عقائد و نظریات فقہ و فتاویٰ مذہبی مضامین

ضروریات دین کے موضوعات و محمولات (قسط اول)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

عدم توجہ اور بے التفاتی کے سبب کبھی بدہیات میں بھی شبہہ ہونے لگتا ہے۔ذراسی توجہ سے وہ شبہہ دور ہوجاتا ہے،لیکن بعض قلوب میں باطل شبہات اس قدر مستحکم ہوجاتے ہیں کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود شبہات کا ازالہ مشکل ہوجاتا ہے۔

بسا اوقات اہل شبہہ کفروضلالت کی وادی میں بھٹکتا رہ جاتا ہے،یہاں تک کہ موت کا آہنی پنجہ اسے دبوچ لیتا ہے۔

کافر کلامی کوکافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔یہ ایک بدیہی امر ہے،گر چہ بعض لوگوں کوشبہہ ہوجاتا ہے۔

چندمثالوں کے ذریعہ اس کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے۔

(الف)منا طقہ کے یہاں یقینیات میں سے ہے کہ:”ہر انسان حیوان ناطق ہے۔

مذکورہ بالا قاعدہ کلیہ میں لفظ انسان موضوع ہے،پس جو بھی انسان ہوگا،وہ یقینی طورپرحیوان ناطق ہوگا۔اس کے موضوع کے تمام افراد پراس قاعدہ کے محمول یعنی حیوان ناطق کا حمل یقینی طورپرہوگا،اور انسان کے ہر فرد کا حیوان ناطق ہونا یقینییات میں سے ہوگا۔

(1)ناہدانسان ہے،او ر ہرانسان یقینی طورپرحیوان ناطق ہے،پس ناہد یقینی طورپر حیوان ناطق ہے۔

(2)خالد انسان ہے،اور ہرانسان یقینی طورپرحیوان ناطق ہے،پس خالد یقینی طورپر حیوان ناطق ہے۔

جب قاعدہ کلیہ یقینی ہے تو اس کے موضوع کے تمام افراد پرمحمول کا انطباق واطلاق یقینی طور پرہو گا۔اس میں نہ شبہہ کی گنجائش ہے،نہ شک کی کوئی راہ،لہٰذا ناہددخالد کا حیوان ناطق ہونا یقینیات میں سے ہوگا۔

(ب)جب کوئی قاعدہ کلیہ ظنیات میں سے ہوتو اس کے موضوع کے افراد پر محمول کا اطلاق وانطباق بھی ظنی طورپر ہوگا،مثلاً:جورات کو چھپ چھپ کر گھومتا ہے,وی چور ہے۔

مذکورہ بالا قاعدہ کلیہ ظنیات میں سے ہے۔اس میں ”جورات کوچھپ چھپ کر گھومتا ہے” موضوع ہے،پس جو بھی رات کوچھپ چھپ کرگھومے گا،وہ ظنی طورپرچورہوگا۔اس کے موضوع کے تمام افراد پراس قاعدہ کے محمول یعنی چور کا حمل ظنی طورپرہوگا۔

یہ قضیہ کلیہ ظنی ہے،کیوں کہ ممکن ہے کہ کوئی مجرم پولیس کے خوف سے چھپ چھپ کر رات کو گھومتا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مظلوم کسی ظالم کے خوف سے چھپ چھپ کر گھومتا ہو۔

(ج) اہل اسلام کے یہاں یہ ضروریات دین میں سے ہے کہ: ہر گستاخ رسول کا فر ہے۔

(1)زید گستاخ رسول ہے،اور ہر گستاخ رسول کا کافرہونا ضروریات دین میں سے ہے، پس زید کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔

(2)بکر گستاخ رسول ہے،اور ہر گستاخ رسول کا کافرہونا ضروریات دین میں سے ہے، پس بکر کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔

یہ تمام نتائج بدیہی ہیں،شبہہ کی گنجائش نہیں،پھر بھی لوگ شبہہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

مذکورہ قاعدہ کلیہ”ہرگستاخ رسول کافرہے“۔ یہ ضروریات دین میں سے ہے،پس اس کے موضوع کے تمام افراد کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہوگا۔ مذکورہ مثالوں میں زید وبکر کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہوگا،جیسے ارباب منطق کے یہاں انسان کے تمام افرادکا حیوان ناطق ہو نایقینیات میں سے ہے۔اسی طرح قادیانی اور اشخاص اربعہ کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔

(د)جب قضیہ کلیہ کاذب اور غلط ہو تو اس کے موضوع کے افراد پر اس کے محمول کا اطلاق بھی غلط ہو گا,مثلا:ہر انسان چوپایہ ہے۔یہ ایک غلط اور کاذب قضیہ کلیہ ہے,پس انسان کے افراد یعنی زید و بکر پر چوپایہ کا حمل واطلاق بھی غلط ہو گا۔مثلا

(1)زید انسان ہے اور ہر انسان چوپایہ لہذا زید چوپایہ ہے۔

(2)بکر انسان ہے اور ہر انسان چوپایہ ہے,لہذا بکر چوپایہ ہے۔

مذکورہ بالا مثالوں میں کبری غلط ہے,لہذا نتیجہ بھی غلط ہے۔

الحاصل وہ قضیہ کلیہ جو کبری بنے,وہ یقینی ہو تو اس کے موضوع کے افراد یقینیہ کے لئے اس کے محمول کا ثبوت یقینی ہو گا۔

اگر وہ قضیہ کلیہ ظنی ہو تو اس کے موضوع کے افراد کے لئے اس کے محمول کا ثبوت بھی ظنی ہو گا۔

اگر وہ قضیہ کلیہ غلط ہو تو اس کے موضوع کے افراد کے لئے اس کے محمول کا ثبوت بھی غلط ہو گا۔

اسی طرح اگر وہ قضیہ کلیہ ضروریات دین سے ہو تو اس کے موضوع کے افراد کے لئے اس کے محمول کا ثبوت بھی ضروریات دین میں سے ہو گا۔

الغرض قضیہ کلیہ جیسا ہو گا۔اس کے موضوع کے افراد کے لئے محمول کا ثبوت بھی اسی نوعیت کا ہو گا۔

کافر کلامی کوکافر ماننا ضروری دینی کیسے؟

(1)کافر کلامی کوکافر کلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔
یہ اجماع متصل اورقرآن وسنت سے ثابت ہے۔

(2)متکلمین صرف ضروری دینی کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں اور متکلمین کافر کلامی کے کفر کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں۔ اس کا صریح مفہوم یہ ہوا کہ کافر کلامی کو کافر کلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہے،ورنہ متکلمین منکر پر حکم کفر عائد نہیں فرماتے۔

کیاعہد حاضرکے کسی کا فرکوکافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے؟

سوال:کیاکسی مدعی الوہیت کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہے؟
کیاجو اس کے کفر کا منکر ہو، وہ بھی کافر ہے؟

جواب:جس کا دعویٰ الوہیت،قطعی بالمعنی الاخص طورپرثابت ہوجائے، اور شرائط تکفیر کے تحقق کے بعد کفر کلامی کا حکم صحیح عائد ہوجائے،اس کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔

سوال:
ضروریات دین کا ثبوت جن دلائل اربعہ سے ہوتا ہے،زید یعنی مدعی الوہیت کے کفر کاثبوت ان دلائل سے نہیں ہوا، پھر اس کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے کیسے ہوگیا؟

جواب:ضروریات دین کا ثبوت چار دلائل سے ہوتا ہے:(1)عقل صحیح (2) آیت قرآنیہ قطعی الدلالت (3)حدیث متواتر قطعی الدلالت (4)اجماع متصل۔

ضروریات دین مذکورہ دلائل اربعہ سے ثابت وماخوذ ہوتے ہیں۔ضروریات دین کے افراد وجزئیات کا ثبوت مذکورہ دلائل اربعہ کے علاوہ خبر متواتر اور حواس ظاہرہ سے بھی ہوتا ہے۔

خبرمتواتر اورحواس ظاہرہ سے حاصل ہونے والا علم بھی قطعی بالمعنی الاخص ہوتا ہے،جیسے مذکورہ دلائل اربعہ سے حاصل ہونے والا علم قطعی بالمعنی الاخص ہوتا ہے۔

افراد وجزئیات کا حکم خبر متواتر یاحواس ظاہر ہ سے ثابت نہیں ہوتا،بلکہ افراد وجزئیات کا اس کلی کا فرد وجزئی ہونا خبر متواتر یا حواس ظاہر ہ سے ثابت ہوتا ہے۔

مثلاً:ہر بت پرست کا فر ہے۔ اس قاعدہ کلیہ میں موضوع یعنی بت پرست کلی ہے،اوراس کلی کے لیے یہ حکم بیان گیا کہ وہ کافر ہے،اوریہ حکم ضروریات دین سے ہے،کیوں کہ بت پرست کا کافر ہونا قرآن وحدیث اور اجماع متصل سے ثابت ہے۔

اب ہم رام کو روزانہ مندر میں بت کوپوجتے ہوئے دیکھتے ہیں تو رام کا بت پرست ہونا ہمارے لیے حواس ظاہرہ (حاسہ بصر) سے ثابت ہوگیا۔اسی طرح رام کو بت کو اپنا معبود کہتے ہوئے بھی ہم سنتے ہیں تو حاسہ سمع سے بھی اس کا بت پرست ہونا ثابت ہو گیا،اور حواس ظاہر ہ سے جو علم حاصل ہو، وہ قطعی بالمعنی الاخص ہوتا ہے تو رام کا بت پرست کا ایک فرد ہونا قطعی بالمعنی الاخص ہوگیا۔

حاسہ سمع وبصرسے صرف رام کا بت پرست ہونا ثابت ہوا۔ اس کا کافر ہوناحاسہ سمع وبصرسے ثابت نہیں ہوا،بلکہ اس کا کافر ہو نا ان آیات قطعیہ واحادیث مقدسہ واجماع متصل سے ثابت ہوا،جن میں بت پرست کوکافر قرار دیا گیا ہے۔بت پرست کا فرد قطعی ثابت ہوتے ہی اس کے لیے کافر ہونے کا حکم ثابت ہوگیا،اور بت پر ست کا کافر ہونا ضروری دینی ہے تو رام کاکافرہونا بھی ضروری دینی ہوگیا۔

خبر متواتر سے معلوم ہواکہ رام بت پرست ہے تو اس کا بت پرست کاایک فرد ہونا قطعی ہوگیا،کیوں کہ خبر متواتر سے حاصل ہو نے والا علم قطعی ہوتا ہے۔

اب رام کا کافر ہونا انہی آیات واحادیث واجماع متصل سے ثابت ہوا، جن سے بت پرست کا کافرہونا ثابت ہوا۔موضوع کے فرد کاتعین خبر متواترسے ہوا۔

موضوع کے اس خاص فرداور جملہ افراد کا حکم قرآن حدیث سے ثابت ہوا۔

فردیت وجزئیت کا قطعی بالمعنی الاخص ثبوت قرآن مجید کی قطعی الدلالت آیت مقدسہ، قطعی الدلالت حدیث متواتریااجماع متصل سے بھی ہوتا ہے، اسی طرح حواس ظاہرہ اور خبر متواتر سے بھی فردیت وجزئیت کاقطعی بالمعنی الاخص ثبوت ہوتا ہے۔

اگر کچھ شک گزرتا ہے تو اس پر غور کریں کہ قرآن مقدس،احادیث متواترہ و عقائد ومسائل متواترہ اجماعیہ خبرمتواتر ہی کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں،جب قرآن مجید خبر متواتر سے موصول ہوتو قطعی ہوجائے،اور زید کے بت پرست ہونے کی بات خبرمتواتر سے معلوم ہوتو وہ ظنی رہ جائے، ایسا کیوں کرہوسکتا ہے۔

اسی طرح یہ غور کریں کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جوکچھ ہمیں ملا،وہ حواس ظایرہ ہی کے ذریعہ ملا ہے۔قرآن مجید،احادیث متواتر ہ وغیر متواتر ہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے سنا،اور افعال نبویہ کو دیکھا، اورپھر روایت فرمایا۔

اقوال نبویہ وافعال نبویہ کا مجموعہ ہی شریعت اسلامیہ ہے۔مکمل شریعت اسلامیہ حواس ظاہرہ کے ذریعہ امت کو ملی۔جب قرآن مجید حواس ظاہرہ کے ذریعہ امت کو موصول ہوتووہ قطعی ہوجائے اور زید کے بت پر ست ہونے کا علم حواس ظاہر ہ سے حاصل ہو،تووہ ظنی رہ جائے، ایسا کیوں کر ہوسکتا ہے۔

ضروریات دین کی دوقسمیں:

احکام جزئیہ اور احکام کلیہ

ضروریات دین میں دوقسم کے امور شامل ہیں:
(1)جزئی احکام (2) احکام کلیہ (قواعد کلیہ)

قرآن مجید،حدیث متواترواجماع متصل میں جزئی احکام اور کلی احکام موجود ہیں۔ اگرموضوع فرد خاص ہے تووہ حکم جزئی ہے۔

اگر موضوع کلی ہے تووہ حکم کلی ہے،یعنی موضوع کے تمام افراد کے لیے ہے۔ کلی احکام سے قواعد کلیہ بنائے گئے۔

ضروریات دین کی قسم اول:جزئی احکام:

جزئی احکام سے وہ احکام مرادہیں جن میں کسی جزئی اور فرد خاص کا حکم بیان کیا گیا ہو۔

جزئی احکام کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

(محمد رسول اللّٰہ) (سورہ فتح:آیت 29)

(ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین)
(سورہ احزاب:آیت40)

(اِنَّکَ لَمِنَ المُرسَلِینَ)(سورہ یٰسین:آیت 3)

قوم جن کے ایک خاص فرد، شیطان سے متعلق ارشا د الٰہی ہے:

(ابٰی واستکبر وکان من الکٰفرین)(سورہ بقرہ:آیت34)

مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہوگیا کہ قرآن مجید میں،اسی طرح احادیث مقدسہ میں جزئی وشخصی احکام بھی بیان کیے گئے ہیں۔

ضروریات دین کی قسم دوم:احکام کلیہ:

احکام کلیہ سے وہ احکام مرادہیں،جن میں کسی کلی کا حکم بیان کیا گیا ہو۔

چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

(والسّٰبقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوہم باحسان رضی اللّٰہ عنہم ورضوا عنہ) (سورہ توبہ:آیت100)

(والذین معہ اشداء علی الکفار ورحماء بینہم)(سورہ فتح:آیت29)

(اولئک علیہم صلوات من ربہم ورحمۃ واولئک ہم المہتدون)
(سورہ بقرہ:آیت157)

(اولئک علٰی ہدی من ربہم واولئک ہم المفلحون)
(سورہ بقرہ:آیت 5)

باب ضروریات کے احکام کلیہ واحکام جزئیہ کا ثبوت ضروریات دین کے دلائل اربعہ میں سے کسی دلیل سے ہوتا ہے،لیکن احکام کلیہ کے موضوع کے افراد کا تعین دلائل اربعہ سے ہونا ضروری نہیں،بلکہ دلائل اربعہ سے بھی کسی فرد کا ثبوت ہوسکتا ہے، اور ان کے علاوہ کسی بھی قطعی دلیل سے ہوسکتا ہے۔

حکم شرعی کاثبوت دلائل اربعہ سے ہوگا اور کسی فرد کی فردیت وجزئیت کا ثبوت کسی بھی قطعی دلیل سے ہوسکتا ہے۔قطعی دلائل یعنی علم یقینی کے تین اسباب ہیں:

(1)خبر صادق (قول رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام وخبرمتواتر)
(2)حواس خمسہ ظاہرہ (3) عقل صحیح۔

قول رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام میں قرآن مجید اور احادیث طیبہ شامل ہیں۔ اجماع متصل کا ماخذ قول رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام وفعل رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوتا ہے۔

اس طرح ان تین یقینی دلائل کی تفصیل کی جائے تو چھ دلائل بن جاتے ہیں۔

(1)قرآن مجید (2)حدیث متواتر (3)اجماع متصل
(4)خبرمتواتر (5)عقل صحیح (6)حواس خمسہ ظاہرہ۔

ان میں سے چارضروریات دین کے دلائل ہیں۔

(1)عقل صحیح (2)آیت قرآنیہ قطعی الدلالت
(3)حدیث متواتر قطعی الدلالت (4)اجماع متصل۔

مذکورہ بالا چاردلائل کے بعددو دلائل باقی رہتے ہیں:
(1)خبر متواتر (2)حواس خمسہ ظاہرہ۔

کسی فرد کی فردیت وجزئیت کا قطعی بالمعنی الاخص ثبوت مذکورہ بالا دلائل ستہ میں سے ہرایک دلیل سے ہوجاتا ہے۔
عہد نبوی کے بعد افراد کا قطعی کا ثبوت کیسے ہوگا؟

وصال نبوی کے سبب قرآن وحدیث کا سلسلہ موقوف ہوچکا۔ اجماع متصل کا ماخذ بھی قول نبوی وفعل نبوی ہوتا ہے،پس اجماع متصل کا سلسلہ موقوف ہوگیا۔اب صرف قرآن وحدیث واجماع متصل کی روایت جاری ہے۔اب چھ قطعی دلائل میں سے تین قطعی دلائل موقوف ہوگئے تو جن امور میں حکم کے ثبوت کے لیے قطعیت کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً کفرکلامی کا حکم نافذہونے کے لیے قطعی طورپر ضروریات دین کی تکذیب کا ثبوت چاہئے تووہاں لا محالہ باقی ماندہ قطعی دلائل یعنی عقل صحیح،خبرمتواتر اور حواس ظاہرہ سے قطعی ثبوت کا لحاظ ہونا چاہئے،اور حکم شرعی جاری ہونا چاہئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ جن افراد وجزئیات کے لیے قطعی حکم دلائل ثلاثہ یعنی قرآن مجید، حدیث متواترواجماع متصل میں بیان ہوچکے، اب حکم انہی افراد تک محدود رہے گا،اور دیگر افراد کے لیے حکم شرعی ثابت نہیں ہوگا تو یہ حکم شرعی کو معطل اور موقت قرار دیناہے، حالاں کہ مذہب اسلام قیامت تک کے لیے دین حق ہے،اوراس کے احکام بلا شرکت دیگر مذاہب سماویہ انفرادی طورپر قیامت تک جاری رہیں گے، پس ضروری ہے کہ جو دیگر دلائل ثبوت قطعی کا افادہ کرتے ہیں،ان دلائل کا لحاظ کیا جائے، پھر ان دلائل سے کسی فرد کی فرد یت کا قطعی ثبوت ہوجائے تو حکم شرعی نافذ کیا جائے،ورنہ احکام شرعیہ معطل ہوجائیں گے۔

اگر بالفرض حکم ان ہی افراد تک محدود ہوتا،جن کا ذکر قرآن مقدس،حدیث متواتر واجماع متصل میں ہوچکا ہے تو دیگر مومنین کو مومن نہیں مانا جاتا،نہ ہی دیگرکفار کو کافر کہا جاتا، کیوں کہ ان کا ذکردلائل ثلاثہ میں نہیں ہے۔

اسی طرح جس نبی کا ذکر دلائل ثلاثہ میں نہ ہوتا، لیکن خبر متواتر سے ان کانبی ہونا ثابت ہوتا تو ان کی نبوت کے انکار پر حکم کفر نہیں ہوتا،حالاں کہ اگر کسی نبی کی نبوت کا علم یقینی خبر متواتر سے حاصل ہوجائے تو ان کی نبوت کا انکار کفر کلامی ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ دلائل ثلاثہ میں قریباًایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام میں سے اسم شریف کی صراحت کے ساتھ کسی کے مومن ہونے کا ذکر نہیں ملتا۔

نام کی تصریح کے ساتھ بعض صحابہ کرام واہل بیت عظام کے جنتی ہونے کا ذکر احادیث غیرمتواترہ میں ہے،احادیث متواترہ میں نہیں۔
جو جنتی ہو گا,وہ یقینا مومن ہو گا,پس ان احادیث طیبہ سے ان حضرات کے مومن ہونے کا ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے,لیکن یہ متواتر احادیث نہیں۔لہذا یہ احادیث دلائل ثلاثہ سے خارج ہیں۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت کا ذکر قرآن مجید میں ہے،لیکن مومن ہونے کا ذکر نہیں۔صحبت کا ذکر بھی بلاتصریح اسم ہے،گرچہ وہاں آپ ہی مراد ہیں،اسی لیے ان کی صحبت کا انکار کفر کلامی ہے۔

اگر کسی صحابی کے مومن ہونے کا ذکر دلائل ثلاثہ میں ہوتا تو ان کو کافر کہنا کفرکلامی ہوتا کیوں کہ دلائل ثلاثہ (قرآن مقدس کی قطعی الدلالت آیت طیبہ،قطعی الدلالت حدیث متواتر،اجماع متصل)سے جوامردینی ثابت ہو،وہ ضروری دینی ہوتا ہے،اوراس کا انکار کفر کلامی ہوتا ہے،لیکن انفرادی طورپرکسی صحابی کی تکفیر،کفر کلامی نہیں۔

خوارج نے شیر خداحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تکفیر کی،لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان خوارج کی تکفیر نہیں فرمائی۔اگر دلائل ثلاثہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مومن ہونے کا ذکر ہوتا تو ضروران کے ایمان کا انکار کفر کلامی قرار پاتا،اور اس صورت میں خوارج کی تکفیر کلامی لازم ہوتی۔

جس حدیث نبوی میں حضرات عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے جنتی ہونے کی بشارت ہے،وہ حدیث متواتر نہیں۔اگر وہ حدیث متواتر ہوتی تو حضرات عشرہ مبشرہ کا مومن ہونا دلائل ثلاثہ سے ثابت ہوجاتا،کیوں کہ جنتی وہی ہوگا جومومن ہوگا۔

یہ امر بھی ممکن ہوتا کہ کسی صحابی کے مومن ہونے کا ذکر دلائل ثلاثہ میں ہوجائے،اس کے بعد وہ معاذاللہ کفروبت پرستی اختیار کر لے توپھر اس کی تکفیر لازم ہوتی۔نہار الرجال صحابی تھا،لیکن اس نے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کو مان لیا اور کفر پر اس کی موت ہوئی۔

افراد کا ثبوت خبرمتواتر اور حواس ظاہرہ کے ذریعہ:

ابوجہل کے بت پرست ہونے کا ثبوت خبر متواترسے ہوگیا تو ابوجہل کا بت پرست ہونایقینی ہے،یا ابوجہل کو بت پرستی کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا،یا اپنے کانوں سے اس کو بتوں کی معبود یت کاقرارکرتے سنا تو حاسہ سمع وحاسہ بصر کے ذریعہ اس کے بت پرست ہونے کا یقین ہوگیا۔اس طرح خبر متواتر یا حواس ظاہرہ کے ذریعہ ابوجہل کا یقینی طورپر بت پرست ہونا ثابت ہوگیا اور ہربت پرست کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہے تو اب ابوجہل کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔

اصل کلی کا حکم ضروریات دین میں سے ہے تو اس کلی کے افراد کا حکم بھی ضروریات دین میں سے ہوگا۔جب ہر بت پرست کاکافر ہوناضروریات دین میں سے ہے،اور ابوجہل یقینی طورپر بت پرست ہے تو اس کا کافر ہونا بھی ضروریات دین میں سے ہوگا۔

قواعد کلیہ کے موضوع کے حکم کا ثبوت دلائل اربعہ سے:

قواعد کلیہ جو ضروریات دین میں سے ہو، ان کے موضوع کا حکم دلائل اربعہ سے ثابت ہوگا،یعنی ضروریات دین کے جو چار دلائل ہیں،ان سے کسی بھی دلیل سے موضوع کے حکم کا ثبوت ہوگا۔وہ چار دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

(1)عقل صحیح (2)آیت قرآنیہ قطعی الدلالت (3)حدیث متواتر قطعی الدلالت
(4) اجماع متصل

قواعد کلیہ کے موضوع کے کسی فرد کی فردیت کا ثبوت علم یقینی کے تمام اسباب سے ہوتا ہے۔وہ کل چھ اسباب ہیں۔ان میں سے کسی بھی سبب سے فرد کی فردیت وجزئیت قطعی طورپرثابت ہوجائے گی۔وہ دلائل ستہ مندرجہ ذیل ہیں:

(1)عقل صحیح (2)آیت قرآنیہ قطعی الدلالت (3)حدیث متواتر قطعی الدلالت
(4) اجماع متصل(5)خبر متواتر (6)حواس ظاہرہ۔

عقل حاکم ہوتو حکم عقلی ہوگا، شریعت حاکم ہوتوحکم شرعی ہوگا۔

کسی فرد کی فردیت کے ثبوت کے بعد کبھی عقل کا حکم نافذ ہوتا ہے،اور کبھی شریعت کا حکم نافذ ہوتا ہے۔اسی حاکم کے اعتبار سے حکم کو عقلی یا شرعی کہا جاتا ہے۔خواہ فردکی فردیت وجزئیت کسی بھی قطعی طریقہ پر ثابت ہوئی ہو۔

حکم کا ثبوت جس سے ہوتا ہے،حکم اسی جانب منسوب ہوتا ہے۔ کسی نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا،مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃوالسلام نے دعویٰ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی ورسول بناکر بھیجا ہے،اوران کواپنی کتاب انجیل عطا فرمائی ہے۔ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃوالسلام نے معجزہ ظاہر فرمایا۔

جس مدعی نبوت سے معجزہ کا ظہور ہو تووہ سچے نبی ہوتے ہیں،یعنی نوع نبی کے ایک قطعی فرد ہوتے ہیں۔اب ان کے نبی ہونے کا فیصلہ انجیل کی کسی آیت سے نہیں ہوگا، کیوں کہ جب تک ان کو نبی نہ مانا جائے،تب تک انجیل کوبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اب عقل فیصلہ کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے دعویٰ پر یقینی ثبوت پیش کردیا ہے تو ان کا نبی ہونا قطعی اوریقینی ہے۔معجزہ کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، اوراسی معجزہ کے سبب کسی نبی کا نوع نبی کا ایک قطعی فرد ہونا ثابت ہوتا ہے،لیکن فیصلہ عقل کرتی ہے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نبوت ورسالت کا ثبوت عقل پر موقوف ہے،اورشریعت کا ثبوت،نبوت کے ثبوت پر موقوف ہے،یعنی پہلے عقل کے فیصلہ کے مطابق نبی کونبی مانا جاتا ہے،پھر ان کے پیش کردہ دینی احکام کوتسلیم کیا جاتا ہے۔انہی احکام کا مجموعہ شریعت ہے۔

نبوت ورسالت کے علاوہ بھی متعدداعتقادیات کا ثبوت عقل سے ہوتا ہے،جیسے اللہ تعالیٰ کاوجود، صدق خداوندی،ارسال رسل،کلام، نبی کا صدق وغیرہ۔اگر ان امورکو شریعت سے ثابت مانا جائے تودور لازم آئے گا،کیوں کہ ان امور کی تصدیق وتسلیم اوران پرایمان کے بعد شریعت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ شریعت موقوف ہے اور عقل موقوف علیہ۔اگر مذکورہ بالا امور شریعت سے ثابت ہوں تو جن امور پر شریعت موقوف تھی،ان امور کا شریعت پر موقوف ہونا لازم آئے گا، یہی دور ہے۔ ہاں،ان امورعقلیہ کی تائید وتصدیق شریعت میں وار د ہوتی ہے۔تائید وتصدیق الگ ہے اور ثبوت واثبات الگ ہے۔

قال العلامۃ البدایونی ناقلًا عن ابن ابی شریف رحمہ اللّٰہ تعالٰی:(اِنَّ الشَّرعَ اِنَّمَا یَثبُتُ بالعقل فان ثبوتہ یتوقف علٰی دلالۃ المعجزۃ علٰی صدق المُبَلِّغِ وانما تثبتُ ہذہ الدلالۃُ بالعقل-فَلَو اَتَی الشَّرعُ بما یُکَذِّبُ العَقلَ وہو شَاہِدُہ لَبَطَلَ الشَّرعُ والعقل معًا)(المعتقد المنتقد: ص73-استنبول: ترکی)

ترجمہ:شریعت عقل سے ثابت ہوتی ہے،اس لیے کہ شریعت کا ثبوت نبی کی سچائی پر معجزہ کی دلالت پر موقوف ہے،اور معجزہ کی یہ دلالت عقل سے ثابت ہوتی ہے،پس اگر شریعت کوئی ایسی بات لائے جو عقل کی تکذیب کرے تو شریعت وعقل دونوں باطل ہو جائیں گی،کیوں کہ عقل شریعت کے لیے گواہ ہے۔

توضیح:شریعت کا ثبوت عقل سے ہوتا ہے۔ اگر شریعت کوئی ایسا حکم لائے،جس سے عقلی حکم باطل ہوجائے تو اس صورت میں عقل وشریعت دونوں کا بطلان ہوجائے گا،کیوں کہ موقوف علیہ کے بطلان سے موقوف خودبخود باطل ہوجاتا ہے۔

اسی لیے جب عقلی حکم وشرعی حکم میں اختلاف ہوتو شرعی حکم کوعقلی حکم کے موافق کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ حکم اعتقادیات سے متعلق ہے۔فقہی وعملی احکام کا ثبوت عقل سے نہیں ہوتا،نہ ہی وہاں عقلی حکم سے مطابقت کی ضرورت ہے۔

چوں کہ علم عقائد کا مبنیٰ عقل صحیح ہے،جو معجزہ کے سبب نبوت کوتسلیم کرتی ہے،اور پھر اسی تسلیم وتصدیق پر ساری شریعت کا مدار ہوتاہے،اس لیے علوم اعتقادیہ کوعقل کی طرف منسوب کرکے علوم عقلیہ کہا جاتا ہے،کیوں کہ اعتقادیات کے ابتدائی مسائل اوربہت اہم مسائل کا ثبوت عقل سے ہوتا ہے،مثلاً وجود باری تعالیٰ اورمتعددصفات الٰہیہ کا ثبوت،پھر نبوت ورسالت کا ثبوت،صدق الٰہی وصدق رسول علیہ السلام کا ثبوت عقل سے ہوتا ہے۔

قال صدر الشریعۃ البخاری:((والمذہب عندنا التوسط بینہما-اِذ لَا یُمکِنُ ابطالُ العقل بالعقل ولا بالشرع وہو مَبنِیٌ عَلَیہِ)اَیِ الشَّرعُ مَبنِیٌ علی العقل-لانہ مبنی علٰی معرفۃ اللّٰہ تَعَالٰی والعلم بوحدانیتہ والعلم بان المعجزۃَ دَالَّۃٌ عَلَی النُّبُوَّۃِ-وہٰذہ الامورُ لا تُعرَفُ شرعًا بل عقلًا قطعًا لِلدَّورِ)(التوضیح جلددوم:ص160)

ترجمہ:ہمار امذہب عقل وشرع کے درمیان اعتدال کا ہے،اس لیے کہ عقل کو نہ عقل سے باطل کرنا ممکن ہے،نہ ہی شرع سے باطل کرنا ممکن،کیوں کہ وہ عقل پر مبنی ہے،یعنی شریعت عقل پر مبنی ہے،اس لیے کہ شریعت اللہ تعالیٰ کی معرفت،اس کی وحدانیت کے علم اور اس بات کے علم پر مبنی ہے کہ معجزہ نبوت پر دلالت کرنے والا ہے،اور یہ امو ر شرعا معلوم نہیں ہوتے ہیں،بلکہ عقل سے معلو م ہوتے ہیں،دورکومنقطع کرنے کے لیے۔

قال التفتازانی:((قولہ قَطعًا لِلدَّورِ)یعنی اَنَّ ثبوت الشرع موقوفٌ علٰی معرفۃ اللّٰہ تعالٰی وکلامہ وبعثۃ الانبیاء بدلالۃ المعجزات-فَلَو تَوَقَّفَت مَعرفۃ ہذہ الامور علی الشرع لزم الدور)(التلویح جلددوم:ص161)

ترجمہ:یعنی شریعت کا ثبوت، معجزہ کی دلالت کے سبب اللہ تعالیٰ کی معرفت،کلام الٰہی کی معرفت اوربعثت انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام کی معرفت پر موقوف ہے،پس اگر یہ امور شریعت پر موقوف ہوجائیں تو دور لازم آئے گا۔

توضیح: حضرات انبیائے کرام ومرسلین عظام علیہم الصلوٰۃوالسلام جو مذہبی احکام اپنی امتوں کو بتاتے ہیں،انہیں دینی احکام کا مجموعہ شریعت ہے۔معجزہ دیکھ کر عقل سلیم فیصلہ کرتی ہے کہ نبوت ورسالت کے یہ دعوید ار اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی ورسول ہیں،جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے، اس تسلیم وایمان کے بعد حضرات انبیائے کرام ومرسلین عظام علیہم الصلوٰۃوالسلام کے مذہبی فرمودات یعنی شرعی احکام کو قبول کیا جاتا ہے،پس شریعت کا ثبوت عقل پر موقوف ہے۔ عقل ہی مدار تکلیف ہے۔

حکم اپنے حاکم کی طرف منسوب ہوتاہے:

بطورتمثیل حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے عہد میں کسی نبی نے نبوت کا دعویٰ پیش فرمایا، اور ثبوت کے طورپر اپنا معجزہ پیش فرمایا۔ کسی نبی کی نبوت کے ثبوت کے لیے معجزہ ایک عقلی دلیل ہے،یعنی معجزہ دیکھ کر عقل صحیح ان کے دعوائے نبوت کو سچ تسلیم کرتی ہے،اور ان کو نبی مان لیتی ہے۔

معجزہ آنکھوں نے دیکھا،لیکن ان کے نبی ہونے کا فیصلہ عقل نے کیا تو حکم کو عقل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے،اور کہا جاتا ہے کہ نبی کی نبوت عقل صحیح سے ثابت ہوتی ہے۔

عقل سے نبوت کے ثبوت کا یہی مفہوم ہے کہ عقل فیصلہ کرتی ہے کہ جس نے اپنے دعوائے نبوت کی سچائی وصداقت پر معجزہ ظاہر فرمایا،وہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ جو فیصل وحاکم ہو گا،حکم اسی کی جانب منسوب ہوگا۔

دیوار کے پیچھے سے کسی انسان کی آواز آرہی ہے توآنکھوں نے دیکھا نہیں کہ وہاں کوئی انسان ہے،لیکن آواز سن کر عقل فیصلہ کرتی ہے کہ وہاں کوئی انسان ہے۔ آواز کی سماعت حاسہ سمع سے ہوگی،لیکن فیصلہ عقل کرتی ہے،اسی لیے اس کودلالت عقلیہ لفظیہ کہا جاتا ہے۔ دھواں دیکھنے کے بعد عقل فیصلہ کرتی ہے کہ وہاں آگ ہے۔دھواں کوآنکھوں نے دیکھا،لیکن فیصلہ عقل نے کیا،اس لیے اس کو دلالت عقلیہ غیر لفظیہ کہا جاتا ہے۔

آنکھ سے دھواں دیکھنے کے سبب اس کودلالت بصریہ غیر لفظیہ نہیں کہا گیا۔اسی طرح کانوں سے آواز سننے کے بعد اس کودلالت سمعیہ لفظیہ نہیں کہا گیا،بلکہ جس نے فیصلہ کیا، اسی کی طرف دلالت منسوب ہوئی،یعنی عقل کی طرف منسوب ہوکر دلالت عقلیہ کے نام سے موسوم ہوئی۔

معجزہ آنکھوں نے دیکھا،اسی معجزہ کے سبب ان مدعی نبوت کا نوع نبی کا ایک فرد ہونا قطعی طورپرثابت ہوا،لیکن حکم حاسہ بصر کی طرف منسوب نہ ہوا،بلکہ عقل کی طرف منسوب ہوا، اوریہ کہا گیا کہ نبی کی نبوت کا ثبوت عقل سے ہوتا ہے۔

شریعت کے سارے مسائل کی تصدیق نبی کونبی مان لینے پر موقوف ہے،اورنبی کے نبی ہونے کا فیصلہ عقل پر موقوف ہے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ شریعت عقل پرموقوف ہے۔
اسی طرح افراد کی فردیت ثبوت حواس ظاہرہ سے ہو، یا خبر متواتر سے۔فیصلہ شریعت کرتی ہے،یعنی شرعی اصولوں کے مطابق مومن یاکافر ہونے کا حکم عائدہوتا ہے تووہ حکم شرعی ہوگا،اور چوں کہ یہ حکم اس کے لیے قطعی بالمعنی الاخص ہے،اور قطعی بالمعنی الاخص شرعی حکم کوضروری دینی کہا جاتا ہے تو اس کا مومن یا کافر ہونا ضروری دینی ہوگا،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مومن کومومن اور کافر کوکافرماننا ضروریات دین سے ہے۔

الحاصل حکم اپنے حاکم کی طرف منسوب ہوگا۔ایمان وکفر کا فیصلہ شریعت کرتی ہے تووہ حکم شرعی ہوگا۔افرادکے ثبوت کے سبب کا لحاظ نہیں ہوگا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے شیام کوبت پرستی کرتے دیکھا تووہ قطعی طورپر ہمارے نزدیک کا فر ہے،لیکن یہاں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شیام کا کافر ہونا ہماری آنکھوں سے ثابت ہوا،بلکہ حاسہ بصرسے قطعی طورپربت پرست ہوناثابت ہوا،اور شرعی قانون کے اعتبارسے شیام کاکافر ہونا ثابت ہوا۔

کسی فردکی فردیت کا ثبوت الگ امر ہے،اور حکم شرعی کا ثبوت الگ امر ہے۔مکرہ ومجبور کو ہم نے بت پرستی کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا،لیکن اکراہ واجبار کے سبب وہاں حکم شرعی کا ثبوت نہیں ہوگا، لیکن حاسہ بصر سے اس کا قطعی طورپربت پرست ہونا ثابت ہے۔

شریعت اسلامیہ نے جبرواکراہ کے عذر کے سبب اس کے کا فر ہونے کا فیصلہ نہیں کیا تو ہم اسے کافر نہیں مانیں گے،گر چہ ہماری آنکھوں نے اسے بت پرستی کرتے دیکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے