غزل گوشہ خواتین

غزل:لیکن ہمارے درد کا مرہم کوئی نہیں

خیال آرائی: انصاری ظاہرہ فرید احمد
(بی۔ایس۔سی،ایم۔اے،بی ایڈ)
گلزار نگر،بھیونڈی،مہاراشٹر

موسم تھا خوشگوار اور منظر بھی دلنشیں
لیکن ہمارے درد کا مرہم کوئی نہیں

غلطی کا پتلا لغزشیں انساں کی بےشمار
حیرت ہے ان گناہوں پہ نادم کوئی نہیں

ڈاکو, لٹیرے، چور ملیں گے یہاں بہت
گر چہ ہمارے شہر میں حاتم کوئی نہیں

فرقے، زباں،مذاہب و تہذیب سب الگ
باغی بہت ہیں ملک میں باہم کوئی نہیں

اے سحر تم ‌سنبھل کے رہو اس جہاں میں
یاں عیب جو کثیر ہیں مصلح کوئی نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے