ذی الحجہ فقہ و فتاویٰ

نماز عید الاضحٰی کا طریقہ اور قربانی کے مسائل

ازقلم: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
نہالیہ جامع مسجد ، دکھن نارائن پور ، کولکاتا۔136
رابطہ نمبر۔9007124164

اسلام ایک انقلابی پیغام ہے،اسلام ایک خدائی آواز ہے،اسلام ایک مستحکم ضابطۂ حیات اور اصول مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ہے۔اسلام نے ہمیں عید الاضحٰی جیساتہوار کے ساتھ ساتھ سنت ابراہیمی کو زندہ کرنےکا بہترین موقع فراہم کیا ہے جسکے کچھ ضابطے اور اصول ہیں ۔

عیدالاضحیٰ کے دن کے مستحبات:-
1۔ حجامت بنوانا 2۔ ناخن کاٹنا 3۔ مسواک کرنا 4 ۔ عمدہ لباس زیب تن کرنا 5 ۔ خوشبو لگانا 6 ۔ فجر کی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا 7 ۔ عیدگاہ جلدی جانا 8 ۔ نماز سے پہلے کچھ صدقہ کرنا 9 ۔ عید گاہ پیدل جانا 10 ۔ ایک راستہ سے عید گاہ جا نا اور دوسرے راستہ سے واپس آنا 11۔ خوشی کا اظہار کرنا 12۔ صدقہ وخیرات کرنا 13۔ عیدگاہ کو وقار اطمینان کے ساتھ جانا 14۔ آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرنا 15۔ نماز عید الاضحٰی سے پہلے کچھ نہ کھانا ۔
نماز عید الاضحٰی دس ذی الحجہ کے دن ادا کی جاتی ہے اس کا وقت ایک یا دو نیزوں کے برابر سورج بلند ہونے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور زوال شمس سے پہلے تک باقی رہتا ہے۔

نماز عید الاضحٰی کا طر یقہ:-
پہلے اس طرح نیت کریں کہ نیت کی میں نے دو رکعت نماز عید الاضحٰی کی واجب چھ زائد تکبیروں کے ساتھ پیچھے اس امام کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اَللّٰهُ اكۡبَرۡ کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھا تے ہوئے ناف کے نیچے باندھ لیں اور ثنا پڑھیں ۔،” سُبۡحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمۡدِكَ وَتَبَارَكَ السۡمُكَ وَتَعَالیٰ جَدُّكَ وَلَآ اِلٰهَ غَيۡرُكَ ۔”پھر تین بارتکبیر لگا تے ہوۓ کانوں تک ہاتھ اٹھا ئیں پہلے دو تکبیر میں ہاتھ چھوڑ دیں اور تیسری تکبیر میں ہاتھ باندھ لیں اب امام سورہ فاتحہ اور اسکے ساتھ کوئی سورہ کی قرأت کریں گے آپ خاموشی سے سنیں جیسے ہی قرأت مکمل ہوجائی گی امام رکوع وسجود کریں گے آپ بھی انکے ساتھ ساتھ اپنا رکوع اور سجدہ مکمل کریں گے اب امام دوسری رکعت کے لیے جب کھڑے ہو نگےتو آپ بھی کھڑے ہوجائیں گے۔دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور اسکے ساتھ کوئی سورہ کی قرأت کریں گے جیسے ہی قرأت مکمل ہوگی امام چار تکبیر لگا ئینگے پہلے تین تکبیر میں اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیں گے اور چوتھی تکبیر میں بغیر ہاتھ اٹھا ۓ امام کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں گے اس کے بعد اور نمازوں کی طرح باقی ارکان کو مکمل کرینگے۔ بعدہ امام خطبہ دین گے آپ بغور سماعت کریں خطبہ مکمل ہوتے ہی امام کے ساتھ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا ئیں جہاں اپنے لئے دعا کریں وہی پوری امت مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔

ایام تشریق :-
نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک پانچوں وقت کی ہرفرض نماز کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب اور تین بار کہنا افضل ہے ۔اس کو تکبیر تشریق کہتے ہیں اور وہ یہ ہے ۔ اَللّٰهُ اَكۡبَرُ اَللّٰهُ اَكۡبَرُ لَاِ اِلَهَ اِلَّااللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكۡبَرُ اللّٰهُ اَكۡبَرُ ۔

قربانی کا حکم :-
قرآن مقدس میں اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے ” فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَا نۡحَرۡ "۔ اے محبوب آپ نماز پڑھئیے اور قربانی کیجیئے ۔ امام بیضاوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ” وَقَدۡ فُسِّرَتُ الصَّلٰوةُ صَلٰوةِالۡعِیۡدِ وَالنَّحۡرُ بِالتَّضۡحِیَةِ ” (بیضاوی شریف) صلوٰۃ سے مراد عید کی نماز اور نحر سے مرا قربانی کا جانور ذبح کرنا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے نماز عید پڑھو اس کے بعد قربانی کرو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کے دن ہم جس کام کو سب سے پہلے کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز عید پڑھیں گے اس کے بعد ہم قربانی کریں گے سو جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا اور جس نے (پہلے) ذبح کرلیا تو وہ گوشت ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا ہے اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ حضرت ابوبردہ بن نیاز اس سے پہلے ذبح کر چکے تھے انہوں نے کہا میرے پاس ایک چھ ماہی بکری ہے جو ایک سال کی بکری سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا تم اس کو ذبح کرو اور تمہارے بعد بعد یہ یعنی چھ ماہ کی بکری کسی اور کے لئے درست نہیں ہوگی۔”(مسلم شریف)

قربانی کا جانور ذبح کرنے کا طریقہ اور بخشش کا سبب :-
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ‌تعالی علیہ وسلم نے حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اے فاطمہ ( رضی اللہ تعالی عنہا) اپنے قربانی کے جانور کے پاس کھڑی ہو بے شک قربانی کے پہلے خون کے قطرے کے ساتھ تمہارے تمام پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی اور سنو !قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور اس کو ستر درجہ بڑھا کر تیرے میزان میں وزن کیا جائےگا۔ حضرت ابو سعید خدری نے کہا کہ صرف آل محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ وہ اس خیر کے اہل ہیں؟ یا یہ آل محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے لئے ہے ؟ آپ نے فرمایا بلکہ یہ اجرا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے لئے ہے”۔( کنز العمال 221)

طریقۂ قربانی :-
قربانی کا طریقہ یہ ہے کہ جانورکو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو ۔پھر دعا پڑھیں ” اِنِّیۡ وَجَّهۡتُ وَجۡهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَاَلۡاَ رۡضَ حَنِیۡفًا وَّمَا اَ نَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ،اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُكِیۡ وَمَحۡيَایَ وَمَمَا تِیۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعَا لَمِیۡنَ لَاَ شَرِيۡكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡن ۔”اور جانور کے پہلو پر اپنا داہنا پاؤں رکھ کر ” اَللّٰهُمَّ لَكَ وَ مِنۡكَ بِسۡمِ اللّٰهِ اللّٰهُ اَكۡبَرۡ "پڑھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیں ۔اور ذبح کے بعد یہ دعاء پڑھیں : اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلۡ مِنِّیۡ كَمَا تَقَبَّلتَ مِنۡ خَلِیۡلِكَ اِبۡرَاهِیۡمَ علَۡیۡهِ الصَّلَاةُ وَالسّلَا مُ وَ حَبِیۡبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ تَعَا لٰی عَلَیۡه وَسَلَّمۡ ـ اگر دوسرے کی طرف سے قربانی کرے تو مِنِّیۡ کے بجائے مِنۡ کہہ کر اس کا نام لے۔

ان جانوروں میں سے افضل ترین قربانی کس کی ہوگی؟
جواب۔ اگر گاےکا ساتواں حصہ اور بکری کا گوشت اور قیمت برابر ہو تو بکری افضل ہے۔ دنبہ دنبی سے افضل ہے ، بھیڑ مینڈھے سے افضل ہے ،جبکہ وہ قیمت میں برابر ہوں ،اونٹنی اور گاے اونٹ اور بیل سے افضل ہیں جبکہ وہ قیمت میں برابر ہوں،خصی جانور کی قربانی نر کی بنسبت افضل ہےکیونکہ اس کا گوشت لذیذ ہوتا ہے(درمختار)

قربانی کےجانوروں میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:-
قربانی کا جانور تمام عیوب فاحشہ سے سلامت ہوں ۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھڑے تھے اور فرمایا کہ وہ جانور جس میں درج ذیل عیب ہوں اس کی قربانی کرنا جائز نہیں۔

  1. وہ کانا ہو،اور اس کا کانا ہونا ظاہر ہو۔
  2. وہ بیمار ہو جس کا مرض ظاہر ہو۔
  3. وہ لنگڑا ہو جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔
    4 . وہ ایسا بوڑھا ہو جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔(ترمذی بیہقی وغیرہ)
  4. وہ جانور جس کے دونوں کان کٹے ہوئےہوں یا اس کا ایک کان مکمل کٹا ہوا ہو۔ یا دنبے کی پیدائشی لاٹ نہ ہو۔ یا اس کی پیدائشی دم نہ ہو یا اس کی دم تیسرے حصہ سے زائد کٹی ہو ۔ یا بکری کا ایک تھن غائب ہو ۔یا بھیس گاے اور اونٹنی وغیرہ کے دو تھن نہ ہو تو ایسے جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔

قربانی ذبح کرنے کا وقت کتنے دن ہے؟
وہ مقامات جہاں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے ان مقامات پر عید کی نماز ادا کرنے کے بعد قربانی ذبح کرنے کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور بارہویں ذی الحجہ غروب آفتاب سے پہلے تک قربانی ذبح کرنا جائز ہے لیکن پہلے دن یعنی دسویں ذی الحجہ کو قربانی کرنا افضل ہے۔اور ایسی بستی جہاں عید کی نماز ادا نہیں کی جاتی وہاں طلوعِ شمس کے بعد قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز ہے اور رات کے وقت قربانی ذبح کرنا مکروہ ہے۔

قربانی کے گوشت اور کھال کا حکم۔
قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے۔ایک حصہ گھر میں استعمال کرے۔ایک حصہ غرباء و مساکین میں تقسیم کرے اور ایک حصہ اپنے دوست واحباب کو پیش کرے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب آپ قربانی ذبح کرتے تو اس کے گوشت میں سے اپنے احباب ، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے قریبی رشتہ داروں اور سہیلیوں میں تقسیم فرماتے تو اس طرح قر بانی کا گوشت امیر و غریب مسلمانوں کو دیا جا سکتا ہے ۔ قربانی کا تمام گوشت صدقہ کر دینا بھی جائز ہے اور تمام گوشت اپنے کھانے کے لئے بھی جائز ہے ۔اور قربانی کا گوشت قصاب کو اجرت میں دینا جائز نہیں۔ افضل یہ ہے کہ تیسرا حصہ اپنے لیے مخصوص کر لے ۔
قربانی کی کھال کا مسئلہ یہ ہے کہ قربانی کرنے والا اسے خود بھی استعمال کرسکتا ہے یعنی وہ اس کا مصلی یا مشکیزہ بنالے یا اس کے علاوہ اس کی کوئی اور چیز بنا کر استعمال کر لے اور اسے صدقہ کرنا بھی جائز ہے ۔مثلا غرباء ومساکین میں تقسیم کرے یا دینی مدارس میں دے دے جن میں قرآن،حدیث،تفسیر،اور فقہ وغیرہ علوم پڑھاۓ جاتے ہیں۔اور ان مدارس میں غریب نادار قسم کے طلباء ہوتے ہیں لیکن کھال فروخت کرکے قربانی دینے والے کے لئے اپنے مصارف میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح قربانی کی کھال بطورِ تنخواہ امام مسجد کو دینا بھی جائز نہیں البتہ اگر اسے بطور امداد دی جائے تو جائز ہے۔خواہ امام امیر ہو یا غریب۔

ذبیحہ کی درج ذیل چیزیں کھانا جائز نہیں۔
بہتا ہوا خون ،آلہ تناسل،کپورے،پاخانہ کی جگہ،مثانہ، پتہ، غدود کیوں کہ مصنف عبد الرزاق میں مذکور ہے "كَرِهَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیۡهِ وَسَلَّمَ مَنَ الشَّاةِ الذَّكَر وَالۡاُنۡثَیَیۡنِ والۡقُبُلُ وَالۡغُدَّةَ وَالۡمِرَارَةَ وَالۡمَثَانَةَ وَالدَّمَ ” یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکرے میں سے آلہ تناسل،کپور،پیشابپاخانہ کی جگہ،غدود،پتہ ،مثانہ ،اور خون کو مکروہ فرمایا ہے ۔

عقیقہ کا کا بیان :-
بچہ پیدا ہونے کی شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہےاسے عقیقہ کہتے ہیں۔جن جانوروں کو قربانی میں ذبح کیا جاتا ہے انہی جانوروں میں عقیقہ بھی کر سکتے ہیں۔لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکرا ذبح کرنا بہتر ہے۔ گائے بھینس میں قربانی کے وقت کچھ حصہ قربانی کی نیت سے اور کچھ حصہ عقیقہ کی نیت سے رکھ کر ذبح کرے تو ایک ہی جانور میں قربانی اور عقیقہ دونوں ہو جائے گا اور ایسا کرنا جائز ہے۔ عقیقہ کے لئے بچے کی پیدائش کا ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کر سکے تو جب چاہیں کرے سنت ادا ہو جائے گی۔عقیقہ کا گوشت بچے کے ،ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی وغیرہ وہ سب کھا سکتے ہیں اور جاہلوں میں جو یہ مشہور ہے کہ یہ لوگ نہیں کھا سکتے یا بالکل ہی غلط ہے۔عقیقہ کے جانور کو ذبح کرتے وقت لڑکا ہو تو یہ دعا پڑھیں۔ ” اَللّٰهُمَّ هٰذِهٖ عَقِیۡقَةُ فُلَانِ بۡنِ فُلَانٍ دَمُهَا بِدَمِهٖ وَلَحۡمُهَا بِلَحۡمِهٖ وَعَظۡمُهَا بِعَظمِهٖ وَجِلۡدُهَا بِجِلۡدِهٖ وَشعۡرُهاَ بِشَعۡرِهٖ . اللّٰهُمَّ اجۡعَلَهَافِدَءً لَهُ مِنَ النَّارِ بِسۡمِ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَكۡبَرۡ ۔دعا میں فلان بن فلان کی جگہ بچے اور اور اس کے باپ کا نام لے۔ اور اگر لڑکی ہو تو یہی دعا اس طرح پڑھے ۔ اَللّٰهُمَّ هٰذِهٖ عَقِیۡقةُ فُلَانَةِبِنۡتِ فُلَانٍ دَمُهَا بِدَمِهَا وَلَحۡمُهَا بِلَحۡمِهَا وَعَظۡمُهَا بِعَظۡمِهَا وَجِلۡدُهَابِجَلۡدِهَا وَشَعۡرُهَا بِشَعۡرِهَا اَللّٰهُمَّ اجۡعَلۡهَا فِدَآءً لَهَا مِنَ النَّارِ ” دعا میں فلانة بِنت فُلانٍ کی جگہ لڑکی اور اس کے باپ کا نام لے۔
اللہ رب العزت اپنے تمام بندوں کو خلوصیت للہیت کے ساتھ نماز عید الاضحٰی اور قربانی کے احکام کو انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے