ہے، لہٰذا اسپیچ ہی سہی. لِنجر کا مَنچ کثیر علماء اور چند دانشوروں کے تعارف، ان سے مشاورت اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کا سبب بنا.

لکھنؤ کے تقریباً دو روزہ قیام کے دوران کچھ اساتذہ کرام کی بارگاہ میں حاضری کا شرف بھی ملا، ملک بھر سے آئے ہوئے بہت سارے روشن چہروں اور بہترین دماغوں کے ساتھ نششت و برخاست بھی رہی، شعور کی نئی راہیں بھی ہموار ہوئیں اور چشمِ حقیقت کچھ اور نظاروں سے واقف بھی ہوئی. مگر ساری انجمن کے علم افزا ماحول میں "تین شخصیات” نے احقر کو علمی، فکری اور عملی سطح پر اس حد تک متاثر کیا کہ انگلیاں خود بخود کی بورڈ کی طرف چلی گئیں اور سفر نامہ کے محرک کی شکل میں تینوں کا تذکرہ سامنے آ گیا. آج کل انگلیاں کی بورڈ ہی کی طرف لپکتی ہیں کیوں کہ سفر میں کاغذ قلم میسر بھی ہو تو مشینی سواری کی حرکت ٹیڑھی میڑھی خامہ فرسائی کرا دیتی ہے.

تینوں حضرات سے غائبانہ تعارف تو پہلے بھی تھا مگر ملاقات نے حسن عقیدت کو محض عقیدت سے پرے حقیقت کی منزل تک پہنچا دیا. کہنے کو تو یہ تین افراد یا شخصیات ہیں مگر ان کے پاس بیٹھنے والا؛ ہر ایک کو اپنے آپ میں ایک انجمن تصور کرتا ہے. تینوں حضرات کے ساتھ بھرپور مجالست، مشاورت اور تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی سیاحت کا موقع بھی ملا. ملاقات پہلی ضرور تھی مگر شاید بہت ساری ملاقاتوں کی پیش بندی کر گئی. ایک کا قلم وجہ شہرت ہے، دوسرے کی تدریس اور تیسرے کی تحریک. پہلے کو دنیا تحریری کاوشوں اور مطبوعہ کتابوں کے سبب مولانا غلام مصطفی نعیمی کے نام سے جانتی اور مانتی ہے. دوسرا نام مولانا نثار احمد مصباحی کا ہے جو احباب پر علم و حکمت کے موتی نثار کرنے میں سخی سلطان والا مرتبہ رکھتے ہیں. تیسرا نام یوں تو گلوبل شاعری کی سائٹ پر جگ مگاتا ہے مگر مولانا شاہد مصباحی کی محنت پسند، جفا کش اور زمینی دوڑ بھاگ میں مصروف شخصیت کا ہر پہلو ان کے شاعرانہ تعارف کا علی الاعلان انکار کرتا ہے.

نعیمی صاحب کو اول رکھنے کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ کوئی زود فہم شخص یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اپنی ہی علمی برادری (مصباحی) کی تعریف کے پل باندھ کر منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش ہو رہی ہے، اور ایک وجہ موصوف کے ساتھ ہونے والی دوہری ملاقات بھی ہے. پہلے لکھنؤ میں؛ پھر دو روز بعد دہلی میں. لکھنؤ میں دونوں مہمان تھے، دہلی میں وہ میزبان اور ہم مہمان. ہم سے مراد احقر اور مولانا محمد رضا مصباحی. نعیمی صاحب کی طبیعت ان کی اپنی تحریروں سے کافی میل کھاتی ہے. جتنے متنوّع موضوعات کو ان کی تحریر لچک دار اسلوب میں سمیٹتی ہے اتنا ہی تنوع ان کی شخصیت کے ملاقاتی پہلو میں بھی ہے. لکھنؤ میں ان کے قدم دوستانہ چال چل رہے تھے اور دہلی پہنچے تو موصوف میزبانی کا دسترخوان بچھائے خوش آمدید کی صدائیں دے رہے تھے. ویسے تو نعیمی صاحب حضرت صدر الافاضل مرادآبادی کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں مگر دہلی میں رہنے کے سبب ولیّ اللہی مزاجِ علم کے امین بھی ہیں. گویا کہ خیرآبادی سلسلۂ علم کا ایک نمائندہ؛ جامعہ نعیمیہ سے بریلوی سلسلۂ علم کی سوغات لے کر شیخ محقق کی دہلی میں آ بسا ہے. کہتے ہیں رزق اور موت؛ انسان کہیں بھی ہو اسے آ لیتے ہیں، بہرحال علم ایک عمدہ رزق ہے اور بے کاری ایک بری موت.

مولانا نثار مصباحی صاحب جتنے وسیع المطالعہ ہیں اتنے ہی وسیع القلب بھی ہیں. مختلف فنون کی گہرائیوں تک رسائی کے باوجود طبیعت میں لطافت اب تک موجزن ہے. تحریر و تقریر میں رعب دار اور سنجیدہ نظر آنے والی یہ شخصیت قریب کی ملاقات میں بہت پر لطف اور انتہائی خوش مزاج ہے. کمال تو یہ بھی ہے کہ موصوف صرف نام کے نثار نہیں بلکہ خود نثار ہونے اور اپنا بہت کچھ نثار کرنے کا گُر بھی رکھتے ہیں. کردار کی عظمت اور ملاقات کی تواضع سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ موصوف گذشتہ عیسوی صدی کے ممتاز فارغین میں سے ہیں. علمی قد اتنا اونچا کہ سینکڑوں شاگردوں کو تشفی کرانے والے باکمال استاد اور طبیعت میں سادگی و انکساری کا وہ رنگ کہ کم واقف لوگ اپنے جیسا طالب علم سمجھ بیٹھیں تو تعجب نہ ہو. کہتے ہیں پہاڑ کا سر؛ زمین پر جتنا اونچا دکھائی دیتا ہے اتنے ہی نیچے اس نے اپنے پیر گاڑے ہوتے ہیں، یعنی بلندی میں جتنا قد آور پستی میں اتنا ہی گہرا. شخصیات کا حال بھی ایسا ہی ہے. کم علم ریت کے ٹیلے ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں اور علم کے پہاڑ عاجزی سے اپنی گردن جھکائے ہوتے ہیں. شاید اسی لیے پہاڑ پہاڑ ہوتا ہے، پتھر کا ہو چاہے علم کا. قرآن نے بھی تو پتھروں کا ذکر کیا ہے. "اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں.” دل پتھر ہو جائے تو آدمی پہاڑ سے زیادہ سخت ہو جاتا ہے اور اگر انسان علم و تواضع کا پہاڑ بن جائے تو اس کے سینے سے فیض کی نہریں پھوٹ پڑتی ہیں. پھر جب وہ دو پیر والا علم کا پہاڑ شکر گزاری کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے تو خشیت الٰہی سے گر پڑتا ہے.” اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں.” اختصار کے ساتھ مولانا نثار مصباحی صاحب کا تمثیلی تعارف مکمل ہوا اور مسافر آگے بڑھا.

مولانا شاہد مصباحی صاحب کی فراغت کا دورانیہ مذکورہ دونوں حضرات سے کافی کم ہے مگر اس کے تناسب سے ان کی خدمات کا گراف کافی اونچا ہے. موصوف سوشل میڈیا پر گلوبل اردو کی شاعرانہ مصروفیات کی وجہ سے معروف ضرور ہیں مگر ان کا قومی درد اور ان کی زمینی محنت؛ تحریک علماء بندیل کھنڈ کی شکل میں زیادہ توجہ دیے جانے کے قابل ہے. شیخ سعدی کی "تا مرد سخن نہ گفتہ باشد” والی نصیحت کا تجربہ آپ کو مولانا شاہد صاحب کے ساتھ ہو سکتا ہے. دیکھنے میں بہت معمولی نظر آنے والا شخص جب گویا ہوتا ہے تو تجربات کا ایک پِٹارا کھلتا ہے اور عزائم کا وہ دھارا بہتا ہے جو کسی بھی سامع کے اندر دین کی خدمت کے لیے دوڑ بھاگ کا جذبہ پیدا کر سکتا ہے. فکری کوہ پیمائی کے مقابلے میں زمینی آبلہ پائی کافی دشوار ہوتی ہے. فکری سفر ذہنی طور پر پریشان کن ہونے کے باوجود جسمانی طور پر آرام دہ ہوتا ہے جب کہ زمینی محنت میں ذہن کے ساتھ ساتھ بدن بھی تھک کر چور چور ہو جاتا ہے. لہٰذا مولانا شاہد مصباحی کی زمینی جد و جہد دہری اہمیت کی حامل ہے. مسافر اپنے تحریری سفر میں تیسرے شخص کے تعارف پر بہت کم ٹھہرا ہے کیوں کہ اسے واپس پلٹنے کی جلدی ہے.

مسافر لوٹتے ہوئے سوغات کے طور پر تین کرداروں کے عناصر ساتھ لے آیا تھا، آج اُن عناصر میں لفظوں کے ذریعے ظہور ترکیب ہو رہا ہے. تینوں حضرات؛ ملن سار، خلیق، سخی، علم دوست، تکلّف سے خالی اور تواضع سے بھرپور طبیعت کے مالک ہیں. اتنے سارے اوصاف حمیدہ کا اجتماع آج کل عالم کہے جانے والوں میں نایاب نہ سہی، مگر کم یاب ضرور ہے. پھر وہ بھی ایک ہی سفر میں تین تین سے ملاقات ہو جانے پر جو امنگ اٹھتی ہے اسے بیان کرنے کے لیے بہر حال حسن اتفاق کا لفظ چھوٹا ہے. سفر بھی عجیب عمل ہے. آدمی ایک سفر کرتا ہے، پھر اس کی واردات لکھتا ہے اس حال میں کہ وہ دوسرا سفر کر رہا ہوتا ہے. اور ہاں! بیٹھے بیٹھے بھی تو سفر ہوتا ہے، ہر آن ہر لمحہ سفر. زندگی سے موت کی طرف؛ دنیا سے آخرت کی طرف. سفر جاری ہے. کامیاب ہے وہ، مراد کو پہنچا وہ، منزل پائی اس نے جو سچوں کے ساتھ اچھوں کے ساتھ ہو گیا۔