ذی الحجہ مذہبی مضامین

سفرِ عشق ہے حج بیت اللہ شریف

ازقلم: خلیل احمد فیضانی

دیں سراپا سوختن اندر طلب
انتہایش عشق وآغازش ادب (اقبال)

ایک مومن کے دل میں ہمیشہ یہ آرزو مچلتی رہتی ہے کہ کاش وہ زندگی میں کبھی حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہوجاۓ……….اور پھروہاں پہنچ کر خانۂ کعبہ کا طواف کرے….روضہ رسول کی زیارت سے قلب و نگہ کو شاد شاد کرے…الہی نشان صفا و مروہ کے درمیان سعی کرکے عاشقانہ اداؤں کو دہراۓ….عطیہ الہی اور یادگار اسماعیل و ہاجرہ سلام اللہ علیھما یعنی زمزم شریف بار بار نوش کرے…مہبط وحی الہی کی زیارت کرکے قلب ووروح کو سکوں پہنچاۓ….مراکز روحانیت کو بار بار تکتا رہے…عرفات و مزدلفہ میں وقوف کرکے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے…منی میں قربانی پیش کرکے قرب ربانی حاصل کرے…-
لاریب! اس سفر مسعود کا ایک ایک لمحہ عشق و عرفاں اور سوز و گداز سے عبارت ہوتا ہے…وہاں ہر سو نور ہی نور نظر آتا ہے…زائرین کا ہر ہر لمحہ سوز و گداز میں ڈوبا ہوا گزرتا ہے…کیا نہیں ہے اس سفر موج ظفر کی پنہائیوں میں… محبت ہے…رقت ہے….سسکیاں ہیں…آہیں ہیں….کرب ہے….درد ہے…مناجات ہے….گریہ وزاری ہے…تپش عشق ہے…لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر آل اولاد کو چھوڑ کر نجی کام دھندوں کو چھوڑ کر سچ پوچھیے تو ہر ایک کو چھوڑ کر اور ہر ایک سے کٹ کر صرف دو چادروں میں ملبوس بارگاہ مولی و کوچہ جان جاناں کے پروانے بن جاتے ہیں…شمع کا پروانہ نہیں کہ جو حدود ادب کو لانگ کر جلوہ محبوب کی تابش سے خاکستر جاۓ…یہاں ادب ہے….تلقین ادب ہے…سانس بھی سن سن کے لیا جارہا ہے…پیر ساکت ساکت….اورجسم جامد جامد ہے…. سراپا تصویر ادب بنا ہوا ہے….آنکھیں اشک بار ہیں…دل احساس گناہ سے بیٹھا جارہا ہے…ماضی کی ساری لغزشیں پردہ ذہن پر آرہی ہیں… جارہی ہیں….مگر ادھر رحمت الہیہ کی صدائیں بھی غمزوں کو مژدہ مغفرت سنارہی ہیں…فرامین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلکتے ہوؤں کو ڈھارس بندھارہے ہیں..کہ جس کا حج قبول ہوا اس کی مثال نوزائیدہ بچے کی طرح ہے…بار گناہ حاجی کے سر سے اتار لیا جاتا ہے…
رحمت الہی بڑھ کر اس کا خیر مقدم کرتی ھے…جیسا کہ حج مبرور کے حوالے سے آتا ہے
حج مبرور یعنی کہ جو حج شرف قبولیت حاصل کر جاۓ اس کی فضیلت کے سلسلے میں حدیث پاک میں آتا ہے کہ:العمرة الى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة(بخاری شریف,حدیث:1773)ترجمہ:”ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے ,جو ان دونوں کے درمیان ہوۓ ہیں,اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے….-
لکھتا ہے کہ
حج بظاہر ایک سفر ہی ہے مگر اس کی پنہائیوں میں عشق والفت ,وارفتگی و دیوانگی موجزن ہیں…حج کیا ہے؟ حج عشق وعرفان میں ڈوبے ہوۓ اس سفر کا نام ہے جس میں ایک عاشق,بحکم الہی اپنے محبوب وطن کوچھوڑ کر,سفر کی کمر توڑ صعوبتیں برداشت کرکے ہواؤں,خلاؤں,دریاؤں,صحراؤں اور بیابانوں کو روندتا ہوا کوچہ جاناں میں داخل ہوجاتا ہے…-
..بکھرے ہوۓ بال…بڑھے ہوۓ ناخن..مرجھایا ہوا چہرہ..گرد آلود سر…تارک مال و زر..گھر سے بے گھر…کھانے کی پرواہ نا پینے کی خبر..نہ وضعدار لباس اور نا ہی ظاہری رکھ رکھاؤ ,نہ کلاہ و پاپوش کا احساس …اور نا ہی لومہ لائم کی پرواہ..نہ چال میں سکون,نہ انداز میں قرار,آثار محبت سے وارفتہ,خانہ محبوب کے تصور سے از خود رفتہ,آہ و بکا سے سوختہ اور رسمی وقار و تمکنت سے دل گرفتہ,دل و دماغ عظمت بیت الہی سے معمور,آنکھیں زیارت روضہ نبویﷺ سے مخمور,قلب و جگر انوار و برکات سے موفور..بس ایک ہی دھن میں مشغول,کشاں کشاں کوچہ محبوب میں کبھی یہاں تو كبھی وہاں,کبھی مکہ,کبھی مدینہ,کبھی عرفات کبھی منی,غرض یہ کہ حج ان عاشقانہ اعمال اور والہانہ افعال کا نام ہے جو بے ساختہ ایک عاشق زار سے اس انداز میں صادر ہوتے ہیں کہ گویا وہ جذبہ محبت سے سرشار,محبوب کے جلوؤں میں سرمست ہے…یقینا یہ مبارک سفر جس کو ہم نے سفر عشق لکھا ہے بڑی ہی سعادتوں,کرامتوں اور برکتوں والا ہے…
اللہ تعالی ہمیں بھی اس سفر عشق کا بار بار مسافر بناۓ-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے