تحریر: آصف جمیل امجدی
استاد کا مقام وہ ہے جس کی عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میرے ہاتھ میں جو قلم آج موجود ہے، وہ اس عظیم ہستی کا دیا ہوا وہ انمول تحفہ ہے، جس نے نہ صرف علم کی راہ دکھائی بلکہ زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کروایا۔ استاد نے مجھے اس قلم کے ذریعے سوچنے، بولنے، اور لکھنے کا سلیقہ سکھایا، اور میرے خیالات کو الفاظ کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔
استاد وہ شخصیت ہے جو گمنام راہوں میں روشنی کا مینار بن کر سامنے آتا ہے۔ اس نے میرے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانا، انہیں نکھارا اور مجھے علم کی طاقت سے مالا مال کیا۔ اس قلم کے ذریعے، میں نے دنیا کے علم و حکمت کے دروازے کھولے اور زندگی کی وسعتوں کو سمجھنے کا ہنر پایا۔ استاد کا عطا کردہ یہ قلم، درحقیقت میری سوچ اور شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔
استاد کا فیض جو لفظوں میں ڈھلتا ہے
قلم سے علم کا نور ہمیشہ نکلتا ہے۔
یہ قلم صرف لکھنے کا وسیلہ نہیں، بلکہ استاد کی دعاؤں اور محنت کا عکس ہے۔ اس قلم نے مجھے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نورانی راستے پر ڈالا اور زندگی کے حقیقی معانی کو سمجھنے کا شعور دیا۔ استاد کی یہ عطا، اس کا خلوص اور محبت کا انعام ہے، جو میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔
"یہ قلم جو استاد نے بخشا ہے،اس میں علم کا خزانہ اور حکمت کا راز چھپا ہے۔”
استاد کی محنت اور اس کی عطا کردہ اس قلم نے مجھے وہ طاقت دی ہے جس سے میں اپنے خیالات کو نہ صرف الفاظ میں ڈھال سکتا ہوں بلکہ اپنے علم کا چراغ دوسروں تک پہنچا سکتا ہوں۔
دعا ہے کہ اللہ ہمارے اساتذہ کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ہمیں ان کی رہنمائی میں کامیابی کی منازل طے کرنے کی توفیق دے۔ آمین!
التماس دعا
اپنے جملہ معزز اساتذہ کی بارگاہ میں ملتمس ہوں کہ آپ کی نظر سے جب میری یہ تحریر گزرے تو ضرور میری کامیابی و بھلائی کے لیے دعا کر دیجیے گا حضور! کیوں کہ آپ کے دم قدم کی برکتوں سے میرا وجود قائم ہے۔