حضور حافظ ملت

حضورحافظ ملت اور الجامعۃ الاشرفیہ

از قلم: محمد محمود اشرف قادری
سوتیہاروی سیتامڑھی (بہار)

ماضی قریب کے وہ اکابر علماےکرام جنہوں نے اپنےعلم وفضل سےعوام کوراہ حق کاراہی اورخواص کوعلمی وعملی دنیاکاسپاہی بنایا ان میں ایک نام جلالۃ العلم، حافظ ملت، ابوالفیض حضرت علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی ثم مبارک پوری قدس سرہ العزیز کابھی ہےجن کےعلم وفضل اور زہدوتقویٰ نےپورےبرصغیر ہی کونہیں بلکہ پورےعالم اسلام کومنورکیا۔آپ کی صحبت سےفیض یافتہ افرادآسمان علم وفضل کےماہ ونجوم بن کرچمکےاور چمک رہےہیں۔بجاطور پریہ کہا جاسکتا ہے کہ غیرمنقسم ہندوستان میں مسلک اعلٰی حضرت کےقائدین اور ترجمان کی اکثریت بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ ہی سے منسلک ہے۔
حضرت موصوف ١٣١٣ھ مطابق ١٨٩٤ءبروز شنبہ سےیکم جمادی الآخرہ ١٣٩٦ھ مطابق ٣١/مئی ١٩٧٦ء بروز دوشنبہ تک کی ظاہری مختصر زندگی پائی اور اس مختصر سی زندگی میں دینی، علمی، عملی، تنظیمی، تحریکی، آفاقی، تصنیفی اورتدریسی دنیامیں ایک ایساانقلاب برپاکیاہےجسےرہتی دنیاتک یادکیاجاتارہےگا۔
الجامعۃ الاشرفیہ کاقیام
حضرت ممدوح دیگرمدارس میں تدریسی خدمات کی عمدہ اورزبردست انجام دہی کےبعداپنےاستادمحترم حضورصدرالشریعہ علامہ امجدعلی اعظمی نور اللہ مرقدہ کےحکم کی تعمیل پرتدریسی خدمات انجام دینے کے لیے "دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم” مبارک پورتشریف لائےاور بہت کم عرصے میں آپ کی تدریس کاچرچادوردورتک پھیل گیاجس کی وجہ سےدور ودرازسےتشنگان علوم نبویہ جوق در جوق آنےلگے جس پر عمارت تنگ دامنی کاشکوہ کناں ہوئی توآفاقی ذہن رکھنے والے حضرت موصوف قصبہ سےباہرایک وسیع وعریض خطہ زمین پرایک شہرستان علم بسانےکےلیے زمین حاصل کی اور ربیع الاول ١٣٩٢ھ مطابق مئی ١٩٧٢ء میں الجامعۃ الاشرفیہ کاجشن تاسیس منایاگیاجس میں وقت کےگراں قدر مشائخ، علمااوراساتذہ کےعلاوہ شہزادہ اعلیٰ حضرت حضورمفتی اعظم ہند علامہ محمدمصطفیٰ رضاخاں نوری،سیدالعلماسید آل مصطفیٰ قادری برکاتی مارہروی،مجاہدملت علامہ شاہ حبیب الرحمٰن اڑیسوی ،شمس العلماقاضی شمس الدین جون پوری، خطیب مشرق علامہ مشتاق احمدنظامی، سلطان الواعظین علامہ عبدالمصطفی اعظمی اور رئیس القلم علامہ ارشدالقادری قدس سرہ وغیرہ جیسی عظیم شخصیات نے شرکت فرمائی اور الجامعۃ الاشرفیہ کاسنگ بنیادرکھا۔اس موقع پرکئی ایک علماومشائخ نے اپنے خطاب میں موصوف مذکوراورجامعہ مذکورہ کےلیےدعائیں فرمائیں۔ طوالت سےاجتناب کرتے ہوئے ان میں سےدوچندذیل میں بقیدتحریر ہیں:
سیدالعلماسیدآل مصطفیٰ قادری برکاتی مارہروی نے اپنے خطاب میں فرمایاتھا: ” اشرفیہ اورحافظ ملت کےساتھ آل رسول ہے اورجس کےساتھ آل رسول ہےاس کےساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ضرورت پیش آئی توآل رسول اپنےمریدین ومخلصین کولےکراس کےلیےہرطرح کی قربانی پیش کرےگا”۔
اورشہزادہ اعلیٰ حضرت حضورمفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ کی یہ دعاآج بھی اشرفیہ کی بنیادوں کوروحانی توانائی دےرہی ہے: "دارالعلوم اشرفیہ مبارک پورکو ایک عظیم سنی یونیورسٹی میں تبدیل کرنےکی نیک کوشش کا میں خیرمقدم کرتاہوں اور حافظ ملت حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب کےحق میں دعاکرتاہوں کہ مولیٰ تعالیٰ انہیں اپنے عظیم مقاصدمیں کامیاب فرمائے اور حضرات اہل سنت کوتوفیق بخشےکہ وہ اشرفیہ عربی یونیورسٹی کی تعمیرمیں حصہ لےکر دین کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت پوری فرمائیں اور عند الله ماجورہوں” ۔ (پیغام رضا، مفتی اعظم نمبر، ص:٣٣٥،٣٣٦)
علما ومشائخ کرام کی دعاؤں ،نیک خواہشات اور حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ کےخلوص وللٰہیت کانتیجہ ہےکہ آج اس باغ فردوس کی خوش بو علما ومشائخ، اساتذہ اور طلبہ کی شکل میں پوری دنیامیں پھیل رہی ہے اور مشن حافظ ملت کوثبات قدمی کے ساتھ جاری وبرقرار رکھی ہے۔
بارگاہ رب العزت میں دعاگوہوں کہ مولیٰ تعالیٰ اس جامعہ پراور فرزندان جامعہ پران بزرگوں اورحضور حافظ ملت علیہم الرحمہ کافیضان دائماًجاری رکھےاور تادم قیامت پھلتاوپھولتارکھے۔آمین بجاہ جدالحسن والحسین۔
جس نے پیدا کیے کتنے لعل وگہر
حافظ دین وملت پہ لاکھوں سلام

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button