ایڈیٹر کے قلم سے سیاست و حالات حاضرہ

یونیفارم سول کوڈ: ایک تجزیاتی مطالعہ

وطن عزیز ہندوستان میں ایک عرصہ دراز سے یکساں شہری قانون(Uniform Sivil Code) نا فذ کرنے کی جدو جہد جاری ہے اور مسلسل ملک کا ایک طبقہ جس میں بڑی تعداد ہندوؤں کی اور کچھ مسلما نوں کی ہے اسے نافذ کرنے کے لیے ذہن سازی کی سعی پیہم کررہا ہے اور موجودہ دور میں اسکے نفاذ کے لئے ہمارے ملک کا ایک سیاسی طبقہ کچھ زیادہ ہی بیقرار نظر آ رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسکی مخالفت کررہاہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یکساں سول کوڈ ہے کیا؟ اور مسلمان(خاص طورپر) اسکی شدید مخالفت کیوں کرتا ہے؟

کیا ہے یکساں سول کوڈ

یکساں سول کوڈٖٖ(Uniform Sivil Code) در اصل وہ قوانین ہیں جو کسی مخصوص خطہ زمین کے باشندوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لئے بنائے گئے ہوں، ام قوانین کے تحت ہر فرد کی ذاتی اور خاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اور ان قوانین کے نفاذ میں کسی شخص کے مذہب،اسکی تہذیب وتمدن کا اور رسم ورواج کا خیال نہیں کیا جاتا ہے، سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک ہی قانون ہوتا ہے۔

اعتراض کیوں ؟

اور رہا یہ سوال کہ مسلمان اس کی مخالفت کیوں کرتا ہے تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے مذہبی آزادی مسلوب ہو جائے گی جبکہ ہمارا ملک ایک ایسا چمن ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے بسیرا ڈالتے ہیں اور ہر مذہب کا اپنا الگ دستور ہے لہذا اگر سبھی پر ایک ہی دستور نافذ کیا جائے گا تو نہ صرف مسلم طبقہ حرج میں پڑے گا بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی بھی مذہبی آزادی چھن جائے گی۔
دیگر اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یکساں سول کوڈ کو نافذ بھی کردیا جائے تو وہ کون سا قانون ہوگا؟ کس مذہب کی ترجمانی کرے گا، کس دھرم کے مطابق ہوگا؟ یہ بات تو ظاہر کہ کسی ایک دستور میں سبھی مذاہب کی مطابقت نہیں ہوسکتی اسے صرف کسی ایک مذہب کی حمایت حاصل ہوگی اور مساوات کا نعرہ لگانے والے حضرات نے موقع در موقع اسکی وضاحت بھی کردی ہے کہ ’’یکساں سول کوڈ‘‘ وہ ’’ھندو کوڈ‘‘ ہوگا جیسا کہ سابق مرکزی وزیر قانون مسٹر پاٹسکر نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ھندو قوانین میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں وہ مستقبل قریب میں ھندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائے گی اگر ہم ایسا قانون بنانے میں کامیاب ہوگئے جو ہماری پچاسی فی صد آبادی کے لئے ہوتو باقی آبادی پر اسے نافذ کرنا مشکل نہ ہوگا ،اس قانون سے پورے ملک میں یکسانیت پیدا ہوگی۔‘‘
متذکرہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت اور حامی طبقہ یکساں سول کوڈ کے بہانے ’’ھندو کوڈ‘‘ نافذ کرنے کی فراق میں ہے اور اگر بالفرض مان لیا جائے کہ ’’ھندو کوڈ‘‘ کے بجائے ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ یا دیگر مذاہب کے پرسنل لاء کو یکساں سول کوڈ بنایا جائے گا تو اس طریقہ کار سے دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگوں کے جذبات مجروح ہونگے لہذا یہ قطعی ناپسندیدہ امر ہے کہ ملک کے غیر مسلم شہریوں کی مذہبی آزادی ختم کر دی جائے اور انکے شخصی قوانین کو مٹا کر جبراً ان پر اسلامی قوانین یا دیگر مذہبی قوانین نافذ کیا جائے اور رہی بات کسی ایسے قانون کی جو سبھی مذہبوں کی ترجمانی کرے تو اسکے لئے یکساں سول کوڈ کی ضرورت نہیں بلکہ ملک میں پہلے سے ہی الگ الگ مذاہب کے ماننے والوں کے لئے کچھ الگ الگ قانون بنے ہیں مثلاً ھندو میریج ایکٹ(Hindu Marriage Act)، ھندو سکسیشن ایکٹ(Hindu Succession Act)، ھندو ایڈاپشن اینڈ مینٹینس ایکٹ(Hindu Adoption and Mainteenance Act) نامی کئی طرح کے الگ قانون ہیں جبکہ مسلمانوں کے لئے ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ ہے اور عیسایئوں کے لیے الگ پرسنل لاء ہے تو اب یکساں سول کوڈ کی ضرورت ہی نہ رہی۔

رہنما اصول برائے قانون میں تضاد اور اسکا ممکنہ حل

بھارتی دستور کے رہنما اصول(Directive Priciples) میں یکساں سول کوڈ کا ذکر دفعہ۴۴ (Article 44) میں کیا گیا ہے

’’The state shall endeavour to secure a Uniform sivil code throughout the territory of India‘‘

یعنی: ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لئے یکساں شہری قانون ہو۔
جبکہ دفعہ۲۵(Article 25) میں یہ بات بھی موجود ہے کہ

’’Subject to public order,morality and helth and to the other provisions of this part, All persons are equally entited to freedom of conscience and the right freely to profess,prachse and propagate religion‘‘

یعنی: امن عامہ،اخلاق، صحت اور اس قسم کے دوسرے احکام کے تابع رہ کر تمام لوگوں کو ضمیر کی آزادی، مذہب کے اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسکی اشاعت کا مساوی حق ہوگا۔

مطلب یہ ہے کہ دونوں دفعات میں تضاد ہے حکومت اگر دفعہ ۴۴ پر عمل کرے گی تو دفعہ۲۵ پر عمل ممکن نہیں اور دفعہ۲۵ پر عمل پیرا ہو تو دفعہ۴۴ کی خلاف ورزی ہوگی لہذا اس تضاد کی صورت میں کوئی ممکنہ حل تلاش کرنا ضروری ہے جس سے کہ دونوں دفعات پر عمل کیا جا سکے ، جس کی ایک تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ دفعہ۲۵ کے مطابق تمام لوگوں کو مذہبی آزادی دے دی جائے اور دفعہ۴۴ کو سبھی پر یکساں نافذ نہ کرکے ہر مذہب کا الگ لیکن یکساں پرسنل لاء بنا دی جائے جس سے کہ پورے ملک میں اس مذہب کے ماننے والے سبھی لوگ اسپر عمل کریں اور رہی بات اسکے بر عکس کی تو خیال رہے کہ جب ایوان بالا میں ۱۹۵۰؁ء کو دستور کے رہنما اصول کی ورق گردانی ہورہی تھی اور جب دفعہ۴۴ کی خواندگی ہوئی تو کافی ہنگامہ ہوا تھا اور اسی موقع پر ڈاکٹر بی آرامبیڈکر نے یہ بات کہی تھی کہ’’یہ محض حکومت کو اختیار دیا جارہا ہے جس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مذہبی شخصی قوانین کو ختم کردینا ضروری ہوگا، خواہ ملک کے مسلمان، عیسائی یا کوئی اور فرقہ اس سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ کرے کسی کو یہ خطرہ نہیں ہونی چاہیئے کہ صرف اختیار مل جانے سے حکومت اسپر عمل کے لیے اصرار کرے گی‘‘۔

دیگر ممالک اور یکساں سول کوڈ

یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی حمایت میں حامیان یکساں سول کوڈ کی جانب یہ حوالہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کئی ایسے ممالک(مسلمہ) ہیں جہاں یکساں سول کوڈ نافذ ہے پس جب ان دیگر ممالک(مسلمہ) میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جاسکتا ہے تو ہمارے ملک میں کیوں نہیں؟ اس حوالہ کی تحقیق کے لئے اولاً ذیل کا نقشہ ملاحظہ کرنا چاہیئے کہ ان ممالک کی آبادی میں اکثریت(Majority) و اقلیت(Minority)فرقہ میں آبادی کا تناسب کتنا ہے۔۔۔

اسماے ممالکاکثریت فرقہ فی صداقلیت فرقہ فیصدحوالہ جات
پاکستان96.4%3.6%est 2010
بنگلہ دیش88.4%11.6%est 2018
ملیشیا61.3%38.7%est 2010
مصر(Egypt)90%10%est 2015
سوڈان73.3%1.7%
(باقی %27 کسی مذہب کو نہیں مانتے)
Globale Religious Futures

مندرجہ بالا نقشہ سے صاف ظاہر ہے کہ ملیشیا کو چھوڑ کر کوئی ایسا ملک نہیں جس میں اقلیت(Minority) کا تناسب آبادی ۲۰بیس فی صد ہو لہذا ان ممالک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے میں زیادہ حرج نہیں ہے لیکن ہمارے ملک میں اقلت۱.۲۰ بیس عشاریہ ایک فی صد ہے۔ جس سے بڑا حرج پیدا ہو جاتا ہے نیز ان ممالک کی کل آبادی بھی ہمارے ملک کی طرح ۱۲۵ کروڑ نہیں۔

اتحاد یا اختلاف مقصد کیا؟

ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے اتحاد اور قومی یکجہتی ایک اہم ضرورت ہے اور ھندوستان میں سکونت پزیر مختلف فرقوں کے درمیان دوستی،خیرسگالی اور باہمی رواداری کے جذبہ کو فروغ دینا بہترین ملکی خدمت ہے لیکن قومی یکجہتی کے نام پر مذہبی قوانین کو آڑے ہاتھوں لینا باشندگان وطن کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہے جو کہ اتحاد نہیں بلکہ اختلاف وفساد کی اہم جڑ ہے اورملک کی سالمیت کے لئے بڑا خطرہ ہے کیونکہ قومی یکجہتی اور سیکولرزم کا یکساں سول کوڈ سے ایک حد تک کوئی تعلق ہی نہیں مشاہدہ ہے کہ آج تک ملک میں کبھی دو الگ فرقوں کے درمیان نکاح،طلاق اور وراثت کا مسئلہ نہیں الجھا اسلئے کہ دو الگ فرقہ کے افراد کے درمیان نکاح اور رشتہ ہوتا ہی نہیں تو طلاق و وراثت کا مسئلہ کہاں سے پیدا ہوگا۔ لہذا حکومت اور حامیان یکساں سول کوڈ کو تنگ نظری کی بجائے وسعت فکر اور تعصب پرستی کو بالائے طاق رکھ کر سوچنا چاہیئے کہ باشندگان وطن کو کس طرح ملی وقومی مسائل میں یکجا کیا جائے نہ کہ مذہبی مسائل میں یکجا کرنے کی کوشش کر ملک کے اتحاد کا شیرازہ بکھیرنا چاہیئے۔

از قلم: محمد شعیب رضا نظامیؔ فیضی
استاذومفتی: جامعہ رضویہ اہل سنت، گولا بازار ضلع گورکھ پور یو۔پی۔
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز، گولا بازار گورکھ پور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے