فقہ و فتاویٰ

صدقہ فطر کے فضائل و مسائل

ازقلم: عبدالرشید امجدی اشرفی دیناجپوری

صدقہ فطر یا فطرانہ، ایک خیرات سے متعلقہ اسلامی اصطلاح ہے۔ اسلام میں اس کو رمضان کے روزوں میں لغو اور بیہودہ کلام کی طہارت کے لیے قرار دیا گيا ہے۔
سنن ابی داؤد کتاب الزکوۃ
صدقہ فطر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر یکم رمضان کی صبح طلوع ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے۔ اور اس کے ادا کرنے کا آخری وقت نماز عید سے پہلے تک ہے
بہار شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ نمبر 70
اللہ تبارَک وَ تعالیٰ پارہ 30 سُوْرَۃُ الْاَعْلٰی کی آیت نمبر 14تا15 میں ارشاد فرماتا ہے :
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِهٖ فَصَلّٰىؕ
ترجَمہ :- بے شک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کرنماز پڑھی۔
صدرُالْاَ فاضِل حضرت علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَہ خَزائِنُ العِرفان میں اس آیتِ کریمہ کے تحت لکھتے ہیں : اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’ تَزَكّٰى‘‘ سے صدقۂِ فطر دینا اور رب کا نام لینے سے عید گاہ کے راستے میں تکبیریں کہنااور نماز سے نمازِ عید مراد ہے۔ خزائن العرفان ص۱۰۹۹
حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا گیا
تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ”یہ آیت صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوئی
صحیح ابن خزیمہ، الحدیث ۳۹۷ ، ج ۴، ص ۹۰)
حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان : ”جو تمہارے مالدار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں پاک فرما دے گا اور جو تمہارے غریب ہیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اس سے بھی زیادہ دے گا۔
سنن ابی داود، کتاب الزکوٰۃ ج۲، ص۱۶۱
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں، کہ” صدقہ فطر ادا کرنے میں تین فضلتیں ہیں؛ پہلی روزے کا قبول ہونا، دوسری سکرات موت میں آسانی اور تیسری عذاب قبرسے نجات۔”
المبسوط للسرخسی، جلد دوم
حضرت سیدنا ابو خلدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں : کہ میں حضرت سیدنا ابو العالیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ کل جب تم عید گاہ جاؤ، تو مجھ سے ملتے جانا جب میں گیا تو مجھ سے فرمایا کیا تم نے کچھ کھایا ؟ میں نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نہا چکے ہو ؟ میں نے کہا ہاں فرمایا صدقہ فطر ادا کر چکے ہو ؟ میں نے کہا ہاں صدقہ فطر اداکر دیا ہے فرمانے لگے میں نے تمہیں اسی لیے بلایا تھاپھر آپ نے یہ آیت کریمہ
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِهٖ فَصَلّٰىؕ
تلاوت کی اور فرمایا اہل مدینہ صدقہ فطر اورپانی پلانے سے افضل کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے
صدقۂ فطر کا شرعی حکم
صدقۂ فطر دینا واجب ہے صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں پر صدقۂ فطرمقرر کیا
صحیح البخاري، ، کتاب الزکوٰۃ
صدقۂ فطر کس پر واجب ہے
صدقۂ فطر ہر اس آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مالک ِ نصاب ہو اوراس کانصاب حاجت ِ اصلیہ سے فارغ ہو مالِکِ نِصاب مَرد اپنی طرف سے ، اپنے چھوٹے بچّوں کی طرف سے اور اگر کوئی مَجْنُون (یعنی پاگل )اولاد ہے (چاہے پھر وہ پاگل اولاد بالِغ ہی کیوں نہ ہو)تو اُس کی طرف سے بھی صَدَقَۂِ فِطْر ادا کرے ۔ہاں ! اگر وہ بچّہ یامَجْنُونخود صاحِبِ نِصاب ہے تو پھراُ س کے مال میں سے فِطْرہ اداکردے ۔
الفتاوی الھندیۃ ج۱، ص۱۹۲


وجوب کا وقت
عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے ، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے ۔ الفتاوی الھندیہ
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اس (یعنی صدقۂ فطر)کے دینے کا وقت واسع ہے عید الفطر سے پہلے بھی دے سکتا ہے اور بعد بھی، مگر بعد کو تاخیر نہ چاہیے بلکہ اَولی یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے نکال دے کہ حدیث میں ہے صاحبِ نصاب کے روزے معلق رہتے ہیں جب تک یہ صدقہ ادا نہ کرے گا
فتاویٰ ٰرضویہ، ج۱۰، ص۲۵۳*

یتیم بچوں کا فطرہ
باپ نہ ہوتو اس کی جگہ دادا پراپنے غریب یتیم پوتے ، پوتی کی طرف سے صدقۂ فطر دینا واجب ہے جبکہ یہ بچے مالدار نہ ہوں۔(الدرالمختار، کتاب الزکاۃ)
غریب باپ کے بچوں کا فطرہ
باپ غریب ہوتو اس کی جگہ مالک نصاب دادا پراپنے غریب پوتے ، پوتی کی طرف سے صدقۂ فطر دینا واجب ہے جبکہ بچے مالدار نہ ہوں۔
فطرہ میں کیا دینا افضل ہے
گیہوں اور جَو کے دینے سے اُن کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے ، خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جَو کی یا کھجور کی مگر زمانہ قحط میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے۔
الفتاوی الھندیہ ،و نور الایضاح، کتاب الزکاۃ


فطرہ کس کو دیاجائے
صدقۂ فطرکے مصَا رِف وُہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جِن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اِنہیں فِطْرہ بھی دے سکتے ہیں اور جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اُن کو فِطْرہ بھی نہیں دے سکتے ۔ لہٰذا زکوٰۃ کی طرح صدقۂ فطر کی رقم بھی حیلہ شرعی کے بعد مدارس وجامعات اور دیگر دینی کاموں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔
فتاوٰی امجدیہ ج۱ص۳۷۶