نبی کریمﷺ

تاجدار کائنات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم عالی نسب ہیں

ازقلم: اشکر رضا لطفی مصباحی

آج کی اس پڑھی لکھی دنیا اور ریسرچ ایج میں ، ہورہی سیرت مصطفی کانفرنسوں میں اپنی تقریروں کا موضوع ، سیرت اور فکر استشراق کو بناناچاہیے ۔
بارگاہ رسالت کے گستاخوں کی گستاخی پر، غیرت وحمیت اسلامی کا بیدار ہونا یقینا ، ایمان کی علامت ہے، کوئی غلام اپنے آقا کی توہین کیسے برداشت کرسکتا ہے ؟
لیکن محض خون کا ابال مارناکافی نہیں ہے ، ہمیں ان الزامات کو دلائل کی روشنی میں باطل قراردیناہوگا ، جو مستشرقین اور اغیار کی طرف سے ، سیرت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے ہیں ، تبھی جاکر ہم ایک امتی ہونے کا ثبوت فراہم کرسکتےہیں ، اور اپنے دعویِٰ ایمان واسلام میں سچے ثابت ہوسکتے ہیں ۔

مستشرقین (orientalist) نے جہاں اسلام کے احکام کو توڑمروڑکر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وہیں پیغمبر اسلام تاجدار کاٸنات محمد رسول اللٰہﷺ کی ذات اقدس کو بھی ہدف تنقید بنایا، اور مختلف حیثیتوں سے آپﷺ کے ارفع واعلیٰ وقار کو مجروح کرنے کی ناپاک کوشش کی ، کبھی تو آپ کی مکی ومدنی زندگی کا غیرمنصفانہ موازنہ کرکے غلط تأثر دنیا تک پہونچایا، اور کبھی آپ کے بےداغ دامان توکل کو، خون مظلوم کے چھینٹے سے ، داغ دار کرنے کی جسارت کی
اس سے بھی سکون میسر نہ آیا تو آپ کے اعلیٰ ترین نسب پاک پر قدغن لگایا اور کہا:

” محمد (ﷺ) ابن عبد اللٰہ ایک ایسی عورت کی نسل سے ہیں جو ایک بادشاہ (فرعون مصر)کی لونڈی تھی اور وہ بادشاہ اس سے اپنی بشری ضرورت پورا کرتا تھا ، اس بادشاہ نے ایک مسافر کو وہ عورت ہبہ کردیا محمد اسی سلیو گرل کی نسل سے ہیں “ (دی نیو جیروم تفسیر باٸبل وغیرہ)
العیاذ باللٰہ

ایسا انہوں نے اس ليے کہا کہ حب رسول ﷺ کی قندیلیں جو مسلمانوں کے دلوں میں روشن ہیں مطعون نسب کی وجہ سے اس کی لو کو مدھم کردیاجاۓ یا سرے سے وہ قندیلیں ہی بجھادی جاٸیں ، اب ہمیں اپنا اور اپنے اردگرد کا جائزہ لینا ہوگا کہ ، ہم کیا کررہے ہیں ، ہم سیرت مصطفی پر کیے گیے اعتراضات کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟ یا ہم صرف اپنی ذات/قوم/ملک تک محدود ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ نے حضرت سارہ کو ان کی خدمت کےليے اپنی بیٹی(حضرت ہاجرہ) دی۔

ذیل میں صحیح بخاری کی حدیث جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کا خلاصہ اور مفہوم پیش کیاجاتا ہے، تاکہ حقیقت آشکارا ہوجاۓ .

”حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللٰہ عنہا ایک ظالم بادشاہ کی حدود سلطنت سے گزررہے تھے ،بادشاہ کو خبر ملی کہ یہاں ایک ایسا شخص آیاہے جس ساتھ دنیا کی حسین ترین عورت ہے ، بادشاہ نے حضرت ابراہیم کو بلواکر حضرت سارہ کے تعلق سے پوچھا اور ان کو بلوایا ، جب حضرت سارہ اس کے پاس گٸیں تو بادشاہ نے حسن وجمال کے نادر شاہکار کو دیکھ کر ان کی طرف براٸی کی نیت سے دیکھتے ہوۓ ہاتھ بڑھایا، لیکن زمین نے اسے پکڑلیا ، بادشاہ یہ کیفیت دیکھ کر ڈرگیا اور حضرت سارہ سے عرض کرنے لگا: آپ میرے ليے دعا کریں کہ میں اس مصیبت سے نجات پاجاٶں آپ کو کوٸی ضررنہیں پہونچاٶنگا ! حضرت سارہ نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی اور زمین نے اسے چھوڑدیا ،
لیکن پھر اس نے ہاتھ بڑھانا چاہا، توزمین نے پہلے سے زیادہ سختی کے ساتھ اسے پکڑلیا، بادشاہ نے کہا : آپ میرے ليے اس مصیبت سے نکلنے کی دعا کریں اب میں آپ کو کوٸی ضررنہیں پہونچاٶنگا ! حضرت سارہ کی دعاسے زمین نے اسے چھوڑدیا ،
اس کے بعد اس نے اپنے بعض خدمت گار کو بلاکر کہا کہ ” تم میرے پاس انسان نہیں بلکہ سرکش جن کو لیکر آۓ ہو فاخدمھا ھاجر“ اور چلتے وقت حضرت سارہ کی خدمت کرنے کیليے ( حضرت) ہاجرہ بطور تحفہ دیا“ ( صحیح بخاری رقم الحدیث ٣٣٥٨)

بعض تاریخی کتب میں یہ بھی ملتا ہے کہ ، حضرت ہاجرہ قبطی کنیز اور باندی تھیں ( الکامل لابن الاثیروغیرہ)
لیکن حق وہی ہے جو فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ حضرت ہاجرہ بادشاہ کی بیٹی تھیں ( نزھة القاری شرح صحیح البخاری جلد ٣ صفحہ ٥٤٦)
اور ” فاخدمھاھاجر“ کا مطلب یہ ہے کہ :

بادشاہ نے حضرت سارہ کی جلالت شان اور کرامت دیکھی تو کہا ، میری بیٹی ہاجرہ میرے پاس شہزادی بن کر رہے، اس سے اچھا ہے کہ وہ ، اس عفت وپاکدامنی کا مجسمہ، سارہ کی خادمہ اور کنیز بن کر رہے .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے