غزل

غزل: جان سے بھی ہیں پیارے صنم

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

اب آپ ہی ہیں ہمارے صنم
جان سے بھی ہیں پیارے صنم

اور کوئی اِس دل کو بھایا نہیں
ہو گئے ہم تمہارے صنم

آ بھی جاؤ کہ نیند آتی نہیں
لگے چھپنے ہیں ستارے صنم

کیسے اب جئیں گے بن تیرے ہم
یہ تیری الفت کے پیارے صنم

لے گئے چھین کے یہ دل میرا
آنکھوں کے تیری اشارے صنم

ڈبویا ہمیں تیری آنکھوں نے ہے
ہم پائیں گے کیسے کنارے صنم

فیضان بات اس کے سوا نہ کرے
کہے ہم ہیں اب تمہارے صنم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے