دنیاےسنیت کےعظیم قاری، نہایت خوش طبع اور زندہ دل شخصیت استاذ القراء شیخ التجوید حضرت قاری مقری غلام غوث الوری صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے،چند مہینے قبل جب میں انڈیا گیا تھا تو ان سے بڑی اچھی ملاقات رہی ،، آہ کسے معلوم تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے، اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے …
خوں رو رہی ہے آنکھ ہماری ، غلام غوث
تم چلدییے جہاں سے اے قاری غلام غوث
کتنوں کو تم نے سنگ سے ہیرا بنادیا
کتنوں کی فکر تم نے سنواری غلام غوث
وہ سادگی ، وہ خوش طبعی اور وہ اپنا پن
یاد آتی ہیں ادائیں تمہاری غلام غوث
مشکل میں بھی لبوں سے تبسم نہ کم ہوا
فطرت تری غموں سے نہ ہاری غلام غوث
بزمِ قرأت کی شمعِ دلآویز تیری ذات
پروانے تجھ پہ جان سے واری غلام غوث
ملتا تھا ہم کو تیری تلاوت سے ایسا لطف
جیسےخزاں میں بادِ بہاری غلام غوث
تسکینِ دل تھا "حضرتِ ذاکر” کو تیرا ساتھ
ان کو بھی تیرا ہجر ہے بھاری غلام غوث
"گلزار حنفیہ” تری فرقت سے ہے اداس
غم ہے ہر ایک پھول پہ طاری غلام غوث
نازِ قرات ، اے خادمِ قرآں تمھیں سلام
نازل ہو تم پہ رحمتِ باری غلام غوث
یہ شاعری نہیں ہے فریدی کی اے عزیز!
چشمِ قلم سے اشک ہیں جاری غلام غوث
وصال یکم ذوالحجہ، 1443ھ یکم جولائ 2022ع
بروز جمعہ…
شریک غم، سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی بارہ بنکوی مسقط عمان
