ذی الحجہ مذہبی مضامین

حج کے پانچ دن

ازقلم: محمد چاند رضا مصباحی
متعلم :درجۂ سابعہ ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یو پی
سکونت : بہرائچ شریف

زیارت حرمین شریفین ہر قلب مومن کی آرزو ہے. جس سے وہ اپنی روح کی تسکین کا سامان کرتا ہے اور مال کے ساتھ ساتھ جسمانی صعوبتیں برداشت کرکے رب کے حضور اپنی بندگی کا اظہار کرتا ہے. حج اسلام کا پانچواں رکن اعظم ہے لہذا ایک حاجی کو یہ انعام ملتا ہے کہ اسے تمام گناہوں سے آزاد کرکے ایسے بنا دیا جاتا ہے ہے کہ آج ہی پیدا ہوا ہو. ویسے تو دیارِ حبیب میں گزارنے کو جتنے دن مل جائیں زہے قسمت !لیکن وہ مدارِ حج نہیں, حج کے پانچ خاص ایام ہیں.
یوم الترویہ یعنی ۸ویں ذی الحجہ کو حاجی صبح سویرے اٹھ کر سب سے پہلے سنت کے مطابق غسل یا وضو کر کے احرام کی نیت کریں‌۔ مسنون طریقہ پر احرام باندھ کر دو رکعت نفل ادا کریں اور نماز فجر مسجدِ حرام میں پڑھ کر وہیں حج کی نیت کرلیں۔پھر طواف قدوم کے بعد منیٰ روانہ ہو جائیں اور راستے میں تلبیہ اور ذکر و اذکار میں مشغول رہیں۔ منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب وعشاء اور ۹ویں ‌ذی الحجہ کی نماز فجر ادا کریں اگر ممکن ہو تو سنت کے مطابق رات میں قیام بھی وہیں کریں اور یہی بہتر ہے۔
پھر نویں ذی الحجہ کو حجاج کرام نماز فجر مستحب وقت میں ادا کرکے طلوع شمس کے بعد میدان عرفات جائیں۔ جب دوپہر قریب آئے نہائیں (غسل کریں)اور اگر نہ ہو سکے تو صرف وضو کریں۔(بہار شریعت)
کیوں کہ حجاج کرام یوم الترویہ (۸ویں ذی الحجہ) گزار کر ۹ویں ذی الحجہ کو عرفات آتے ہیں اور یہاں ایک دن وقوف کرتے ہیں۔ وقوف ہی سے متعلق امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ: "کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفّارہ عرفہ ہی ہے” (وہ صرف وقوف عرفات ہی سے مٹتے ہیں)(قوت القلوب ج۲ ص۹۹)
چوں کہ حج کا دوسرا دن دیگر ایام کی بہ نسبت اہمیت کا زیادہ حامل اور مغفرت کا دن ہے۔ اس دن حج کا رکن اعظم (وقوف عرفات) ادا کیا جاتا ہے۔
دوپہر ڈھلتے ہی مسجد نِمْرَہ میں جاکر نمازِ ظہر و عصر وہاں موجود امام کے ساتھ ادا کریں ورنہ اپنے خیمے میں ان کے مقررہ اوقات میں تنہا پڑھ لیں۔ نماز پڑھ کر فورًا وقوف کو روانہ ہو جائیں کیوں کہ وقوف ہی حج کی جان ہے۔ کسی شاعر نے کیا ہی خوب منظر کشی کی ہے:

چلو عرفات چلتے ہیں وہاں حاجی بنیں گے ہم
گنہ سے پاک ہوں گے لوٹ کر جس دم چلیں گے ہم

اور جب غروب کا یقین ہو جائے تو مزدلفہ کے راستے میں تلبیہ پڑھتے جائیں، وہاں پہنچ کر اس کے حدود میں جہاں جگہ مل جائے ٹھہر جائیں اور بوقت عشاء، مغرب وعشاء حتی الامکان امام کے ساتھ ادا کریں۔ مزدلفہ میں رات بھر جاگنا، نماز و تلاوت اور ذکر و اذکار کرتے رہنا باعث اجروثواب ہے ۔
جب کہ دسویں ذی الحجہ کو بعد حجاج کرام کا نماز فجر کے بعد، طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ میں ٹھہرنا واجب اور طلوع آفتاب سے تھوڑا پہلے تک ٹھہرنا سنت اور اگر کسی نے وقوف ترک کر دیا تو اس پر دم دینا لازم ہوگا ۔
پھر طلوعِ آفتاب سے تھوڑا پہلے ہی مزدلفہ سے منیٰ روانہ ہو جائیں ، وہاں پہنچ کر زوال کے بعد پہلے جمرۂ کبریٰ پر ساتھ کنکریوں کی رمی کریں، اس کے بعد حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی یاد میں بطورِ شکرانۂ حج، قربانی کریں جو حج قِران اور تمتع کرنے والوں پر واجب اور حجِ افراد کرنے والوں پر مستحب ہے۔ قربانی کے بعد قبلہ رو بیٹھ کر حلق (سر منڈائیں) یا تقصیر کروائیں لیکن تقصیر کی بہ نسبت حلق زیادہ افضل ہے۔ جب کہ عورت ( بال کے چوتھائی حصہ اور بہتر سارے بال کی) تقصیر کروائیں۔قربانی، حلق و تقصیر کرنے اور احرام کھولنے کے بعد طواف زیارت کے لیے مکہ معظمہ روانہ ہوجائیں-اس کا وقت عید کی صبح سے لے کر ایام نحر کے اختتام تک ہے۔ اگر یہ اوقات گزر گئے اور طواف نہ کیا تو طواف کے ساتھ ساتھ دم دینا واجب ہوگا۔ طواف زیارت سے فارغ ہوکر منیٰ میں دو دن و دو رات قیام کریں اور گیارہویں تاریخ کو بعد نماز ظہر جب رمی کے لیے جائیں تو جمرۂ صغریٰ سے شروع کریں پھر جمرۂ وسطیٰ پر جائیں۔ اور رمی کے بعد کچھ آگے بڑھ کر حضور قلب سے دعا و استغفار کریں۔ پھر جمرۂ کبریٰ پر جائیں اور بعد رمی فوراً پلٹ آئیں اور دعا نہ کریں۔
اسی طرح بارہ تاریخ کو زوال کے بعد رمی کریں اور بارہویں کی رمی مکمل کر کے غروب آفتاب سے پہلے مکہ معظمہ روانہ ہو جائیں۔ اور اگر ١٣ویں ذی الحجہ کی صبح صادق تک ٹھہر گئے تو رمی واجب ہوجائے گی جو صبح صادق کے بعد سے کر سکتے ہیں۔ تکمیل حج کے بعد وطن واپسی سے پہلے طواف وداع کریں اور رب ذوالجلال کا شکر بجا لائیں ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی شریعت طاہرہ کے مطابق گزارنے کا عزم مصمم کرلیں۔
یا الہی حج کروں تیری رضا کے واسطے
کر قبول اس کو محمد مصطفی کے واسطے
بارگاہ الہی میں دعا گو ہوں کہ وہ اس سعیِ جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے ،ہمیں مسائل حج میں عبور حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔حرمین شریفین میں حاضری کا شرف پانے والے تمام مسلمین و مسلمات کی حاضری قبول فرمائے اور جو محبان و عاشقان دیارِ حرمین میں حاضری کی تڑپ اپنے سینوں میں چھپائے ہیں انہیں بھی حاضری کی توفیق عطا فرما۔(آمین ثم آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے