مذہبی مضامین

رسم اذان کے ساتھ روح بلالی کی فکر ضروری

موذن رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے یوم وصال پر خصوصی پیشکش

مکرمی!
ذان کے لغوی معنی ہیں، خبردار کرنا، اطلاع دینا ، اعلان کرنا اور شریعت کی اصطلاح میں اذان سے مراد وہ مخصوص کلمات ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ اذان واقامت اگرچہ یہ دونوں چیزیں بظاہر نماز باجماعت ،دخول وقت کا اعلان اور نماز کی دعوت کاذریعہ ہیں لیکن اذان کی مشروعیت کے وقت حکمت خداوندی کا تقاضایہ ہواکہ اذان صرف نمازباجماعت کا اعلان واطلاع کا ذریعہ نہ ہو بلکہ وہ دین کا ایک شعار ہو،مشرق ومغرب، شمال وجنوب ،بحروبراور زمینی وآسمانی فضاﺅں میں جب اذان کی صدا بلند کی جائے تو دین کی شان بلند ہو،جب لوگ اذان کی نداءسن کر مسجدوں کی طرف دوڑے ہوئے آئیں ،تو وہ دین کی تابعداری کی علامت وپہچان ہو،اسی وجہ سے اذان اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی سے شروع کی گئی ہے، اس کے کلمات کی ترکیب وترتیب عجیب وغریب ہے ،اللہ تعالیٰ نے ایسے چند مختصر کلمات کا الہام فرمایاجو دین کی روح بلکہ دین کے بنیادی اصول(توحید ،رسالت اور آخرت)کی تعلیم ودعوت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں. اذان کی فضیلت کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور داراسلام اسی سے پہچانا جاتا ہے کہ اس میں جابجا اذان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اذان دعوت نبوت کی ایک عظیم بنیادی شاخ ہے کیونکہ موذن اذان کے ذریعہ مومنین کو ایک ایسی عبادت کی طرف بلاتا ہے جو ارکان اسلام میں سب سے بڑارکن ہے اور وسائل قرب میں اسے سب پر فوقیت حاصل ہے ۔ وہ تمام نیکیاں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور شیطان ناخوش ہوتا ہے ۔ان میں سب سے بڑھ کر وہ نیکی ہے جس کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے پھر ان متعدی نیکیوں میں سب سے بڑا درجہ حق کا بول بالا کرنا ہے اور وہ اذان کے کلمات دلنواز میں بدرجہ اتم موجود ہے سن ایک ہجری میں اذان کی مشروع ہوئی اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے موذن قرار دیئے گئے اپنی مشروعیت سے لیکر آج تک تسلسل و تواتر کے ساتھ جاری ہے اور انشاء اللہ صبح قیامت تک جاری رہے گی ہماری اس ترقی یافتہ دنیا میں اب لاؤڈ-اسپیکر ایجاد ہوچکا ہے عموماً اب اکثر مساجد میں لاوڈسپیکر سے اذانیں دی جاتی ہے جس کی مسحور کن آوازیں سب کے کانوں سے ٹکراتی ہیں اور مشام جاں کو معطر کردیتی ہیں لیکن محض ضد کی بنیاد پر کچھ مسلم دشمن عناصر اب اذان کے مقابلے میں ۵ بار ہنومان چالیسا پڑھیں گے۔ خیر اول تو زیادہ دن تک وہ اوقات کی پابندی کر نہ سکیں گے، ثانیا خود ان کی اکثریت اس سے عاجز ہو گی، تیسرے یہ کہ لوگ خود ہی اذان کے رس گھولنے والے کلمات، اسکے معنوی جلال و جمال، سکون و سنجیدگی اور تاثیر و کشش کا موازنہ جب ہنومان چالیسا سے کریں گے تو انشاءاللہ حق ان کے سامنے روشن ہو گا، بس شرط یہ ہے کہ اذان دیتے وقت آواز کی کشش اور لہجے کی شیرینی ، وقار اور متانت کا پورا خیال رکھا جائے، مخلوط آبادی والی مسجدوں میں خاص طور پر ایسے لوگوں کو مؤذن رکھا جائے جن کی مسحور کن آواز جھومنے پر مجبور کر دے، موذنین کو یہ بھی تربیت دی جائے کہ صرف رسم اذان نہ پوری کیا کریں بلکہ روح بلالی کے ساتھ خدا کے بندوں کو خدا کی طرف بلانے کا تصور کیا کریں، اذان کے الفاظ کو کفرستان میں اعلان توحید، خدا کی عظمت و یکتائی اورکبریائی کے اعلان کے احساس کے ساتھ ادا کیا کریں، جب ایسا تصور ہو تو اذان کی تاثیر سے وجود لرز جاتا ہے، آنکھیں جلال توحید کے تصور سے جھک جاتی ہیں، بدن میں ایک عجیب جھرجھری ہوتی ہے، کیف و نشاط ایک عجب عالم ہوتا ہے ، یوں تو بہت سے غیر مسلم اذان کی عظمت کے سامنے سر جھکاتے اور خاموش ہوتے دیکھے جاتے ہیں، ہم اب بھی دیکھتے ہیں، جبکہ اذان ہوتی رہتی ہے اور خود مسلمانوں کی اکثریت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ اذان کی آواز کان میں پڑتے ہی ایک طرف سارے وجود سے خدا کی جلالت و عظمت و کبریائی کے آگے جھک جانے کا اظہار ہونا چاہیے، انگ انگ سے روح کی سرشاری جھلکنی چاہیے، جب اذان کی آواز پر یہ فریفتگی اور اس سے پیدا ہونے والی چہرے کی چمک اور پیشانی پر ابھرنے والی سکون کی لکیریں آپ کے غیر مسلم پڑوسی دیکھیں گے تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے، خلاصہ کلام یہ کہ اچھے تربیت یافتہ موذنین رکھے جائیں، اذان اسکی روح کے ساتھ کہی اور سنی جائے، ہم نے اپنے شہر سے متعلق خبر پڑھی کہ لوگ انتظامیہ سے ہنومان چالیسا کی اجازت مانگ رہے ہیں اور انتظامیہ اجازت دینے سے انکار کر رہی ہے، تو ہم نے عرض کیا کہ ہمیں بالکل خاموش رہنا ہے، فریق نہیں بننا ، انتظامیہ جانے اور جانیں وہ فسادی لوگ، ہمیں تو ساری توجہ اپنی اذان کو دعوت بنا دینے پر مرکوز کرنا ہے، یوں بھی اس مسئلہ پر ٹکراؤ اور کورٹ کچہری کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہنومان چالیسا کی اجازت نہ ملنے کے ساتھ لاؤڈ سپیکر پر اذان ممنوع قرار پائے گی، اور کیا پتہ کہ ایکسٹرا عقل والے جج یوں کہہ دیں کہ” قرآن میں اذان کا حکم نہیں ملتا، اور اذان کی مشروعیت کے پراسیس سے ہمیں نہیں لگتا کہ اذان بھی اسلام کی پریکٹس کا اسنشیل پارٹ ہے”، جب کوئی کسی مذہبی افیون کا نشہ شروع کر دے تو زبان سے ایسی ہی تشریحات سننے کو ملتی ہیں، مذہبی نشہ سب سے خطرناک ہوتا ہے، یہ نشہ ہو جائے تو سائنٹفک اپروچ اور قانون کی جگہ تعصب و تشدد اور آستھا کا چلن ہوتا ہے، آجکل بھارت کی عدالتوں میں بیٹھے منصف حکومتوں کی خوشنودی کے لیے مفت میں یہ نشہ کرتے ہیں، اس لیے ہوشیار رہیں اور کوئی بھی قدم اٹھائیں تو پورے ہوش و حواس میں اٹھائیں اور جذبات کو ہمہ وقت عقل کا پابند رکھیں۔

ازقلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی