رمضان المبارک

روزے کے جسمانی و روحانی فوائد، اسلام و سائنس کی روشنی میں (قسط چہارم)

از قلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو۔پی۔

(٤) روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔

(٥)۔ خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ افطار کے وقت غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔

(٦)روزے سے بڑھاپے کے عمل میں کمی اور عمر میں اضافہ.
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے صحت کمزور ہوجاتی ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس سے صحت انسانی کو مزید تقویت و توانائی حاصل ہوتی ہے ۔بلکہ روزہ رکھنے سے ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اس سے انسانی جسم کی جلد مـضبوط ہوتی ہے اور جھریاں کم ہو جاتی ہیں ۔جسم کو خوراک سے روکنے کی وجہ سے بہت سارے مہلک امراض جیسے کینسر ،دل کے امراض ،شوگر اور دماغی امراض کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ ”world health net،،کی تحقیقات کی روشنی میں مذکورہ باتوں کے ساتھ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنے سے کینسر کی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔سائنسداں کی آنکھیں آج کھلی ہیں لیکن نبی ﷺ اس چیز کو پہلے ہی دوآتشہ کر دیے کہ نفلی روزے میں ”داؤدی روزے ،،بہتر ہوتے ہیں یعنی ایک دن چھوڑکر دوسرے دن روزہ رکھنا ”کان یصوم یوما و یفطر یوما ،،(صحیح بخاری:۱۰۷۹)

(٧) دماغی امراض سے دوری.
جو لوگ جوانی میں تسلسل کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرتے ہیں یہ جب عالم پیری میں پہنچتے ہیں تو دماغی امراض کے شکار کم ہوتے ہیں ۔جیسا کہ امریکی ڈاکٹر مارک مٹیسن کے مطابق ”روزے رکھنے سے انسانی دماغ الرائمز ز(Alzhemiers)پارکنس (parkinsons) اور اس کے علاوہ دیگردماغی امراض سے محفوظ رہتا ہے ،،مزید آگے لکھتے ہیں ” دماغ کو سب سے زیادہ فائدہ اس میں ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً روزہ رکھے۔