نبی کریمﷺ

سرور دوجہاں کا خلق عظیم اور فاضل بریلوی کا یہ شعر

ایمان ہے قالِ مصطفائی
قرآن ہے حالِ مصطفائی

ازقلم: سعدیہ بتول اشرفی (سبا)

مشکل الفاظ کے معنی:
قال:- گفتگو
حال:- حالت ، سیرت

مطلبِ شعر:
حضور ﷺ کا فرمان ، آپ ﷺ کی پیاری پیاری باتیں ایمان ہیں اور آپ کی سیرت طیبہ، آپ کے حالات و کیفیات کا نام قرآن ہے

اللہ تعالیٰ آپ کے خلق کو قرآن پاک میں یوں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)
اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو ۔

سبحان اللہ ! حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک نے اخلاق کے درجات مکمل کرنے اور اچھے اعمال کے کمالات پورے کرنے کے لئے مجھ کو بھیجا۔ (شرح السنہ)

حضرتِ سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ائے ام المومنین مجھے رسول ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے _ ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں ! تو آپ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ ﷺ کا خُلْق قرآن ہی تو ہے۔(مسلم شریف ، صراط الجنان)

سبحان اللہ ! "کان خلقہ القرآن” یعنی تعلیمات قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ کے اخلاق تھے: ؏ قرآن ہے حالِ مصطفائی

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا اخلاق تمام اخلاقی اچھائیوں کا جامع ہے اللہ پاک نے آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کا شکر ، حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خُلّت ، حضرت موسی علیہ السلام کا اخلاص ،حضرت اسمعیل علیہ السلام کے وعدے کی سچائی ، حضرت یعقوب علیہ السلام و حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر ، حضرت داؤد علیہ السلام کا عذر ، حضرت سلیمان علیہ السلام و حضرت عیسی علیہ السلام کی عاجزی ، اور ان کے علاوہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے اخلاق عطا فرمائے۔ اور یہ وہ مقام ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام میں سے صرف سید المرسلین خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضور محمد مصطفی ﷺ کو عطا ہوا ہے۔ (روح البیان ، صراط الجنان)

آپ مخلوقات میں سب سے افضل ہیں کعبہ کی زیارت کرنے والا حاجی ، نماز پڑھنے والا نمازی ، قرأت کرنے والا قاری ، مولوی ، قاضی وغیرہ اور آپ کو دیکھنے والا صحابی ہے جو غیاث و اقطاب و ابدال و اولیاء سب سے افضل ہے۔

آپ کی شان پاک یہ ہے کہ
آپ حجرے شریف میں ہیں قرآن وہاں نازل ہورہا ہے آپ سفر میں ہیں قرآن وہاں نازل ہو رہا ہے آپ جنگ میں ہیں قرآن وہاں نازل ہورہا ہے آپ حضر میں ہیں قرآن وہاں نازل ہورہا ہے
آپ بسترِ پاک پر ہیں قرآن وہاں نازل ہورہا ہے
آپ مکے میں رونق افروز تھے تو آیات مکی ہیں مدینہ تشریف لے گئے تو آیات مدنی ہوگئیں آپ قرآن ناطق چلتا پھرتا قرآن تھے آپ کے اخلاق قرآن کریم ، آپ بلند اخلاق والے ہیں۔

ترے خلق کو حق نے عظیم کہا ترے خلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا ترے خالق حسن ادا کی قسم

آپ کو اختیار جس کے لئے جس چیز کو چاہیں حلال فرمادیں جس کو چاہیں حرام فرمادیں آپ کا فرمان دین ہے کہ

ایمان ہے قال مصطفائیﷺ
قرآن ہے حالِ مصطفائیﷺ

آقا ﷺ کی سیرتِ مبارکہ و آپ کے حالِ پاک کو قرآن پاک بیان فرماتا ہے

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)
اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔
کہیں "یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ”(۱)اے چادر اوڑھنے والے۔ کہہ کر آقاﷺ کی حالتِ پاک کو رب قدیر بیان فرمارہا ہے پتہ چلا کہ اللہ پاک کو حضورﷺ کی ہر ہر ادا پیاری ہے ہر ہر ادا پسند ہے

آپﷺ ہی کے لئے "یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ”(۱) فرمایا

اور اپنے کلام پاک میں آقاﷺ کی سیرت پاک بیان فرمائی:
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)

بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔

سبحان اللہ ! یہ شان مصطفیﷺ ہے آپ ﷺ کی ہر ایک بات وحئ خدا ہے دین و ایمان ہے۔

ایمان ہے قالِ مصطفائی
قرآن ہے حالِ مصطفائی