تصوف

غلبئہ نفس و عداوت شیطان

ازقلم: محمد شاھنواز اشرفی میرانی
متعلم جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف، گجرات، انڈیا

انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھوکا رہ کر شہوات کا قلع قمع کرلے اس لئے کہ بھوک نفس شریر کے لئے قہر ہے اورشیطان نفس کی اطاعت کے سبب ابن آدم پر غلبہ پاتا ہے ۔
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ,,کہ شیطان تمہارے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اس کے ان راستوں کو بھوک سے بند کرو،،
قیامت کے دن وہی شخص اللّٰہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوگا جس نے بھوک پیاس برداشت کی ہوگی
ابن آدم کوسب سے زیادہ گزند پہونچانے والی، آخرت برباد کرنے والی چیزیں پیٹ کی خواہشات ہیں۔
جس انسان پر اس کا نفس غالب آجاتا ہے وہ شہوات کا قیدی ،بیہودگی کا تابع ہوکر بیشمار فوائد سے محروم ہو جاتا ہے
لہٰذا جس کسی نے بھی اپنے اعضاء کی زمین کو شہوات سے سیراب کیا تواس نے اپنے دل میں ندامت کی کاشت کی ۔

اللہ تعلی نے مخلوق کو تین قسموں پر پیدا فرمایا ہے۔
(١) فرشتوں کو پیدا فرمایا ان میں عقل رکھ دی ،مگر شہوت نہیں رکھی۔
(٢)حیوانات پیدا کیے،ان میں شہوت رکھ دی مگر عقل نہیں رکھی۔
(٣)اور انسان کو پیدا کیا اس میں عقل اور شہوت دونوں ہی رکھ دی۔
اب جس کی شہوت اس کی عقل پر غالب آ گئ، تو حیوانات اس سے بہتر ہیں اور جس کی عقل شہوت پر غالب اگئ،تو وہ فرشتوں سے بہتر ہے۔

حضرت ابوالحسن رازی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد کو دو سال بعد خواب میں دیکھا کہ ان کا لباس کریھ وعجیب تھا۔ انہوں نے کہا:اے ابا جان کیا بات ہے میں آپ کی حالت دوزخیوں کی سی دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا اے بیٹے!میرے نفس نے مجھے دوزخ کی طرف دھکیل دیا۔ اے بیٹے! نفس کے دھوکے سے بچے رہو۔
حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.
افضل الجهاد جهاد النفس.(افضل ترین جہاد نفس کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے.)
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جب کافروں کے مقابلہ میں جھاد کر کے واپس آئے تو فرمایا کرتے تھے ہم چھوٹے جھاد سے بڑے جھاد کی طرف واپس آئے ہیں۔ خواہش نفس اور شیطان کے ساتھ جھاد کو اس لئے جھاد اکبر فرمایا گیا
کہ میدان کارزار کا جھاد کچھ وقت کے بعد ختم ہو جاتا ہے مگر نفس اور شیطان سے جھاد تا دم حیات چلتا رہتا ہے
اگر تم کسی کافر کا قتل کروگے تو تمہیں مدد اور غنیمت حاصل ہوگی اور اگر کافر نے تمہیں قتل کر دیا،تو شہادت اور جنت پاؤ گے،مگر نفس پر گرفت حاصل کرنے اور شیطان کو قتل کرنے کی تم میں قدرت نہیں الا بنصرتہ اللہ عزوجل جھاد اکبر کا ایک مطلب یہ بھی اسلاف سے منقول ہے
پس تمہیں ان دونوں کو زیر کرنے کی بھر پور کوشش کر نی پڑے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے