ربیع الاولنبی کریمﷺ

عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

ازقلم: اسلام الدین احمدانجم فیضی

اللہ جل مجدہ کاسب سے بڑافضل اور سب سے بڑی نعمت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ اور بعثت طیبہ ہے اور آپ کی تشریف آوری پر مسرت وشادمانی کے اظہار آپ کے حالاتِ وکمالات۔فضائل ومعجزات بیان کرنے کا نام عیدمیلادالنبی ہے جو مسلمانوں کی حقیقی عید ہے اوردنیاواخرت تمام عیدیں اسی صبح عید کی
مرہون منت ہیں
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔ ماثبت بالسنہ میں تحریر فرماتے ہیں شب میلاد مبارک لیلہ القدر سے بلاشبہ افضل ہے اس لئے کہ میلاد کی رات خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظہور کی رات ہے
اورشب قدر حضور کو عطا کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ جس رات کو ذات مقدسہ سے شرف ملا وہ
اس رات سے ضرور افضل قرار پائے گی جو حضور کو دیئے جانے کی وجہ سے شرف والی ہے
نیز لیلہ القدر نزولِ ملائکہ
کی وجہ سے مشرف ہوئی اور
لیلہ المیلاد بنفس نفیس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظہور مبارک سے شرفیاب ہوئی
اور اس لئے لیلہ القدر میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت پر فضل واحسان ہے اورلیلہ المیلاد میں تمام موجودات عالم پر اللہ تعالیٰ نے
فضل واحسان فرمایا کیونکہ حضور رحمت للعالمین ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تمام خلائق اھل السموت والارضین پر عام ہوگئیں
ماثبت بالسنہ ص78
نیز امام قسطلانی نے بھی مواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 26/ 27 پر لیلہ القدر پر
شب میلاد کےافضل ہونے پر یہی
دلائل قائم فرمائے اور اس مضمون کو تفصیل سے بیان فرمایا
امام قسطلانی شارح بخآری
مواہب اللدنیہ میں تحریر فرماتے ہیں
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محفلیں منعقد کرتے چلے آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ کھانے پکاتے رہے اور دعوت طعام کرتے رہے اوران راتوں میں انواع و اقسام کی خیرات کرتے رہے جس کی برکتوں سے ان پر اللہ تعالی کا فضل ظاہرہوتارہا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد مبارک کی رات کو عیدبنالیا
پروردگارعالم یوم میلادالنبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیوض وبرکات سے عالم اسلام کو مستفیض ومستنیر فرمائے۔ آمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button