ذی الحجہ مذہبی مضامین

ایام قربانی میں غیر مقلدوں کا اختلاف اور ان کا رد بلیغ

ازقلم: خورشید عالم برکاتی مصباحی
استاذ: طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

٭ ابھی تک سبھی فرقہ کے لوگ سنی ہوں یا وہابی ، دیوبندی ہوں یا غیر مقلد بغیر کسی اختلاف و انتشار کے تین ہی دن قربانی کیا کرتے تھے، اب ادھر چند سالوں سے وہابی حضرات نے ایک دن کا اضافہ کر کے بجائے تین دن کے چار دن ۱۰ / ۱۱ / ۱۲ / ۱۳/ذی الحجہ قربانی کرنے لگے ہیں حالانکہ قربانی کے ایام چار نہیں صرف اور صرف تین دن ہیں ۱۰ / ۱۱ / ۱۲/ذی الحجہ، جس پر دلیل روز روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے

٭ بدائع الصنائع میں ہے:- ”روی عن سیدنا عمر و علی و ابن عباس و ابن عمر و انس بن مالک رضی اللہ عنھم قالوا ایام النحر ثلاثہ اولھا افضھا والظاھر انھم سمعوا ذالک من رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لان اوقات العبادات والقربات لا التعرف الا بالسمع”

یعنی حضرت عمر و علی وعبد اللہ بن عباس وعبد اللہ بن عمر وانس بن مالک رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ قربانی کے ایام تین دن ہیں ان میں سب سے افضل ثواب کے اعتبار سے پہلا دن ہے-

٭ظاہر ہے کہ اجلّہ صحابہ کرام نے رسول ﷲ ﷺ سے سن کر کے ہی اس کو فرمایا ہے اس لئے کہ عبادات و قربات کے اوقات کو بغیر سماع کے نہیں جانا جا سکتا ہے-

٭ فتاوی بزازیہ باب الاضحیہ میں ہے ”ایام النحر ثلاثۃ وھی جائزۃ فی ثلاثۃ ایام یوم النحر ویومین بعدہ”

یعنی قربانی تین دن جائز ہیں یوم نحر اور دو دن اس کے بعد-

٭ فتاوی عالمگیری باب الاضحیہ میں ہے *”وقت الاضحیہ ثلاثۃ ایام العاشر والحادی عشر والثانی عشر بعد طلوع الفجر من یوم النحر الی غروب الشمس من الیوم الثانی عشر”*

یعنی قربانی کا تین دن ہے ۱۰ / ۱۱ / ۱۲/ذی الحجہ ۱۰/ذی الحجہ کی صبح صادق سے ۱۲/ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک-

فائدہ:-
صحابہ کرام و فقہائے عظام کے ان واضح صاف صریح فرمودات و ارشادات سے یہ بات روز روشن کی طرح آشکارا ہو گئی کہ قربانی کے ایام صرف تین ہی دن ہیں تو اب اس کے بر خلاف چار دن قربانی کرنا شریعت مطہرہ پر افتراء ہے بلکہ اپنی طبیعت سے ایک نئ شریعت گڑھنا ہے اس لئے کہ جو شرعا عبادت نہیں ہے اس کو عبادت سمجھنا ہے اور یہ گمراہی و بد مذہبی و بے دینی ہے-

٭ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن حکیم ناطق ہے *”قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الّذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون”* (سورہ کہف)

یعنی تم فرمادو کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کس کے ہیں، ان کی جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں رائیگاں گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں-

٭ نیز ایسے ہی نیا نیا مسئلہ بیان کرنے والوں کے بارے میں سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے *”یکون فی آخر الزماں دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم”* (رواہ مسلم عن ابی ھریرہ و مشکوۃ)

آخری زمانے میں ایسے دجال و کذاب ہوں گے جو ایسی باتیں لائیں گے جو نہ تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے سنا ہوگا، پس ایسے لوگوں کو اپنے سے دور رکھنا اور ان سے دور رہنا، تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کر سکیں اور نہ فتنہ میں ڈال سکیں۔

٭ واضح رہے کہ وہابیوں کا یہ اعلان کرنا کہ قربانی اب چار دن ہے، ان کا یہی مذہبی مشغلہ ہے کہ وہ عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے دین میں نئی نئی بات نکالتے رہتے ہیں تاکہ عوام میں ہمیشہ مذہبی اختلاف و انتشار رہے اور عوام ان فروعی مسائل میں الجھے رہیں، اور ان کے ان عقائد کفریہ کی طرف توجہ نہ دیں جن کی وجہ سے انھیں کافر کہا جاتا ہے۔

خلاصہ:
ایام قربانی تین ہی دن ہیں چار نہیں، اس لئے چوتھے دن کی قربانی شرعا جائز نہیں بلکہ چو تھے دن قربانی کرنے والا گنہگار، مستحق عذاب نار و غضب جبار و قہار ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کے لئے صرف تین ہی دن مقرر فرمایا ہے، تو اب چوتھے دن قربانی کرنا ایک لاحاصل فعل ہونے کے ساتھ فساد عقیدہ کا بھی موجب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے