ذی الحجہ فقہ و فتاویٰ

وجوب قربانی کے اہم مسائل

ازقلم: خورشید عالم برکاتی مصباحی
استاذ: طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

احناف کے نزدیک قربانی کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ”فصل لربک وانحر” اپنے رب کے لئے نماز ادا کیجئے اور قربانی کیجئے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں ”انحر” صیغہ امر ارشاد فرمایا جو وجوب کو چاہتا ہے اور سرکار ﷺ کا ارشاد گرامی بھی ہے "من کان لہ سعۃ و لم یضح فلا یقربن مصلانا” کہ جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے وعید صرف ترک واجب پر ہوتی ہے، اسی طرح بہت سی روایات میں "ضحوا” امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے جن سے صاف ظاہر ہے کہ قربانی واجب ہے۔
اور رہی وہ حدیث جس میں سنت ابراہیمی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اس سنت سے مراد راستہ اور طریقہ ہے جو وجوب کی نفی نہیں کرتا ”فصل لربک وانحر” "قال الحسن صلوۃ یوم النحر ونحر البدن و قال عطاء ومجاھد صل الصبح بجمع وانحر البدن مبنی قال ابو بکر وھذا التاویل یتضمن معنیین احدھما ایجاب صلوٰۃ الضحی والثانی وجوب الاضحیۃ” (احکام القرآن، زیر سورہ کوثر جلد ۳ صفحہ ۴۷۵ مطبوعہ بیروت، بحوالہ شرح موطا امام محمد صفحہ ۲۵۶)

ترجمہ:- ”فصل لربک وانحر” کے متعلق امام حسن فرماتے ہیں اس سے مراد قربانی کے دن کی نماز (نماز عید) اور بدنہ کی قربانی دینا ہے اور جناب عطاء و مجاہد نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ نماز فجر مزدلفہ میں پڑھے اور قربانی منی میں کرے، ابو بکر کہتے ہیں یہ تاویل دو معانی کو متضمن ہے ایک یہ کہ نماز عید واجب ہے اور دوسری یہ کہ قربانی کرنا واجب ہے۔

قربانی واجب ہونے کے لئے چند شرطیں ہیں؛

﴿۱﴾ اسلام:- یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔
﴿۲﴾ اقامت:- یعنی مقیم ہونا ضروری ہے، لہٰذا مسافر پر قربانی واجب نہیں لیکن اگر مسافر نے قربانی کی تو وہ نفل ہوگی۔
﴿۳﴾ تونگری:- یعنی مالک نصاب ہونا، یہاں مالک نصاب ہونے سے وہ مراد ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
﴿۴﴾ حریت:- یعنی آزاد ہونا، جو آزاد نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں۔
عالمگیری میں ہے:- ”و اما الشرائط الوجوب منھا الیسارو ھو مایتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر دون ما یتعلق بہ وجوب الزکوۃ، ومنھا الاسلام فلا تجب علی الکافر، ومنھا الحریۃ فلا تجب علی العبد ومنھا الاقامۃ فلا تجب علی المسافر” (صفحہ ۲۹۲ جلد ۵)

۞قربانی کے مسئلے میں صاحب نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولے چاندی یعنی (653.184 گرام) یا ساڑھے سات تولے سونے۔
یعنی (93.312) گرام کا مالک ہو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کا سامان تجارت یا سامان غیر تجارت یا اتنے نقد روپیوں کا مالک ہو اور مملوکہ چیزیں حاجت اصلیہ سے زائد ہوں۔

۞موجودہ دور میں تولہ کا رواج و چلن کم ہوگیا ہے اور گرام و ملی گرام کا زیادہ ہے اس لئے اب ہم درہم و مثقال کو موجودہ دور کے گرام و ملی گرام کے اعتبار سے موازنہ کرتے ہیں تاکہ اس مسئلے کے سمجھنے میں قدرے آسانی ہو اور حساب جاننے والا بڑی آسانی سے سمجھ لے کہ کتنے گرام سونا و چاندی کی صورت میں مالک نصاب شرعا ہوگا۔

۞اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق 52.5 تولہ انگریزی روپئے سے 56 روپئے بھر ہے اور 7.5 تولہ 8 روپئے بھر ہے۔
اور ایک انگریزی روپیہ کا وزن 11.664 گرام کا ہوتا ہے، اس اعتبار سے مذکورہ نصاب کو گرام میں یوں تحویل کیا جائے گا۔
56 × 11.664 = 653.184 گرام۔
8 × 11.664 = 93.312 گرام۔

فائدہ:- چاندی کا موجودہ ریٹ ۱/جولائی۲۰۲۲ء کو یہ ہے۔
1kg= Rs. 58600
اس حساب سے اگر کسی کے پاس 93.312 گرام سونا ہو یا 653.184 گرام چاندی ہو یا 38276.58 روپئے کم و بیش ہوں تو مذکورہ شرطوں کے ساتھ صاحب نصاب ہے۔

نوٹ: چونکہ سونے چاندی کی قیمت کم و بیش ہوتی رہتی ہے، اس لئے جب بھی اس کا حساب لگانا ہو اس وقت کی قیمت معلوم کرکے حساب لگانا چاہئے۔

طریقہ:
200 درہم شرعی 52.5تولہ چاندی
20مثقال 7.5 تولہ سونا
52.5تولہ = 56بھر
7.5تولہ = 8روپئے بھر
ایک انگیزی روپئے بھر = 11.664 گرام
56×11.664 = 653.184 گرام

مارکیٹ ریٹ مثلا 58.600 رو پئے کلو ہے تو اس طرح عمل کریں۔
58.6 = 1000 ÷ 58600
58.6×653.184 = 38276.58 روپئے ہوئے۔

۞لہٰذا اس اعتبار سے اگر کوئی ایام قربانی میں اپنی تمام اصلی حاجتوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا ان میں سے کسی ایک کہ قیمت کا سامان تجارت یا سامان غیر تجارت یا کم و بیش 38276.58 کا مالک ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ نہ کرنے کی صورت میں گنہگار۔

۞جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ ساتواں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتواں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی۔ ( بہار شریعت۱۳۵)

۞اگر کوئی صاحب نصاب اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے دوسرے کی طرف سے قربانی کرے جیسے لوگ اپنے بچوں، بچیوں، پوتوں وغیرہ کے نام سے کرتے ہیں اور اپنے نام سے نہ کرے تو سخت گنہگار ہوگا، اس لئے کہ پہلے اپنی طرف سے قربانی لازم ہے، اس کے ساتھ اگر توفیق ہو تو دوسرے کی طرف سے قربانی کرنا افضل اور اچھا عمل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے